سلیمان خطیب نے دکنی زبان میں شاعری کی۔ ان کی شاعری ملک گیرشہرت کی حامل تھی۔ ان کی شاعری میں کنڑی اور تلگو کے علاوہ مرہٹی زبان کے اثرات نمایاں نظرآتے ہیں۔ سلیمان خطیب کو دکن کے گاؤں ، گاؤں پھرنے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی محنت و لگن سے دکنی محاورات اور تشبیہات جمع کیں جن کا انھوں نے اپنی شاعری میں برمحل استعمال کیا۔ وہ عوامی شاعر تھے ان کی شاعری میں عوامی لہجہ اور عوامی جذ بات نظر آتے ہیں۔خطیب عوامی شاعر تھے انہوں نے عوامی موضوعات پر قلم اٹھایا تھا۔[1]

سلیمان خطیب
معلومات شخصیت
پیدائش 26 دسمبر 1922(1922-12-26)
ہمنا آباد
تاریخ وفات اکتوبر 22، 1978(1978-10-22) (عمر  55 سال)
قومیت بھارتی
عملی زندگی
پیشہ میکانیکل فورمین، محکمہ واٹر ورکس، گلبرگہ
وجہ شہرت مزاحیہ، مؤقت اور طنزیہ اردو شاعری

بعد از مرگترميم

ان کے مزاحیہ کلام کا آڈیو کیسٹ تیار ہوا، کرناٹک اردو اکیڈمی نے ’ان کے شعری مجموعۂ کلام ’ کیوڑے کا بن ‘‘ کا منظوم ترجمہ کرواکر شائع کیا، ان کا کلام پھر اردو سے کنڑ میں منتقل کیا گیا، مرحوم کی صاحبزادی ڈاکٹر شمیم ثریانے اپنے والد کی حیات و خدمات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی، مختلف مقامات سے کئی جرائد و ورسائل نے ان کی یاد میں خصوصی شمارے شائع کیے۔[2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم