نصیر الدین محمود چراغ دہلوی

چشتی صوفی و روحانی شاعر

خواجہ نصیر الدین محمود چراغ یا چراغ دہلوی (پیدائش: 1274ء13 ستمبر 1356ء) سلسلہ عالیہ چشتیہ کے ممتاز صوفی بزرگ ہیں جنہیں چراغِ سلسلۂ چشت کہا جاتا ہے۔آپ نویں امام حضرت محمد تقی علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

نصیر الدین محمود چراغ دہلوی
Chiraghdehlidargah.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1274  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایودھیا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 ستمبر 1356 (81–82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ خواجہ معین الدین چشتی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متاثر بندہ نواز گیسو دراز

نام و نسبترميم

نصیر الدین چراغ اودھ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام شیخ یحیی تھا۔ آپ کے دادا سید عبد اللطیف سب سے پہلے ہندوستان آئے اور کچھ عرصہ لاہور میں قیام کے بعد اودھ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ یہیں فیض آباد میں نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کی پیدائش ہوئی۔ آپ ابھی نو برس کے تھے کہ والد بزرگوار انتقال فرما گئے۔

تعلیم و تربیتترميم

آپ کی والدہ نے دینی تعلیم کے لیے آپ کو عبد الکریم شیروانی کے پاس بٹھایا۔ ان کی وفات کے بعد آپ افتخار الدین گیلانی کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے اور ان سے علوم ظاہری حاصل کیے۔

بیعت و خلافتترميم

چالیس برس کی عمر میں پیر و مرشد کی تلاش میں نکلے۔ دہلی پہنچ کر نظام الدین اولیاء کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ شیخ و مربی نے اپنے ہونہار مرید کو علوم باطنی سے نوازا اور جب آپ کو شرعی احکام کی سختی کے ساتھ پابندی فرماتے دیکھا تو خلعت خلافت سے نوازا۔ محبوب الہی نے آپ کو چراغ دہلی کے خطاب سے بھی نوازا۔

مضامین بسلسلہ

تصوف

زہد و تقویترميم

چراغ دہلوی اکثر روزے سے رہتے۔ قوالی کو خلاف سنت قرار دیتے۔ سیر الاولیاء کے مصنف لکھتے ہیں کہ مجھے شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی کی مجلس سے وہی خوشبو آتی جس طرح کی خوشبو محبوب الہی کی مجلس سے آتی تھی۔[1]

ولایت و قطبیتترميم

شیخ طریقت سُلطان المشائخ، محبوبِ الٰہی خواجہ سیّد محمد نظام الدین اولیاء کی وفات کے بعد دہلی کی ولایت و قطبیت آپ کو منتقل کی گئی۔

وفات و تدفینترميم

نصیر الدین چراغ کا وصال - 18رمضان 757ھ بمطابق 1356ء کو دہلی میں ہوا، جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو شیخ رکن الدین کو فرمایا:

تمہیں چاہیے کہ مجھے قبر میں اتارتے وقت خرقہ میرے سینے پر، کاسہ سر کے نیچے، تسبیح زیرِ انگشت اور میری پشت کی ایک جانب نعلین اور دوسری جانب عصہ رکھ دینا۔

چنانچہ مریدین نے ایسا ہی کیا۔
آپ کا مزار دہلی کی ایک بستی چراغ دہلی میں مرجع خلائق ہے۔

مشہور خلفاءترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

بیرونی روابطترميم