رشید امجد
ڈاکٹر رشید امجد پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور افسانہ نگار اور اردو کے پروفیسر تھے، ان کا اصل نام اختر رشید تھا۔
رشید امجد | |
---|---|
معلومات شخصیت | |
پیدائش | 5 مارچ 1940ء (84 سال) سری نگر |
عملی زندگی | |
پیشہ | صحافی |
درستی - ترمیم |
پیدائش
ترمیمرشید امجد 5 مارچ 1940ء کو سری نگر، ریاست جموں و کشمیر کے محلہ نواب میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام محی الدین تھا جو قالینوں کا کام کرتے تھے اور شاعر بھی تھے۔
تعلیم
ترمیممیراجی: شخصیت اور فن کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔
تدریس
ترمیمانھوں نے نمل اسلام آباد اور [[بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی[[ اسلام آباد میں بطور چیئرمین شعبہ اردو، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بطور ڈین خدمات سر انجام دیں۔ اس کے علاوہ فاطمہ جناح یونیورسٹی میں تا مرگ تدریسی فرائض سر انجام دیں۔
تصانیف
ترمیم- نیا ادب (تنقیدی مضامین /1969ء)
- رویے اور شناختیں (1988ء/ تنقید)
- یافت و دریافت (1989ء)
- شاعری کی سیاسی وفکری روایت (1993ء)
- اقبال فکر و فن (1984)
- میرزا ادیب: شخصیت و فن (1991ء)
- میرا جی: شخصیت و فن (1994)
- بیزار آدم کے بیٹے (اولین افسانوی مجموعہ/18 افسانے/ 1974ء)
- ریت پر گرفت(12 افسانے/1974ء)
- سہ پہر کی خزاں (1980ء/ 12 افسانے)
- پت جھڑ میں خود کلامی (1984ء/18 افسانے)
- بھاگے ہے بیاباں مجھ سے (1988ء)
- کاغذ کی فصیل (1993ء/9 افسانے)
- عکس بے خیال (1993ء/ 13 افسانے)
- دشت خواب (1993ء/ 14 افسانے)
- گمشدہ آواز کی دستک (2006ء/۔ 25 افسانے)
- ست رنگے پرندے کے تعاقب میں(2002ء/ 25 افسانے)
- تمنا بے تاب کے نام (خودنوشت2001-2003)
- افسانوں کی کلیات دشت نظر سے آگے
- عام آدمی کے خواب(2006ء /12 افسانے)
- صحرا کہیں جسے (2012ء/ 19 افسانے)
- دکھ ایک چڑیا ہے، (2018ء)
- دشت نظر سے آگے (افسانوں کی کلیات)
- عام آدمی کے پیغام ، غریب اکیڈمی، اسلام آباد، 2007
- تعلیم کی نظریاتی اساس (1984ء)
- نیا ادب ( 1969)
- پاکستانی ادیب کی یاد (میراجی) (2006)
- پاکستانی ادب (6 جلد)، ایف جی سرسید کالج، راولپنڈی، (1980-1984)
- پاکستانی ادب (نثر) 1990
- پاکستانی ادب (نثر اور افسانہ) 1991، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد، 1992)
- پاکستانی ادب (نثر اور افسانہ) 1994، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد، 1995
- مظہر ادب اردو (1977–1985)، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آآباد
- ادب اردو (1998–2008)، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد، 2009
- پاکستانی ادب (افسانہ) ، (1947–2008)، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد، 2009
- پاکستانی ادب (شاعری) ، (1947–2008)، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد، 2009
- پاکستانی ادب (رویے اور رجحانات)، اسلام آباد، 2009
- عاشقی صبرِ طلب (خود نوشت)
اعزازات
ترمیمحکومت پاکستان نے انھیں 14 اگست 2006ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
وفات
ترمیم3 مارچ 2021ء کو راولپنڈی میں وفات پائی۔[1] 5 مارچ 2021 کو راولپنڈی میں سپرد خاک کردیے گے ۔