سلطان محمود شاہ شرقی(وفات: 1457ء) جونپور سلطنت کا چوتھا حکمران تھا جس نے 1440ء سے 1457ء تک حکمرانی کی۔سلطان مذکور کا لقب ’’ناصر الدین‘‘ تھا۔

سلطان محمود شاہ شرقی
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1457ء  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سلطنت جونپور   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1440  – 1457 
سلطان ابراہیم شاہ شرقی 
 
پیشہ ورانہ زبان فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانح ترمیم

تخت نشینی ترمیم

1440ء میں سلطان ابراہیم شاہ شرقی کے اِنتقال کے بعد سلطان محمود شاہ شرقی تخت نشین ہوا۔اُس کا نام محمود خاں تھا مگر بوقتِ تخت نشینی اُس نے اپنا نام سلطان محمود شاہ رکھا ۔ اُس کی رسمِ تاج پوشی نہایت تزک و احتشام سے منائی گئی۔ سلطنت کے باجگزار راجاؤں کی جانب سے پیغامِ تہنیت بھی آئے۔

عسکری فتوحات ترمیم

سلطان محمود اپنے والد سلطان ابراہیم شاہ شرقی کی طرح مذہب پرست اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اُس نے بھی اسلام اور رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے ہمسایہ حکومتوں کے خلاف جہاد بھی کیا۔ سب سے پہلے اُس نے والیٔ بنگال سلطان شمس الدین احمد شاہ (1431ءـ 1442ء) کے خلاف قدم اُٹھایا۔ کیونکہ اُس نے اپنے آخری دورِ حکومت میں رعایا پر اِنتہائی ظلم و ستم شروع کر رکھا تھا جس کے نتیجے میں سلطنت میں طوائف الملوکی برپا تھی مگر جب اُس نے سلطان محمود کی لشکرکشی (1442ء) کی خبر سنی تو وہ فوراً اپنے اعمالِ بد سے باز آگیا اور آئندہ بھی اُس نے حالات کو درست رکھنے کا وعدہ کیا[1]۔1443ء میں جب سلطان محمود کو خبر ملی کی والیٔ کالپی نصیر خاں نے قصبہ شاہ پور کو تباہ و برباد کر کے وہاں کے مسلمانوں کو شہر بدر کر دیا ہے اور کچھ مسلمان خواتین کو زبردستی رقص و گیت سکھانے کے لیے ہندو نائیکوں کے حوالے کر دیا ہے۔ سلطان محمود فوج لے کر اُس کی سرکوبی کے لیے کالپی پہنچا۔ جب نصیر خاں کو اُس کی آمد کی خبر ملی تو وہ چندیری بھاگ کر پہنچا اور وہاں اُس نے سلطان محمود خلجی‘ والیٔ مالوہ کو اپنا محافظ تسلیم کر کے اُس نے مدد کی درخواست کی ۔ چنانچہ سلطان محمود بھی فوجیں لے کر کالپی پہنچا اور وہاں دونوں افواج میں گھمسان کا معرکہ ہوا۔ لیکن شیخ جائیلدہ نے فریقین کے سیاسی حالات کے پیش نظر دونوں میں صلح کروا دی اور نصیر خاں کو پابندیٔ اسلام اور قیامِ عدل کے وعدہ پر دوبارہ بحال کر دیا گیا۔[2][3][4][5]

اوڑیسہ کے خلاف اعلان جہاد ترمیم

سلطان محمود جذبہجہاد کا بڑا حامی تھا، اِسی سبب سے اُس نے اوڑیسہ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ البتہ تاریخی حوالوں سے اِس کا کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں کہ اُس نے یہ حملہ کن حالات سے متاثر ہوکر کیا، لیکن قرینِ قیاس یہی ہے کہ وہ وہاں کے مسلمانوں پر ہندوؤں کے مظالم کی خبریں سن کر جہاد کرنے کے لیے آمادہ ہوا تھا۔بہرحال اوڑیسہ پر اُس کا حملہ بہت تباہ کن ثابت ہوا اور وہاں سے اُسے مالِ غنیمت بھی بہت حاصل ہوا۔ جنگ میں کامیابی کے بعد اُس نے تبلیغِ اسلام کی غرض سے پہاڑپور میں دو مساجد بھی تعمیر کروائیں اور اِس علاقے میں قابل علما کو بطور مفتی تقرر کیا۔[6][7][8][9][10]

حوالہ جات ترمیم

  1. مطلع السعدین، صفحہ 782-783۔
  2. طبقات اکبری،جلد 3 ، صفحہ 279-282۔
  3. طبقات اکبری، صفحہ 326-329۔
  4. تاریخ فرشتہ، جلد 2، صفحہ 596-598۔
  5. تذکرۂ مشائخ شیراز ہند جونپور،  صفحہ107۔
  6. طبقات اکبری، جلد 3 ، صفحہ 283۔
  7. تاریخ فرشتہ، جلد 2، صفحہ 595۔
  8. مآثر رحیمی، جلد 1 ، صفحہ 104۔
  9. احسن التواریخ، صفحہ 375۔
  10. تذکرۂ مشائخ شیراز ہند جونپور،  صفحہ107۔
سلطان محمود شاہ شرقی
 وفات: 1457ء
مذہبی القاب
ماقبل  سلطان جونپور سلطنت
1440ء1457ء
مابعد