جنت البقیع، مدینہ منورہ میں موجود قبرستان ہے۔ یہاں اصحابِ رسول، اہلِ بیتِ رسول اور کئی معزز شخصیات مدفون ہیں۔ بقیع اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنگلی پیڑ پودے بکثرت پائے جاتے ہوں اور چونکہ بقیع قبرستان کی جگہ میں پہلے جھاڑ جھنکاڑ اور کانٹے عوسج یعنی غرقد کے پیڑ بکثرت تھے اس لیے اس قبرستان کا نام بھی بقیع غرقد پڑ گیا۔

جنت البقیع
Bagicemetry.JPG
مقبرة البقيع
تفصیلات
تاسیس622ء
مقاممدینہ منورہ
ملکسعودی عرب
قسممسلم
مالکریاست
تعداد قبورنامعلوم

اس کا محل وقوع یہ ہے کہ یہ قبرستان مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر مسجد نبوی شریف کے مشرقی سمت میں واقع ہے، اس کے ارد گرد مکانات اور باغات تھے اور تیسری صدی میں جو مدینہ منورہ کی فصیلی دیوار تعمیر ہوئی اس سے یہ ملا ہوا تھا، اس فصیل کی تجدیدات متعددبار ہوئی ہے، جن میں آخری تجدید عثمانی ترکی دور میں سلطان سلیمان قانونی کے زمانہ میں ہوئی، پھر اس ملک میں امن قائم ہوجانے کے بعد اس فصیلی دیوار کو منہدم کر دیا گیا، پھر مسجد نبوی شریف کی آخری توسیع میں اس قبرستان اور مسجد نبوی شریف کے درمیان جو مکانات تھے ان سب کو منہدم کر دیا گیا، ان دنوں کے درمیان جو محلہ آباد تھا، وہ اغوات کے نام سے مشہور تھا، مسجد نبوی شریف کے مشرقی سمت میں اب یہ بقیع قبرستان مسجد نبوی شریف کے خارجی صحن سے مل چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرات مہاجرین رضوان اللہ اجمعین نے جب مدینہ منورہ کو ہجرت کر کے اپنا مسکن و وطن بنایا، تو اس شہر مبارک میں مزید تعمیری و تمدنی ترقی ہونے لگی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ کوئی مناسب جگہ مسلمانوں کی اموات کی تدفین کے لیے متعین ہو جائے، اسی مقصد کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس (بقیع کی) جگہ تشریف لائے، تو ارشاد فرمایا؛

اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس (بقیع کی) جگہ مسلمانوں کا قبرستان بنانے کا حکم فرمایا تھا اور یہیں سے اس جگہ یعنی بقیع قبرستان کی فضیلت کی ابتدا ہوتی ہے۔

مدفون شخصیاتترميم

اس قبرستان میں تقریباً دس ہزار صحابہ، نو امہات المؤمنین، اولاد محمد، اہل بیت، اولیاء اللہ، صوفیا، علماء، محدثین اور دیگر مدفون ہیں۔

اولین قبورترميم

سب سے پہلے انصار مدینہ میں اسعد بن زرارہ اور عثمان بن مظعون اس قبرستان میں دفن کیے گئے، جنت البقیع میں قبروں پر ایسے کتبے یا نشانات نہیں تھے، جن سے ابتدائی دفن شدہ شخصیات کا علم آسانی سے ہو سکے۔ لیکن بعد میں مؤرخین نے تحقیق کی روشنی میں کئی اہم شخصیات کی قبروں کی نشان دہی کی تھی۔ اور وقت گزرنے کے بعد جب زیادہ قبریں ہو گئیں تو بہت سے مزارات اور گنبد تعمیر کیے گئے جو پچھلی صدی تک باقی تھے۔ اور آل سعود نے یوم الہدم کے تاریخی سیاہ واقعے میں سب اجاڑ دیے۔

خاندان رسالت ﷺترميم

اولاد ؓترميم

ازواج مطہراتؓترميم

  1. عائشہ بنت ابوبکرؓ
  2. سودہ بنت زمعہؓ
  3. حفصہ بنت عمرؓ
  4. زینب بنت خزیمہؓ
  5. ام سلمہؓ
  6. جویریہ بنت حارثؓ
  7. ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیانؓ
  8. صفیہ بنت حیی بن اخطبؓ
  9. ماریہ قبطیہؓ

(میمونہ بنت حارثؓ سَرَف کے مقام پر[2] اور خدیجہ بنت خویلدؓ مکہ میں دفن ہیں۔)

دیگر رشتہ دارترميم

صحابہ کرامؓترميم

سات فقہائے مدینہؒترميم

  1. سعید بن مسیبؒ
  2. عروہ بن زبیرؒ
  3. ابوبکر بن عبدالرحمٰنؒ
  4. قاسم بن محمد بن ابی بکرؒ
  5. عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعودؒ
  6. سلیمان بن یسارؒ
  7. خارجہ بن زید بن ثابتؒ

دیگر شخصیاتترميم

نگار خانہترميم

بیرونی روابطترميم

  1. (مستدرک امام حاکم 11/193)
  2. میمونہ بنت حارث - مقام تدفین - اردو ویکیپیڈیا
  3. ؟
  4. ؟
  5. ؟