زہرا بیگم، جو عام طور پر سالونی کے نام سے جانی جاتی ہیں، 60ء تا 70ء کی دہائی کی ایک پاکستانی فلم اداکارہ تھی۔ آپ ایک کامیاب اداکارہ تھیں اور کافی کامیاب فلموں میں اداکاری کی۔[1]

سالونی
معلومات شخصیت
پیدائش 26 اپریل 1950(1950-04-26)
حیدرآباد، سندھ، سندھ، پاکستان
وفات اکتوبر 15، 2010(2010-10-15) (عمر  60 سال)
کراچی، سندھ، پاکستان
شوہر غلام باری ملک
پیشہ اداکارہ

ابتدائی زندگی اور فنی سفرترميم

سالونی کی پیدائش حیدرآباد، سندھ میں ہوئی۔ انہوں نے فنی سفر کا آغاز 1964ء کی فلم غدار سے کیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ محمد علی اور سدھیر نے کام کیا تھا۔[2] آپ نے اردو اور پنجابی زبان میں کئی فلمیں کی۔ چن مکھنا، دل دا جانی، سجن پیارا اور پھنے خان ان کی مشہور فلمیں تھی۔ آپ نے پاکستانی فلم صنعت کے اس وقت کے بڑے ستاروں جیسے وحید مراد، یوسف خان، اعجاز درانی اور اکمل خان کے ساتھ بھی کام کیا۔ آپ کی آخری فلم امیر تے غریب تھی، اس فلم کو 1979ء میں جاری کیا گیا تھا۔

1970ء کی دہائی کے شروع میں آپ نے باری فلم اسٹوڈیوز کے مالک غلام باری ملک سے شادی کر لی۔ آپ باری ملک کی دوسری بیوی اور خرم باری کی سوتیلی ماں تھیں۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد آپ نے فلم انڈسٹری سے ریٹائرمنٹ لے لی اور 1979ء میں فلم انڈسٹری کو الوداع کہہ دیا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ دبئی منتقل ہو گئیں اور اپنی وفات سے پانچ سال قبل پاکستان واپس آئیں۔[3]

وفاتترميم

سالونی کا 15 اکتوبر، 2010ء کو اپنی بیٹی کے گھر انتقال ہو گیا۔ آپ کو لاہور میں دفن کیا گیا۔ سالونی کی وفات کے 5 سال بعد ان کے شوہر باری ملک 22 دسمبر، 2015ء کو 97 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔[1] [4][5]

فلموگرافیترميم

  • غدار (1964ء)
  • ایسا بھی ہوتا ہے (1965ء)[6]
  • ناچے ناگن بجے بین (1965ء)
  • کھوٹا پیسا (1965ء)
  • قبیلہ (1966ء)
  • سرحد (1966ء)
  • باغی سردار (1966ء)
  • کوہ نور (1966ء)
  • لوری (1966ء)
  • جانباز (1966ء)[6]
  • اعلان (1967ء)
  • دل دا جانی (1967ء)[6]
  • حاتم طائی (1967ء)
  • بالم (1968ء)
  • ظالم (1968ء)
  • چن مکھنا (1968ء)[6]
  • بدلا (1968ء)
  • سوہنا (1968ء)
  • حمیدہ (1968ء)
  • دلبر جانی (1969ء)
  • بھائیاں دی جوڑی (1969ء)
  • شابستان (1969ء)
  • کوچواں (1969ء)
  • گڈو (1970ء)
  • چور نالے چھتر (1970ء)[6]
  • پیار دے پلیکھے (1971ء)
  • سپاہ سلار (1972ء)
  • امیر تے غریب (1979ء) - آخری فلم[1]

مزید دیکھیںترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ The Newspaper's Staff Reporter (16 October 2010). "Saloni is no more". ڈان (اخبار) newspaper. اخذ شدہ بتاریخ 22 دسمبر 2017. 
  2. https://www.dawn.com/news/572431/saloni-is-no-more
  3. Profile of actress Saloni on urduwire.com website Retrieved 22 December 2017
  4. https://tribune.com.pk/story/1015200/owner-of-bari-studio-passes-away/
  5. http://indpaedia.com/ind/index.php/Saloni_(Pakistani_actress)
  6. ^ ا ب پ ت ٹ Filmography of actress Saloni on Complete Index To World Film (CITWF) website آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ citwf.com [Error: unknown archive URL] Retrieved 22 December 2017

بیرونی روابطترميم