"کارل گوٹلیب فینڈر" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
1833ء میں وہ واپس جرمنی میں اپنے گھر گیا۔ اس سال اُس کی شادی صوفیا ریوس (Sophia Reuss) سے ہوگئی جو ماسکو کے ایک سینٹیر کی بیٹی تھی۔ اُس کو بھی زبانوں کی تحصیل کا خاص ملکہ تھا۔ وہ نہایت دیندار اور دانشمند عورت تھی اور مسیحیت کی تبلیغ کی خاطر ایذا و دکھ اٹھانے کے لیے ہروقت تیار تھی۔ 1834ء میں دونوں میاں بیوی شوشا واپس آگئے۔ 1835ء میں فینڈر کی بیوی وفات پاگئی۔ اسی سال شہنشاہ رُوس نے شوشا میں تبلیغی کام کی ممانعت کردی۔ شہنشاہ نے حکم دیا کہ اگر مشنری کھیتی باڑی کا کام سکھانے یا تجارت وغیرہ کے لیے شوشا میں رہنا چاہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اُن کو انجیل سنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یوں ایک مسیحی سلطنت نے شوشا کا مشن بند کردیا۔
 
فینڈر اور اس کا دوست مبلغ کرائیس 1837ء میں ہندوستان گئے۔ وہ ایران اور خلیج فارس سے ہوتے ہوئے تیرہ ماہ کے بعد کلکتہ پہنچے۔ وہاں چرچ مشنری سوسائٹی کے مشنری وائی براؤ (Wybrow) اور بردوان کے "رسولوں کا ساول رکھنے والے" مشنری وائٹ بریخٹ (Weit Brecht) نے (جوفینڈرجو فینڈر کا رشتہ دار تھا) اُن کا خیرمقدم کیا۔
1840ء میں فینڈر اور کرائیس نے باسل کمیٹی سے قطع تعلق کرلیا اور چرچ مشنری سوسائٹی نے اُن کو قبول کرکے آگرہ روانہ کردیا۔ ہندوستان پہنچتے ہی فینڈر نے اردو سیکھی اور میزان الحق کو مکمل کیا۔ بمبئی اور کلکتہ کے احباب کی مدد سے اُس نے اپنی فارسی تالیفات چھپوا کر بنارس، آگرہ اور بمبئی روانہ کیں۔
 
فینڈر نے منادی کے لیے شہر کے گنجان حصہ میں دو دکانیں کرایہ پر لے لیں۔ وہ لکھتا ہے "لوگ مجھ پر ہنستے تھے اور میرا مضحکہ اڑاتے تھے لیکن جس جگہ وہ ایسا کرتے میں وہاں اگلے دن ضرور پہنچتا۔ جب اُنہوں نے یہ دیکھا کہ میں ٹلنے والا شخص نہیں ہوں تواُنہوں نے ہنسی مذاق کرنا بند کردیا۔ اب میں بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام کرتا ہوں۔"
 
1845ء میں وہ دریائے جمنا کی راہ دہلی پہنچا۔ یہاں کے لوگوں کے پاس بھی میزان الحق تھی اور اُس نے علماء اسلام کے ساتھ جامع مسجد میں مناظرہ کیا۔ 1851ء میں فینڈر اپنی بیوی اور بچوں کی بیماری کی وجہ سے پہلی دفعہ انگلستان گیا۔ وہاں اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر جرمنی میں اپنے رشتہ داروں کی ملاقات کوگیا اور 1852ء کے آخر میں نہرسویز کی راہ سے بمبئی پہنچا۔ وہاں سے وہ بیل گاڑی میں سفر کرتا ہوا فروری 1853ء میں واپس آگرہ پہنچ گیا۔ جب فینڈر انگلستان میں چھٹی پر تھا اُن دنوں میں [[چرچ مشنری سوسائٹی]] نے [[والپی فرنچ|تھامس ویلپیوالپی فرنچ]] (Thomas Valpy French) کو 1851ء میں آگرہ میں مشن کالج کھولنے کے لیے روانہ کیا۔ آگرہ میں دوسال کے قیام کے بعد فرنچ نے فینڈر سے ملاقات کی اور فرنچ نے فینڈر کے قدموں میں بیٹھ کر اسلام کا مطالعہ کیا۔ اور تادم مرگ اُس کا مداح رہا۔ آگرہ میں پہنچ کر فینڈر نے دیکھاکہ جو بیج اُس نے بویا تھا وہ بے پھل نہیں رہا۔ اہل اسلام مسیحی کتب مقدسہ کا مطالعہ کرتے تھے۔ دو مسلمان رئیس مسیحیت کے حلقہ بگوش ہوگئے۔ اُس کی کتاب میزان الحق دُوردُور پہنچ گئی تھی۔
 
پشاور کے میجر مارٹن نے فینڈر کو لکھا کہ یہاں ایک ایرانی ہے جو بپتسمہ پانا چاہتا ہے۔یہ ایرانی تہران کے ایک تاجر کا بیٹا تھا۔ ایک آرمینی نے اُس کو ایران میں میزان الحق دی تھی۔ یہ ایرانی نوجوان مذہبی کتب پڑھنے کا شوقین تھا۔ اُس نے پشاور میں کرنیل ویلیہ (Col. Whelle) کو بازاری منادی کرتے سنا تھا۔ وہ میزان الحق پڑھ کر دوسال تک مسیحیت و اسلام کے عقائد کا موازانہ کرتا رہا اور بلاآخر مسیحی ہوگیا۔
"یہاں کے (آگرہ) کے علمائے اسلام دہلی کےعلماء کے ساتھ مل کر گذشتہ دوتین سال سے کتابِ مقدس کا اورہماری کتابوں کا اور مغربی علماء کی تنقیدی کتُب اورتفاسیر کا مطالعہ کررہے تھے تاکہ وہ کتاب مقدس کو غلط اورباطل ثابت کرسکیں۔ اس کانتیجہ یہ ہواکہ دہلی کے عالم [[رحمت اللہ کیرانوی|مولوی رحمت اللہ]] اور دیگر علماء نے کتابِ استفسار، ازالہ الاوہام، اعجاز عیسوی وغیرہ کتب لکھیں۔"
 
"جنوری 1854ء میں جب میں یہاں نہیں تھا تو مولوی رحمت اللہ آگرہ آیا تاکہ اپنے احباب کے ساتھ اُن کتب کو چھپوانے کا انتظام کرے اس اثناء میں وہ مذہبی گفتگو کے لیے فرنچ کے پاس چند دفعہ آیا اور مجھے نہ پاکر افسوس ظاہر کیا۔ جب میں آیا تو اُس نے اپنے ایک دوست کی معرفت مباحثہ کے لیے کہلوا بھیجا اگرچہ میں جانتا تھا کہ مباحثوں کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا پھر بھی میں نے مباحثہ کا چلینج منظور کرلیا مباحثہ کی شرائط طے پائیں کہ مولوی رحمت اللہ اہل اسلام کی طرف سے ڈاکٹر وزیر خان کی مدد کے ساتھ مباحثہ کرے اور مسیحیوں کی طرف سے میں مسٹر فرنچ کی طرف سے مباحثہ کروں۔ مضمون زیربحث یہ قرار پائے (1)مسیحی کتُب مقدسہ میں تحریف واقع ہوئی ہے اوروہاور وہ منسوخ ہوچکی ہیں(2) الوہیتِ مسیح اوتثلیث (3) رسالتِ محمدی:"
 
"بحث دودن تک رہی۔ پہلے روز تقریباً ایک سو مسلمان علماء مولوی رحمت اللہ کی مدد کےلیے جمع تھے۔ دوُسرے روز اُن کی اس سے دُگنی تعداد تھی۔ دوسری صبح پہلی تقریر میری تھی۔ میں نے کہا کہ قرآن انجیل کا مصدق ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیاکہ قرآن مروجہ انجیل کا مصدق نہیں کیونکہ وہ مُحرف ہے میں نے کہا کہ اچھا تم اُس انجیل کوپیشکو پیش کرو جوغیرجو غیر محرف ہے اورجساور جس کا قرآن مصدق ہے اوریہاور یہ بتاؤ کہ تحریف کب اورکہاںاور کہاں واقع ہوئی ۔ہوئی۔ مولوی صاحبرحمت اللہ سے اس کا جواب بن نہ آیا اورکہنے لگے کہ مغربی علماء مثلا ہارن (Horne) مکائلس (Michaelis) وغیرہ خیال کرتے ہیں کہ اناجیل میں اختلاف قرات موجو دہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ انجیل محرف ہے۔میں نے جواب دیاکہدیا کہ اختلافِ قرات سے تحریف لازم نہیں آتی۔ اس کا جواب مولوی صاحب نہ دے سکے میں نے کہا کہ دو باتوں میں سے جسے چاہو اختیار کرلو یا اس کا امر کا اقرار کرو کہ انجیلی عبارت مصون و محفوظ ہے اور جب الوہیتِ مسیح اور تثلیث پر بحث ہو تو ہمارے عقائد کی تائید میں اُس کی عبارت کو مانو اور یا اگلے روز ثبوت پیش کرو جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ ہماری مروجہ انجیل کے الفاظ احکام اور عقائد انجیل کے اُن نسخوں سے مختلف ہیں جو زمانہ محمد سے پہلے موجود تھے۔ مولوی صاحب نے دونوں باتوں سے انکار کردیا۔ میں نے کہا کہ آپ کے انکار کا یہ مطلب ہے کہ ہم مباحثہ جاری نہ رکھیں۔ مولوی صاحب نے بحث ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور جلسہ برخاست ہوگیا۔ اس پر اہل اسلام نے شور مچایا کہ اُن کی فتح ہوگئی ہے۔ لیکن مجھے یقین واثق ہے کہ گو جاہل مسلمان اپنی کم عقلی اور جہالت کی وجہ سے اس مباحثہ میں اپنی فتح تصور کرینگے لیکن خدا اپنے طریقہ سے بہت لوگوں کو راہِ ہدایت پر لائيگا۔"
 
فینڈر کا یہ مباحثہ کامیاب رہا تھا۔ اس کی ایک تصنیف کے مطابق اُن علماء اسلام میں سے جو مولوی رحمت اللہ کے حامی تھے دو علماء اس مباحثہ کے چند سال بعد مسیحی ہوگئے یعنی ایک [[صفدر علی|مولوی صفدر علی]] اور دوسرا [[عماد الدین لاہز|مولوی عماد الدین]]۔