دیوداسی وہ لڑکیاں تھیں جو قدیم ہندو سماج میں مندروں کی خدمت میں دی جاتی تھیں۔ یہ لڑکیاں وہاں ناچنے گانے کا کام بھی کرتی تھیں۔ ان لڑکیوں کی شادی نہیں کی جاتی تھی۔

تاریخترميم

گیتا، رامائن اور پران کسی میں بھی دیوداسیوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ جنوب کی کچھ مذہبی کتابوں میں اس کا بیان ملتا ہے۔ اس لیے اسے دھرم کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں خاص طور پر مجاوروں اور پروہتوں کی حیثیت بھگوان جیسی بیان کی گئی ہے۔ اسی کے سبب صدیوں سے دیوداسی نظام رائج رہا ہے اور خواتین کا جنسی استحصال جاری رہا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہترميم

بھارت کے سپریم کورٹ نے 13 فروری 2014ء کو کرناٹک کے سچیو (ریاستی معتمد) کو دیے گئے ایک حکم نامے میں کہا تھا کہ وہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی مذہبی مقام میں کسی بھی لڑکی کو دیوداسی کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ۔[1]

حوالہ جاتترميم