سعید بن العاص

صحابی رسول محمد بن عبد اللہ

سعید بن العاص صحابی تھے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ نہایت فصیح اللسان تھے ۔

حضرت سعید ؓبن العاص
معلومات شخصیت
پیدائش
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 679 (55–56 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش کوفہ  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث،  والی،  عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

30ھ سعید بن العاص نے طبرستان فتح کیا۔ اِس لشکر میں امام حسن، امام حسین، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، عبد اللہ بن جعفر، عبد اللہ بن عباس اور حذیفہ بن الیمان اور بہت سے صحابہ شامل تھے۔ یہ لشکر متعدد شہروں سے گذرا۔ وہ سب بڑی بڑی رقوم جزیہ پر صلح کرتے گئے حتی کہ جرجان پہنچے وہاں جنگ ہوئی اور اِتنی شدید ہوئی کہ اِن حضرات کو صلوٰة خوف پڑھنی پڑی۔ سعید بن العاص نے حذیفہ بن یمان سے پوچھا کہ رسول اللہ ۖ نے یہ نماز کیسے پڑھائی تھی پھر اِس طرح انہوں نے پڑھائی۔ پھر اِس قلعہ والے دشمنوں نے امان چاہی۔[1] عثمان غنی نے ولید بن عقبہ کو کوفہ سے معزول فرمایا۔ مدینہ شریف بلالیا اور مدینہ سے سعید بن العاص کو اِن کی جگہ گورنر بناکر بھیج دیا قدرتی طور پر لہجہ میں جناب رسول اللہ ۖ سے مشابہت تھی۔ صفین کے موقع پر یہ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے، الگ رہے۔ [2]

نام ونسبترميم

1ھ میں پیدا ہوئے،سعید نام رکھا گیا، نسب نامہ یہ ہے سعید بن عاص بن سعید بن عاض بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قرشی اموی،ماں کا نام ام کلثوم تھا، نانہالی شجرہ یہ ہے ام کلثوم بنت عمر بن عبد اللہ بن ابو قیس بن عبدودبن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی ،بنی امیہ کے گھرانے میں سعید کے آباد واجداد بڑے دبدبہ وشکوہ کے رئیس تھے، ان کے والد عاص بدر میں حضرت علیؓ کے ہاتھ سے مارے گئے، ان کے دادا سعید ابواحیحہ ذوالتاج تاج والے کہلاتے تھے، یہ جس رنگ کا عمامہ باندھتے تھے،اس رنگ کا مکہ میں دوسرا نہ باندھ سکتا تھا۔ [3]

فتح مکہ کے بعد قریش کا کوئی گھرانہ اسلام سے خالی نہ رہ گیا تھا، اس وقت سعید کی عمر 8،9 سال کی ہوگی ،اس لیے ہوش سنبھالتے ہی انہوں نے اپنے گرد وپیش اسلام کو پرتو فگن دیکھا،عہد نبوی اور عہد صدیقی میں بالکل بچہ تھے، عہد فاروقی کے آخر میں عنفوان شباب تھا، اس لیے ان تینوں زمانوں کا کوئی واقعہ قابلِ ذکر نہیں ہے۔

جرجان اورطبرستان کی فتحترميم

حضرت عثمان کے زمانہ میں پورے جوان ہوچکے تھے؛چنانچہ اسی عہد سے ان کے کارناموں کا آغاز ہوتا ہے، ان کا گھرانا ریاست وحکومت میں ممتاز تھا، اس لیے حضرت عثمانؓ نے انہیں اس کام کے لیے منتخب کیا اور 29 ھ میں ولید ابن عقبہ کی جگہ کوفہ کا گور نر مقرر کیا شجاعت و بہادری ورثہ میں ملی تھی،اس لیے کوفہ پر تقرر کے ساتھ ہی 29ھ میں جرجان اورطبرستان پر فوج کشی کردی دوسری طرف سے عبد اللہ ابن عامر والی بصرہ بڑھا، سعید کے ساتھ حضرت حسنؓ، حسینؓ،عبد اللہ بن عباس، ابن عمرؓ اورابن زبیرؓ وغیرہ تمام نوجوانان قریش تھے [4]ان لوگوں نے عبد اللہ بن عامر کے پہنچنے کے قبل طبرستان پر حملہ کرکے طیمہ ،نامند،رویان اور دبادند فتح کر لیا اورجرجان کے فرما نروانے دولاکھ پر صلح کرلی، کوہستانی علاقہ والوں نے بھی صلح کرلی [5] طبرستان اورجرجان کے بعد آذر بیجان کی بغاوت فرو کی۔

معزولی اورعہد معاویہترميم

34ھ میں اہل کوفہ کی شکایت پر حضرت عثمانؓ نے معزول کر دیا، 35ھ میں حضرت عثمانؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا، اس کے نتائج میں جمل اور صفین کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں، لیکن سعید ان میں خانہ نشین رہے اورحضرت علیؓ اور معاویہ کسی کا ساتھ نہ دیا، استقرار حکومت کے بعد امیر معاویہ نے ان کو مدینہ کا عامل بنایا، لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد معزول کرکے ان کی جگہ مروان کو مقرر کیا۔[6]

فضل وکمالترميم

حضرت عثمانؓ نے مصاحف کی کتابت کے لیے جو جماعت منتخب کی تھی ان میں ایک سعید بھی تھے،(اسد الغابہ:2/311) اور قرآن مجید کی کتابت میں صرف ونحو اور زبان کی صحت کی نگرانی ان ہی کے متعلق تھی ، ان سے حدیثیں بھی مروی ہیں، لیکن چونکہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں بچہ تھے، اس لیے براہ راست مرفوع حدیثیں نہیں ہیں؛بلکہ حضرت عمروؓ عثمان اورعائشہ ؓ سے روایتیں کی ہیں۔ [7] سعید نہایت عاقل و فرزانہ تھے اور ان کے بہت سے حکیمانہ مقولے ضرب المثل ہو گئے تھے کہا کرتے تھے کہ شریف سے مذاق نہ کرو کہ وہ تم سے جلنے لگے گا اورکمینہ سے مذاق نہ کرو کہ وہ جری ہوجائے گا ،رائے ظاہر کرنے میں بہت محتاط تھے، کسی چیز کے متعلق پسندیدگی اورناپسند یدگی کا اظہار نہ ہونے دیتے تھے کہا کرتے تھے کہ دل بدلتا رہتا ہے،اس لیے انسان کو اظہار رائے میں احتیاط کرنی چاہیے اور ایسا نہ کرنا چاہیے کہ آج ایک چیز کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہوا اور کل اس کی مذمت شروع کر دے۔[8]

فیاضیترميم

شجاعت وشہامت کے ساتھ فیاضی اوردریادلی بھی خمیر میں داخل تھی، ہفتہ میں ایک دن اپنے بھائی بھتیجوں کو ساتھ کھلاتے تھے،اس کے علاوہ سب کو کپڑے دیتے ،نقدی سلوک کرتے تھے اور ان کے گھروں پر سازوسامان بھجواتے تھے، [9]یہ فیاضی محض اعزہ کے ساتھ مخصوص نہ تھی ؛بلکہ کار خیر میں بھی بہت فیاضی سے صرف کرتے تھے، ہر شب جمعہ کو کوفہ کی مسجد میں غلام کے ہاتھ دینار سے بھری ہوئی تھیلیاں نمازیوں میں تقسیم کراتے تھے، اس معمول کی وجہ سے شبِ جمعہ کو مسجد میں نمازیوں کا بڑا ہجوم ہوتا تھا۔ [10] کبھی کوئی سائل دروازہ سے ناکام واپس نہ ہوتا تھا، اگر روپیہ پاس نہ ہوتا تو ایک تحریر ی یاداشت بطور ہنڈی کے دیدیتے کہ جب روپیہ آجائے سائل وصول کرلے [11]اس فیاضی کی وجہ سے لوگ ان کے ساتھ لگے رہتے تھے اورکوئی نہ کوئی ہر وقت ساتھ رہتا تھا، مدینہ کی معزولی کے زمانہ میں ایک دن مسجد سے آ رہے تھے،ایک آدمی ساتھ ہولیا، سعید نے پوچھا کوئی کام ہے، اس نے کہا نہیں آپ کو تنہا دیکھ کر ساتھ ہو گیا، کہا کاغذ دوات لاؤ اورمیرے فلاں غلام کو لیتے آؤ، اس آدمی نے فوراً حکم کی تعمیل کی سعد نے بیس ہزار کا سرخط لکھ دیا اورکہا جب ہمارا وظیفہ ملے گا ،تویہ رقم تم کو مل جائے گی، لیکن ادائیگی کے پہلے ان کا انتقال ہو گیا، ان کے انتقال کے بعد وہ سرخط اس شخص نے ان کے لڑکے عمرو کو دیا، انہوں نے اس کی رقم ادا کی۔[12]

شریف اہل حاجت کو بلا سوال دیتے تھے اور شرفا پروری کی وجہ سے بہت مقروض ہو گئے تھے، وفات کے وقت اسی ہزار قرض تھا ،وفات سے پہلے لڑکوں کو بلا کر پوچھا ، تم میں سے کون میری وصیت قبول کرتا ہے، بڑے لڑکے نے اپنے کو پیش کیا، سعید نے کہا اگر میری وصیت قبول کرتے ہو تو میرا قرض بھی چکا نا ہوگا، لڑکے نے پوچھا کتنا ، کہا اسی ہزار دینار، لڑکے نے کہا اتنا قرض کس طرح ہو گیا، کہا بیٹا ان شریفوں اورغیرت مند لوگوں کی حاجت پوری کرنے میں جو میرے پاس حاجت لیکر آتے تھے، اورفرط خجالت سے ان کے چہرہ کا خون خشک ہوا جاتا تھا، میں سوال کے قبل ہی ایسے لوگوں کی حاجت پوری کردیتا تھا۔[13]

حق پسندیترميم

بنی امیہ میں خاندانی عصبیت بہت زیادہ تھی اوران میں بہت سے ایسے تھے کہ مدتیں گذر جانے کے بعد بھی ان کے دلوں سے اموی مقتولین بدر واحد کے قاتلوں کی نفرت نہ مٹی تھی، لیکن سعید کی ذات اس کینہ پروری سے مستثنی تھی اوران کے دل میں خلافِ حق کبھی کوئی عصبیت کا جذبہ پیدا نہ ہوا، ان کے والد عاص جنگ بدر میں حضرت علیؓ کے ہاتھ سے مارے گئے تھے، حضرت عمرؓ نے عاص کے ہمنام اپنے ماموں کو قتل کیا تھا، اس لیے اشتراک نام کی وجہ سے دھوکا ہوتا تھا کہ حضرت عمرؓ نے سعید کے والد کو قتل کیا، ایک موقع پر حضرت عمرؓ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے فرمایا کہ میں نے تمہارے والد کو نہیں ؛بلکہ اپنے ماموں عاص کو قتل کیا تھا، یہ سن کر سعید نے جواب دیا کہ اگر آپ میرے ماموں کو بھی قتل کیے ہوتے تو کیا برا کیا تھا، آپ حق پر تھے اوروہ باطل پر،حضرت عمرؓ کو اس حق پسندی پر بڑی حیرت ہوئی۔[14]

وفاتترميم

سعید بن العاص نے 69ھ میں وفات پائی، وفات کے بعد سات لڑکے یاد گار چھوڑے، عمر، محمد، عبد اللہ ،یحییٰ عثمان عنبہ اورآبان ،سعید کےکئی بھائی تھے، لیکن عاص کی نسل ان ہی کی اولاد سے چلی۔[15]

حوالہ جاتترميم

  1. البدایہ ج7 ص 154
  2. تہذیب التہذیب ج 4 ص 50
  3. (اسد الغابہ:2/309)
  4. (ابن اثیر:2/84)
  5. (فتوح البلدان بلاذری:342)
  6. (استیعاب:2/556)
  7. (ایضاً)
  8. (اصابہ:2/98)
  9. (اسدالغابہ:2/311)
  10. (اسد الغابہ:2/310)
  11. (اسد الغابہ:2/310)
  12. (استیعاب :2/556)
  13. (اسد الغابہ:2/311)
  14. (اسد الغابہ:6/311)
  15. (ایضا، استیعاب:2/556)