رشید احمد لاشاری

سندھی اور اردو کے ادیب، شاعر ، علمی کہانی نویس

رشید احمد لاشاری (پیدائش: 18 اپریل 1922ء - وفات: 20 ستمبر 1970ء) پاکستان سے تعلق رکھنے ولاے سندھی اور اردو زبان کے ادیب، شاعر، فلمی کہانی نویس، مورخ، صحافی اور معلم تھے۔

رشید احمد لاشاری
Rasheed-Ahmed-Lashari.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اپریل 1922  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نصیر آباد،  ضلع سبی،  بلوچستان (چیف کمشنر صوبہ)  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 20 ستمبر 1970 (48 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ سندھ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  سوانح نگار،  منظر نویس  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی،  اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

حالات زندگیترميم

رشید احمد لاشاری 18 اپریل 1922ء کو گاؤں ملگزار، تحصیل نصیر آباد، ضلع سبی، بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد زرک خان لاشاری فورٹ سنڈیمن، بلوچستان میں لیویز میں دفعدار تھے۔ ابتدائی چار جماعت تک اردو میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1936ء میں سندھی فائنل کا امتحان پاس کیا۔ تعلیمی مراحل طے کر کے سندھ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا[1] اور پھر اورینٹل کالج حیدرآباد میں سندھی زبان کے استاد مقرر ہو گئے۔ اس دور میں ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی زیر نگرانی جامع سندھی لغات پروجیکٹ میں اسسٹنٹ بھی رہے۔ 1956ء میں حیدرآباد سے کراچی منتقل ہو گئے۔ کراچی میں بہت سی سندھی فلموں کی کہانیاں، گیت اور مکالمے لکھے، جن میں عمر ماروی، سسی پنہوں اور نئی کرن جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔ انہوں نے فلموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ کچھ وقت کے لیے ریڈیو پاکستان میں اسکرپٹ ایڈیٹر بھی رہے۔ 1958ء سے 1959 تک سندھی ادبی بورڈ کراچی ، 1960ء سے 1962ء تک وزارت اطلاعات و نشریات کے ماہنامہ جریدےنئی زندگی حیدرآباد سے وابستہ رہے۔ 1963ء میں عبد اللہ ہارون کالج کراچی میں سندھی کے استاد مقرر ہوئے۔[2] رشید احمد لاشاری مسلسل لکھنے والے ادیب اور شاعر تھے۔ وہ سندھی اور اردو زبان میں اپنی زندگی آخری حصہ تک لکھتے رہے۔ ان کا محبوب موضوع سندھ کے معروف صوفی شعرا شاہ عبد اللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے حیات اور افکار تھے۔ اس موضوع پر ان کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سندھ سے تعلق رکھنے والے بہت سے شعرا کے کلام کو مدون و مرتب بھی کیا ہے، تین جلدوں میں تاریخ اسلام بھی لکھی جو 1954ء میں شائع ہوئی۔[3]


تصانیفترميم

  • سندھی معلم 1951ء
  • اردو اصول 1951ء
  • شاہ کے رسالے کے سُر 1954ء
  • تاریخ اسلام (تین جلدیں) 1954ء
  • سُر حسینی 1954ء
  • سُر کلیان عرف تصوف کا آئینہ 1954ء
  • لطیفی باغ کے سیر 1956ء
  • کلیات گدا (ترتیب) 1957ء
  • سچل کا سرائیکی رسالہ 1958ء
  • سُر مارئی 1960ء
  • شاہ جوں وایوں (شاہ کی کافیاں) 1966ء
  • بھلے شاہ کی کافیاں 1962ء
  • یوسف زلیخا 1964ء
  • محسن اعظم اور محسنین 1964ء
  • حضرت سلطان باہو 1964ء
  • سچل سرمست (سچل سرمست کی سوانح اردو زبان میں) 1966ء
  • سچل جو رسالو (سچل کا سندھی کلام) 1965ء

وفاتترميم

رشید احمد لاشاری 20 ستمبر 1970ء کو وفات پا گئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. رشید احمد لاشاری، سچل سرمست، محکمہ ثقافت و سیاحت حکومت سندھ، ص 12
  2. سچل سرمست، ص 13
  3. سچل سرمست، ص 14