احمد سلمان رشدی ایک بھارتی برطانوی ناول نگار اور مضمون نگار ہے۔ اس کا چوتھا ناول، شیطانی آیات (The Satanic Verses) ایک بڑے تنازع کا مرکز تھا، جس نے کئی ممالک میں مسلمانوں کو احتجاج پر اکسایا۔ 14 فروری 1989ء کو آیت اللہ خمینی کی طرف سے جاری ایک فتوی میں سلمان رشدی موجب قتل قرار دیا گیا۔ جو آج تک جاری ہے۔‌

سلمان رشدی
(انگریزی میں: Ahmed Salman Rushdie)،(اردو میں: سلمان رشدی ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Salman Rushdie 2012 Shankbone-2.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 19 جون 1947 (75 سال)[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی[8]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom (3-5).svg مملکت متحدہ (1964–)[9]
Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا (2016–)
Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سوسائٹی آف لٹریچر،  پین امریکا  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ پدما لکشمی (2004–2007)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی کنگز
کیتھڈرل اینڈ جان کینون اسکول  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف[10]،  ناول نگار،  مضمون نگار،  منظر نویس،  بچوں کے مصنف،  اداکار[11]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان انگریزی،  اردو[12]  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[13]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ایموری یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں شیطانی آیات  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر گیبریل گارشیا مارکیز  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
United-kingdom582.gif کمپینین آف آنر (2022)[14]
فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز (2022)[15]
سینٹ لوئیس ادبی انعام (2009)[16]
کوسٹا بک اعزازات (برائے:The Moor's Last Sigh) (1995)
کوسٹا بک اعزازات (برائے:شیطانی آیات) (1988)
مین بکر پرائز (برائے:Midnight's Children) (1981)[17]
فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نامزدگیاں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

پیدائشترميم

سلمان رشدی ہندوستان کی برطانیہ سے آزادی سے دو ماہ قبل بمبئی میں 19 جون 1947ء کو پیدا ہوئے تھے۔

تعلیمترميم

14سال کی عمر میں انہیں حصول تعلیم کیلئے انگلینڈ کے رگبی سکول میں بھیج دیا گیا تھا، بعد ازاں انہوں نے کیمبرج کے معروف کنگز کالج میں تاریخ کے مضمون میں آنرز کی ڈگری حاصل کی۔

عملی زندگیترميم

سلمان رشدی نے برطانوی شہریت حاسل کر لی اور انھوں نے اپنا مسلم عقیدہ تبدیل کر لیا۔ انھوں نے بطور ایک اداکار مختصر وقت کے لیے کام کیا۔ وہ کیمبرج فوٹ لائٹس میں کام کر چکے ہیں۔ پھر انھوں نے ناول لکھنے کے ساتھ ساتھ ایک ایڈورٹائزنگ کاپی رائٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

وہ لندن 2003ء میں اپنے ناول مڈ نائٹ چلڈرن کی سٹیج کے لیے ماخوذ کردہ پرفارمنس میں بھی شامل رہے۔

پچھلی دو دہائیوں میں اس نے شالیمار دی کلاؤن، دی اینچینٹریس آف فلورنس، ٹو یئرز ایٹ منتھز اینڈ ٹوئنٹی ایٹ نائٹس، دی گولڈن ہاؤس اور کوئچوٹ نامی ناول شائع کیے ہیں۔

توہین اسلامترميم

ان کا چوتھا ناول 'شیطانی آیات (سیٹانک ورسز) جو سنہ 1988ء میں شائع ہوا ان کا سب سے متنازع ناول بن گیا، اس کتاب کو دنیا بھر کے مسلمانوں نے مذہبی توہین آمیز قرار دیا۔

اہل اسلام کا ردعملترميم

75 سالہ رشدی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، اور وہ اس ناول کی اشاعت کے بعد روپوش ہونے پر مجبور ہو گئے اور برطانوی حکومت نے مصنف کو پولیس حفاظت میں رکھا تھا۔

ان کے چوتھی کتاب کی اشاعت اور برطانوی پولیس کی جانب سے حفاظت میں رکھے جانے کے بعد برطانیہ اور ایران نے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے لیکن مغربی دنیا کے مصنفین اور دانشوروں نے اس کتاب پر مسلمانوں کے ردعمل کو اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرہ قرار دیا تھا۔

اس کتاب پر سب سے پہلے انڈیا نے پابندی لگائی تھی۔ پاکستان نے بھی مختلف دیگر مسلم ممالک اور جنوبی افریقہ کی طرح اس پر پابندی عائد کر دی۔

مصنف سلمان رشدی کی چوتھی کتاب کی اشاعت کے ایک سال بعد 1989ء میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ناول نگار کے قتل کا فتویٰ یا سرکاری حکم نامہ جاری کیا تھا۔

جنوری 1989ء میں، بریڈ فورڈ میں مسلمانوں نے رسمی طور پر کتاب کی ایک کاپی جلا دی تھی اور نیوز ایجنٹ ادارے ڈبلیو ایچ ایسمتھ کو وہاں اس کتاب کو رکھنے سے منع کیا تھا۔ تاہم سلمان رشدی نے توہین مذہب کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔

فروری 1989ء میں، برصغیر میں رشدی مخالف فسادات میں کئی افراد مارے گئے، تہران میں برطانوی سفارت خانے پر پتھراؤ کیا گیا، اور مصنف کے سر پر 30 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا۔

دریں اثنا، برطانیہ میں، کچھ مسلم رہنماؤں نے اعتدال پسندی پر زور دیا، جبکہ دیگر نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ کی حمایت کی۔

امریکہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک نے سلمان رشدی کو دی جانے والی موت کی دھمکی کی مذمت کی تھی۔

سلمان رشدی اس وقت تک پولیس کے پہرے میں اپنی بیوی کے ساتھ روپوش رہے، انھوں نے اپنی کتاب کے ذریعے مسلمانوں کو ہونے والی تکلیف پر گہرے افسوس کا اظہار بھی کیا تھا لیکن ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی نے مصنف کی موت کے لیے اپنے فتوی کو قائم رکھا۔

وائکنگ پینگوئن کے لندن کے دفاتر سے پبلشرز کو پکڑ لیا گیا اور نیویارک کے دفتر میں عملے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

لیکن اس سب کے باوجود یہ کتاب بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر واقع ممالک میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گئی تھی۔

مسلم ممالک کے جانب سے اس کتاب کی اشاعت پر شدید ردعمل کے نتیجے میں ای ای سی ممالک نے اس کتاب کی حمایت کی اور ان مظاہروں کے خلاف تمام ممالک نے عارضی طور پر تہران سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔

قاتلانہ حملہترميم

12 اگست 2022ء کو نیویارک میں ان پر ہادی مطر نے قاتلانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے، تاہم انہیں فوری طور پر بذریعہ ہیلی کاپٹر ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا اور وہ بال بال بچ گئے۔‌

تصانیفترميم

  • ان کی پہلی لکھی گئی کتاب گریمس نے اشاعت کے بعد بڑی کامیابی حاصل نہیں کی، لیکن کچھ ناقدین نے انھیں ایک اہم صلاحیت کے حامل مصنف قرار دیا تھا۔
  • رشدی کو اپنی دوسری کتاب مڈ نائٹ چلڈرن لکھنے میں پانچ سال لگے، اس کتاب نے 1981ء کا بکر پرائز جیتا تھا۔ اس کتاب کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا اور اس کی پانچ لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں تھیں۔
  • جہاں ان کی کتاب مڈ نائٹ چلڈرن انڈیا کے بارے میں تھی، وہیں رشدی کا تیسرا ناول شیم - جو 1983 میں ریلیز ہوا۔ چار سال بعد، رشدی نے دی جیگوار سمائل نامی ناول لکھا، جو نکاراگوا میں ایک سفر نامہ تھا۔
  • ان کا چوتھا ناول 'شیطانی آیات (سیٹانک ورسز) جو 1988ء میں شائع ہوا ان کا سب سے متنازع ناول بن گیا اور جس پر بین الاقوامی سطح پر ایسی ہنگامہ آرائی ہوئی تھی کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔
  • رشدی کی بعض کی کتابوں میں بچوں کے لیے ایک ناول، ہارون اینڈ دی سی آف سٹوریز (1990)،
  • مضامین کی ایک کتاب، امیجنری ہوم لینڈز (1991)،
  • ناول ایسٹ، ویسٹ (1994)،
  • دی مورز لاسٹ سائی (1995)،
  • دی گراؤنڈ بنیتھ ہر فیٹ (1999)،
  • فیوری (2001)
  • انھوں نے 2012ء میں اپنی متنازع کتاب 'شیطانی آیات' (دی سٹانک ورسرز) کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کے متعلق ایک یادداشت بھی لکھی۔

ذاتی زندگیترميم

سلمان رشدی نے چار بار شادی کی اور ان کے دو بچے ہیں۔ وہ اب امریکہ میں رہتے ہیں۔‌

اعزازاتترميم

  • برطانوی مصنف و ناول نگار کی کئی کتابیں بے حد کامیاب رہی ہیں، ان کے دوسرے ناول مڈ نائٹ چلڈرن نے 1981ء میں بکر پرائز جیتا تھا۔
  • ادب کے شعبے میں ان کی خدمات کے لیے 2007 میں انھیں نائٹ کا خطاب دیا گیا۔
  • کمپینین آف آنر (2022)
  • فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز (2022)
  • سینٹ لوئیس ادبی انعام (2009)
  • کوسٹا بک اعزازات (برائے:The Moor's Last Sigh) (1995)
  • کوسٹا بک اعزازات (برائے:شیطانی آیات) (1988)
  • فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118873520 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Salman-Rushdie — بنام: Sir Salman Rushdie — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6d50n8q — بنام: Salman Rushdie — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Internet Speculative Fiction Database author ID: https://isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?287 — بنام: Salman Rushdie — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. NooSFere author ID: https://www.noosfere.org/livres/auteur.asp?numauteur=1471 — بنام: Salman RUSHDIE — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. بنام: Salman Rushdie — فلم پورٹل آئی ڈی: https://www.filmportal.de/edfcd2fcb2154fe09639c421dd8a08db — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/rushdie-ahmed-salman — بنام: Ahmed Salman Rushdie — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. ربط : https://d-nb.info/gnd/118873520  — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  9. https://www.oxfordreference.com/view/10.1093/oi/authority.20110803100433765
  10. https://cs.isabart.org/person/118081 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 اپریل 2021
  11. Deutsche Synchronkartei actor ID: https://www.synchronkartei.de/darsteller/5225 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 اپریل 2022
  12. https://www.crf-usa.org/bill-of-rights-in-action/bria-15-1-c-blasphemy-salman-rushdie-and-freedom-of-expression
  13. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119231368 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  14. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.thegazette.co.uk/London/issue/63714/data.pdf — عنوان : The London Gazette — صفحہ: B6 — شمارہ: 63714 — ISBN 978-0-11-692213-7
  15. https://www.amacad.org/new-members-2022
  16. http://lib.slu.edu/about/associates/literary-award-rushdie.php — اخذ شدہ بتاریخ: 29 اپریل 2019
  17. https://thebookerprizes.com/fiction/backlist/1981
  18. https://thebookerprizes.com/the-booker-library/books/quichotte — اخذ شدہ بتاریخ: 11 نومبر 2022
  19. https://thebookerprizes.com/the-booker-library/books/the-enchantress-of-florence — اخذ شدہ بتاریخ: 11 نومبر 2022
  20. https://thebookerprizes.com/the-booker-library/books/shalimar-the-clown — اخذ شدہ بتاریخ: 10 نومبر 2022
  21. https://thebookerprizes.com/the-booker-library/books/the-moors-last-sigh — اخذ شدہ بتاریخ: 10 نومبر 2022
  22. https://thebookerprizes.com/the-booker-library/books/the-satanic-verses
  23. https://thebookerprizes.com/the-booker-library/books/shame — اخذ شدہ بتاریخ: 11 نومبر 2022

بیرونی ربطترميم