خواجگی کالپوی

ہندوستان کے صوفی عالم

خواجگی کالپوی نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ اور معین الدین عمرانی [1] کے تلمیذ رشید اور قاضی شہاب الدین دولت آبادی کے استاد تھے، خواجگی کا سلسلہ نسب عبد اللہ بن عمر پر جا ملتا ہے، منقول ہے جس زمانے میں خواجگی [2] دہلی میں پڑھا کرتے تھے۔ اس وقت اپنے استاد سے سبق پڑھنے کے بعد نصیر الدین کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے۔

حضرت مولانا خواجگی کالپوی
وفات819ھ
رہائشکالپی، بھارت

جس وقت امیر تیمور نے دہلی پر حملہ کا اردہ کیا تو گیسو دراز نے خواب میں امیر تیمور کی افواج کے ہاتھوں دہلی کو تاراج ہوتے دیکھا، آپ نے تمام متعلقین و متوسلین کو اور عوام کو اپنے خواب سے آگاہ کیا۔سید کاخواب سن کر خواجگی اور آپ کے شاگرد قاضی شہاب الدین دولت آبادی دہلی سے ہجرت کرکے روانہ ہو گئے۔ خواجگی تو کالپی پہنچ کر مستقل قیام پزیر ہو گئے۔ لیکن قاضی شہاب الدین [3] جون پور کی طرف روانہ ہو گئے، جون پور میں سلطان نے بڑے پرتپاک طریقے سے قاضی شہاب الدین کا استقبال کیا اور ملک العلماء کا خطاب دے کر عزت بخشی۔

اور خواجگی نے بقیہ تمام عمر وہیں کالپی ہی میں گزار دی۔ آپ کی وفات 819ھ میں ہوئی۔ آپ کا مزار کالپی میں زیارت گاہ خلق ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. ضیائے طیبہ[مردہ ربط]
  2. ضیائے طیبہ[مردہ ربط]
  3. "ضیائے طیبہ"۔ 28 ستمبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 جولا‎ئی 2021