سائنسی قیامت سے مراد ایسی سائنسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہمارا کرہ ارضی مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا۔

فائل:Sun2.jpg
سورج

سورج کا ایندھن

ترمیم

سورج سمیت تمام ستاروں میں موجود مادہ کی مقدار کا بڑا حصہ ہائیڈروجن پر مشتمل ہے۔ ہائیڈروجن کے مسلسل خودکار ایٹمی دھماکوں سے روشنی اور حرارت کا وسیع تر اخراج ہوتا ہے، جس سے سورج چمکتا نظر آتا ہے۔ ایٹمی دھماکوں کا یہ عمل ہائیڈروجن کو ہیلئم میں تبدیل کرتا چلا جاتا ہے۔ ہمارے سورج میں ابھی اتنا ایندھن موجود ہے کہ وہ 4,50,00,00,000 سال مزید روشن رہ سکے۔

ایندھن کا خاتمہ

ترمیم

جب ہمارے سورج کے مرکز میں واقع دس فیصد ہائیڈروجن نیوکلیئر فیوژن کے عمل سے گذر کر ہیلئم میں تبدیل ہو جائے گی تو سورج کا مرکز اپنے بے پناہ دباؤ کے تحت مزید سکڑے گا اور اس کا درجہ حرارت بے پناہ حد تک بڑھ جائے گا۔ ایسے میں ہیلئم بھی جلنا شروع کر دے گی جس سے کاربن پیدا ہو کر سورج کے مرکز میں جمع ہونے لگے گی۔ ہائیڈروجن اور ہیلئم کے جلنے کا یہ دہرا عمل سورج میں شدید حرارت پیدا کر دے گا جس سے زوردار دھماکوں کے ساتھ سورج کی بیرونی سطح پھول جائے گی اور اس کے بعد اس پھولی ہوئی سطح کا ٹمپریچر بھی نسبتاً کم ہو جائے گا۔

سرخ ضخام

ترمیم

کسی بھی ستارے کے پھول کر اپنی اصل جسامت سے کئی گناہ بڑھ جانے کو فلکیاتی سائنس کی اصطلاح میں ’سرخ ضخام‘ (red giant) کا نام دیا جاتا ہے۔ ہمارا سورج جب سرخ ضخام میں تبدیل ہو گا تو وہ پھول کر نہ صرف عطارد بلکہ زہرہ کے مدار تک آ پہنچے گا۔ جس سے لامحالہ دونوں قریبی سیارے سورج میں گر کر اس کی کمیت کا حصہ بن جائیں گے۔ زمین زیادہ فاصلے پر ہونے کی بنا پر سورج میں گرنے سے تو بچ جائے گی مگر سورج کا پھول کر زمین سے اس قدر قریب تک چلے آنا زمین کے درجۂ حرارت کو بے انتہا بڑھا دے گا، جس سے کرۂ ارض پر واقع کروڑوں اربوں اقسام کی انواع حیات جھلس کر تباہ ہو جائیں گی اور ہر سو قیامت چھا جائے گی۔ [1] ان سائنسی حقائق کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ کرہ ارض کی قیامت کم و بیش ساڑھے چار ارب سال بعد وقوع پزیر ہوگی۔

اسلامی عقیدہ

ترمیم

سورج کے پھول کر زمین سے اس قدر قریب چلے آنے سے زمین پر قیامت برپا ہونے کے ضمن میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔ نبئ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

تدني الشمس يوم القيامة من الخلق.[2]

ترجمہ: قیامت کے روز سورج مخلوق سے انتہائی قریب آن پہنچے گا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "کائنات کا تجاذبی انہدام اور انعقاد قیامت ماخوذ از تخلیق کائنات"۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2022 
  2. صحيح مسلم، جلد 2 : صفحہ 384

برائے مزید مطالعہ

ترمیم