بیربل

ہندی شاعر
(راجا بیربل سے رجوع مکرر)

راجا بیربل اکبر اعظم کے نورتنوں میں سے ایک تھا۔ اصلی نام مہیش داس تھا، وہ ایک ہندو برہمن تھا۔ ذات بھاٹ، تھی۔

بیربل
Birbal.jpg
پیدائشمہیش داس
1528
موجودہ اتر پردیش، بھارت
وفات1586ء (عمر 57–58)
روستم (موجودہ ،پاکستان)
پیشہمغل دربار میں مشیر،رکن نوراتن،وزیر

ولادتترميم

بیربل 1528 میں یو پی کے ایک دیہات کالپی میں پیدا ہوا۔ایک روایت کے مطابق

صوبہ پنجاب کی تحصیل خانپور کو کٹورا اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی دو روایات ہیں۔ ایک یہ کہ ماضی میں یہاں کے بنائے ہوئے کٹورے پو رے بر صغیر میں مشہور تھے

کچا کھو یا یہاں کی مشہور سو غات رہی ہے۔ "ججہ عباسیاں" کی کھجور بھی بہت مشہور کہتے ہیں۔ کہ " بیربل" ججہ عباسیاں میں پیدا ہو اتھا یہ ایک معروف قصبہ بھی ہے۔

ابتدائی زندگیترميم

ابتدا میں نہایت غریب اور پریشان حال تھا۔ سنسکرت اور فارسی میں تعلیم حاصل کی برہما کوی کے نام سے بیربل نے کئی ایک واقعات کو نظم کی شکل دی۔ ہندی زبان کا بڑا اچھا شاعر تھا۔ مختلف بادشاہوں کے دربار میں شاعر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

بحیثیت رتنترميم

اکبر کی تخت نشینی پردربار میں حاضر ہوا اور اپنی لطیفہ گوئی اور سخن سنجی سے بادشاہ کے مصاحبوں میں شامل ہو گیا۔ اکبر نے ایک دانشور‘شاعر اور گلوکار کی حیثیت سے بیربل کو1556میں اپنے دربار میں جگہ دی تھی۔ بیربل نے راجا سے بہت قربت حاصل کی۔ اہم معاملات میں اکبر مشاورت کے لیے اس کو اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ بیربل کو کئی مقامی دیہی کہانیاں یاد تھیں وہ انتہائی چالاک بھی تھا۔ اکبر نے اس کو راجا کا خطاب دے کر اپنے 9رتن میں شامل کر لیا۔ اکبر نے اس کو اپنا مذہبی مشیر بھی بنایا تھا اور وہ دین الہی ٰ قبول کرنیوالا واحد ہندو تھا

وفاتترميم

1586میں بیربل کی قیادت میں شمال مغربی ہندوستان کے لیے ایک فوج بھیجی گئی تھی جو ناکام رہی اور بیربل اس لڑائی میں مارا گیا۔ اکبر کے بھائی حکیم مرزا کی سرکوبی کے لیے کابل کی طرف بڑی فوج بھیجی گئی تھی جس میں بیربل بھی تھا۔ اس وقت اکبر گجرات کی فتوحات میں مصروف تھا۔ بیربل اسی لڑائی میں مارا گیا۔ اکبر کو اس قدر صدمہ ہوا کہ اس نے دو دن تک کھانا نہ کھایا۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. http://viqarehind.com/اکبر-کے -نو-9-رتن قسط10/