بھگود گیتا یا شریمد بھگود گیتا (ہندی: श्रीमद्भगवद्गीता، لفظی ترجمہ: الوہی نغمہ) ہندو مت کا سب سے مقدس الہامی صحیفہ ہے۔ اٹھارہ ابواب اور سات سو شلوک پر مشتمل یہ کتاب دراصل مہا بھارت کے باب 23 تا 40 کا حصہ ہے۔

بھگود گیتا
An 1830 CE painting depicting Arjuna, on the chariot, paying obeisance to Lord Krishna, the charioteer.
کرشنا اور ارجن، کروکشیتر تقریباً 1830ء کی مصوری
معلومات
مذہبہندو مت
زبانسنسکرت زبان
آیات700

مہا بھارت کی مشہور جنگ میں جب کورو اور پانڈؤ اپنی اپنی فوج لے کر آمنے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں تو [[پانڈؤ] سپاہ سالار ارجن مخالف فوج پر ایک نگاہ ڈالتا ہے جہاں اسے اپنے بھائی بند اور عزیز و اقارب صف آراء نظر آتے ہیں۔ اپنے دادا، چچا، استاد اور دیگر قابلِ احترام ہستیوں کو مدِّ مقابل دیکھ کر ارجن جذباتی ہو جاتا ہے اور اپنے رتھ بان کرشن جی سے کہتا ہے کہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کے خون سے ہم ہاتھ کیسے رنگ سکتے ہیں۔ میں اس جنگ میں حصّہ نہیں لے سکتا۔ کرشن جی جواب دیتے ہیں کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دینا ہمارا فرض ہے اور فرض میں کوتاہی نہیں کی جا سکتی۔ دونوں کا مکالمہ جاری رہتا ہے اور بالآخر ارجن جنگ پہ راضی ہو جاتا ہے اور اس بے جگری سے لڑتا ہے کہ ظالم کورؤں کو شکستِ فاش ہو جاتی ہے۔ کرشن جی اور ارجن کا یہ طویل مکالمہ ہی اصل میں بھگوت گیتا کا متن ہے۔ سنسکرت کی اس نظم کو ہندو دھرم میں ایک بنیادی صحیفے کا درجہ حاصل ہے لیکن ترجموں کے ذریعے اس کا متن دنیا کے ہر کونے میں پہنچا اور اس کے مداحوں میں بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر قوم کے لوگ شامل ہیں۔ گیتا کے دنیا کی ہر معروف زبان میں تراجم ہو چکے ہیں۔[1]

کچ لوگوں کی کہنا ہیں کہ کلونیال ہندوستان کے دور میں وارن ہیسٹینز نے مہا بھارت کے 25 ویں باب سے 42 ویں باب تک مجموعی 18 باب کو الگ کیا اور یہ سب بابوں کوBhagvat Geeta or Dialogues of Kreeshna and Arjoon in Eighteen lectures with Note نام پر ایک بناکر سنہ 1785 میں لندن سے شائع کیا تھا۔ بعد میں اِس کتاب کو گیتا نام ملی. وارن ہیسٹینز کے پہلے گیتا کے نام پر کوئی الگ کتاب پُنتھی کی وقت میں دھرتی پر وجود میں نہیں تھے.[2][3]

گیتا کا اولّین ترجمہ فارسی میں ہوا تھا جو شہنشاہِ اکبر کے درباری دانش ور فیضی نے کیا تھا۔ اس کے بعد تو گویا دبستان کھُل گیا۔اردو میں اس نظم کے کم از کم پچاس ترجمے ہو چکے ہیں جن میں نظیر اکبر آبادی، مولانا حسرت موہانی، یگانہ چنگیزی، حکیم اجمل خان اور خواجہ دل محمد اور رئیس امروہوی کے تراجم بہت معروف ہیں۔

پس منظر

ترمیم

بھگود گیتا وشنو بھگوان کے اوتار شری کرشن اور پانڈؤ خاندان کے بہادر جنگجو ارجن کے مابین مکالمے کی منظوم صورت ہے۔ گیتا کا پس منظر جنگ کا میدان ہے (جو درحقیقتاً زندگی کا استعارہ ہے)۔ جہاں ارجن جیسا سورما جب اپنے ہی اہل خانہ کو دولت اور اقتدار کی خاطر کشت و خون پر آمادہ دیکھتا ہے تو شدید باطنی کرب اور ذہنی کشمکش کا شکار ہوجاتا ہے۔ جنگ کی ہولناکی اور قتل عام کا سوچ کر وہ آبدیدہ ہوجاتا ہے اور اپنے ہتھیار پھینک دیتا ہے۔ ایسے میں بھگوان کرشن غیب سے نمودار ہوتے ہیں اور پھر ارجن اور کرشن کے مابین مکالمے کا آغاز ہوتا ہے۔ جو اپنے آپ میں نہایت عمیق آفاقی پیغام لیے ہوئے ہیں۔

گیتا کی ادھیایوں کی تفصیل

ترمیم

اوّل ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کا نام ارجن وشاد یوگ ہے۔ یہ گیتا کے نصیحت کی منظر تیار کرتا ہیں۔[4]

ثانی ادھیای

ترمیم

ثانی ادھیای کا نام سانکھْیَ یوگ ہے۔ اِس میں زندگی کے قدیم رواج کو دلیل کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے۔[5]

ثالث ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کا نام کرْم یوگ ہے۔ یہاں کرْم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے سدھا سوال پچھا اور جواب سنا۔[6]

چوتھے ادھیای

ترمیم

چوتھے ادھیای کا نام گیان-کرْم-سنیاس یوگ ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ علم یعنی گیان حاصل کرکے عمل کرتے ہوئے بھی کرْم سنیاس کا انجام کس طرح ملتا ہے۔[7]

پنچم ادھیای

ترمیم

پنچم ادھیای کا نام کرْم سنْیاس یوگ ہے۔ اِس کرْم یا عمل کے ساتھ دل کا جو خاص سمپرک رہتے ہے اس کو پاک کرنے کے لیے خاص صلاحیت دیا گیا ہے.[8]

چھٹواں ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کے نام آتْم سنْیم یوگ ہے۔ نام سے ہی اس بھاگ معنی روشن ہوتا ہیں.[9]

ساتواں ادھیای

ترمیم

ساتواں ادھیای کا نام گیان-وِگیان یوگ ہے۔ یہ قدیم بھارتییَ حقمت کی دو اصطلاحان ہے۔ اِس بھاگ میں بھی وِگیان لفظ ویدک نظریات بہت خاص تھا.[10]

آٹھواں ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کے نام اکْشر بْرہم یوگ ہے۔ اُپنشد میں اکشر گیان کا شائع ہوا. گیتا میں اکشر ودیا یعنی حرفِ علم کا چھوٹا سا بیان ہے.[11]

نواں ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کو راج گُہیَ یوگ بتایا گیا ہیں۔ راجا شبد ایک معنی دل بھی ہے.[12]

دسواں ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کا نام وِبھوتِ یوگ کہا گیا ہے۔ اِس کا سار یہ ہے کہ لوک میں جتنے سارے دَیوتا ہیں یہ تمام ایک ہی بھگوان ہے.[13]

ایکادشی ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کا نام وِشْو روپ درشن یوگ ہے۔ یہاں کہا گیا ہیں کہ ارجن نے بھگوان کا وشْو روپ دیکھا ہیں.[14]

بارھواں ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کا نام بھکتِ یوگ ہے۔ اِس ادھیای کی آرامبھ میں ارجن کے سوالات اور اس کی جوابات کی بیان ہوئی.[15]

تیرھواں ادھیای

ترمیم

اِس میں میدان اور میدان سے آنے والے چیزیں کے بارے میں بتایا گیا ہے.[16]

چودھواں ادھیای

ترمیم

اِس کا نام گُنتْریَ بھاگ يوگ ہے۔ یہ تمام مادّہ ویدک، دارشنک اور پورانک اصول سے تحت ہے.[17]

پانزدہم ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کا نام پُرشوتّم یوگ ہے۔ اِس میں جگت کو اشْونتھ کے صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ اش‌ْونتھ کے صورت والے جہان سیما ہِین پھیلانے والے ہیں.[18]

شانزدہم ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کو شْردّھا تْریَ یوگ کہا جاتا ہیں۔ اِس کا جڑ ست، رج اور تَم یہ تین خصوصيت سے ہے.[19]

سترواں ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کو شْردّھا تْریَ بھاگ یوگ کہا جاتا ہیں۔ اِس کا جڑ ست، رج اور تَم یہ تین خصوصيت سے ہے.[20]

اٹھارواں ادھیای

ترمیم

اِس ادھیای کو موکْش سنیاس یوگ کہا جاتا ہیں۔ اس میں گیتا کے سمسْت صلاح کی مختصر ہے.[21]





گیتا کی تعلیمات

ترمیم
  • انسان کا جوہر حقیقی آتما ہے جو زمان و مکان سے ماورا ہے۔
  • نجات کے کئی راستے ہیں، مگر کرم یوگ اور بھکتی یوگ ارفع طریق ہیں۔
  • جزا کی خواہش کیے بغیر عمل کرنا (نشکم کرما) بہت بڑا کام ہے۔
  • یہ کائنات راجو(دنیاوی)، ستو(عارفانہ) اور تمو(جاہلانہ) گن کا مرکب ہے۔ اسی طرح انسان بھی انھیں بنیادی تین فطرتوں کے حامل ہیں۔

گیتا کے اثرات

ترمیم

بھگود گیتا کے فلسفے نے جدید دنیا کے ممتاز مفکروں کو متاثر کیا ہے۔ چاہے وہ بت پرستی کا سخت مخالف سماجی مصلح راجا رام موہن ہو یا ادویت پسند شنکر اچاریہ۔ معروف امریکی دانشور ہنری تھورو گیتا کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ گاندھی جی کی زندگی میں گیتا اور اس کی تعلیمات کا بڑا ہاتھ ہے۔ انھوں نے اسے اپنی ’’روحانی لغت‘‘ قرار دیا ہے۔

1966 میں قائم ہونے والی سوامی پربھوپد کی روحانی جماعت انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشن کونشیئس (ISKCON) کا محرک اور مرکز یہی بھگود گیتا تھی۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "بھگوت گیتا" 
  2. گوتم چکر ورتی (10 dec, 2014)۔ "'قومی کتاب' کا اعلان کرنے سے پہلے گیتا کے راز کو تھوڑا جان لینا بہتر ہے"۔ Anandabazar۔ Anandabazar Patrika۔ 01 فروری 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 Aug, 2022 
  3. Śibājī Bandyopādhyāẏa (2016)۔ Three essays on the Mahābhārata : exercises in literary hermeneutics۔ New Delhi۔ ISBN 978-81-250-6071-0۔ OCLC 930016448 
  4. "بھگواد گیتا: باب 1"۔ اخذ شدہ بتاریخ ۲۲ سیپ، ۲۰۲۲ 
  5. "بھگواد گیتا: باب 2"۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 sep, 2022 
  6. "باب 3: کرْم یوگ" 
  7. "باب ۴:- گیان-کرْم-سنْیاس یوگ" 
  8. "باب ۵:- کرْم سنْیاس یوگ" 
  9. "باب ۶:- آتْم سنْیم یوگ" 
  10. "باب ۷:- گیان-وِگیان یوگ" 
  11. "باب ۸:- اکْشر بْرہم یوگ" 
  12. "باب ۹:- راج گُہیَ یوگ" 
  13. "باب ۱۰:- وِبھوتِ یوگ" 
  14. "باب ۱۱:- وِشْو روپ درشن یوگ" 
  15. "باب ۱۲:- بھکتِ یوگ" 
  16. "باب 13: کھَیتْر کھَیتْرجنّ وبھاگ یوگ" 
  17. "باب ۱۴:- گُنتْریَ بھاگ ہوگ" 
  18. "باب ۱۵:- پُرشوتّم یوگ" 
  19. "باب ۱۶:- شْردّھا تْریَ یوگ" 
  20. "باب ۱۷:- شْردّھا تْریَ بھاگ یوگ" 
  21. "باب ۱۸:- موکْش سنیاس یوگ" 

بیرونی روابط

ترمیم