گلی نلگنڈوی

تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اردو مزاحیہ شاعر

گلی نلگنڈوی، جن کا حقیقی نام خواجہ محی الدین خان تھا، تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اردو مزاحیہ شاعر تھے۔ ان کا کلام مزاحیہ شاعری، دکنی لب و لہجہ کی شاعری، اردو شاعری جس میں مقامی تیلگو زبان ہو، کی آئینہ دار تھی۔ اگر چیکہ موصوف کچھ سنجیدہ شاعری سعید اور امر جیسے قلمی ناموں سے بھی لکھ چکے ہیں۔

گلی نلگنڈوی
Gilli Nalgondavi
معلومات شخصیت
مقام پیدائش نلگنڈہ
وفات 29 دسمبر، 1979ء (43 سال)
عثمانیہ ہاسپٹل، حیدرآباد
قومیت بھارتی
دیگر نام موصوف کچھ سنجیدہ شاعری سعید اور امر جیسے قلمی ناموں سے بھی لکھ چکے ہیں۔
عملی زندگی
پیشہ مزاحیہ شاعر
وجہ شہرت مزاحیہ شاعری، دکنی لب و لہجہ کی شاعری، اردو شاعری جس میں مقامی تیلگو زبان کی بھی آمیزش کی گئی ہے۔
کارہائے نمایاں تاڑبن (مجموعہ کلام، جو بعد از وفات شائع ہوا)۔

حقیقی زندگیترميم

گلی نلگنڈوی کو نلگنڈہ میں پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ میں ایک ملازمت ملی تھی، تاہم وہ اس ملازمت سے زیادہ عرصے تک جڑے نہیں رہ سکے۔ 1962ء میں جب ناگرجنا ساگر ڈیم کا کام زور و شور سے جاری تھا، انہیں اس منصوبے کے ایک افسر نے ملازمت کا وعدہ کیا تھا۔ کافی جد و جہد کے بعد بھی بے روز گار ہی رہے اور اس منصوبے کی تکمیل تک بھی انہیں کچھ کام نہیں ملا۔ اس ناگفتہ بہ حالت زار پر انہوں نے ایک نظم تلاش روز گار لکھی تھی۔[1][2]


سیاسی آئینہ داریترميم

گلی نلگنڈوی کی شاعری میں سیاست اور حالات حاضری کی واضح آئینہ داری موجود تھی۔ انہوں نے غیر منقسم آندھرا پردیش کے وزیر اعلٰی مری چنا ریڈی کی مدح سرائی میں کلام لکھا، جنہوں نے اپنے سرکاری بنگلے کے آگے اردو میں تختی لگائی تھی۔ اسے انہوں نے خوش بختی سے تعبیر کیا۔ اس کے بر عکس انہوں نے اسی عہدہ پر فائز برہمانند ریڈی کا اپنی نظم میں آندھرا کا باشا قرار دیا، جس کی وجہ ان کے دل میں تلنگانہ کی آزادی کی چاہت تھی۔[1] [2]

ان کی مشہور نظموں میں ننہی بی، ماڈرن محبوبہ، لیڈر کی موت پر چمچوں کا ماتم، رہی تو کیا، نَی رہی تو کیا، بیگم سنبھل کے بیٹھو، قابل ذکر ہیں۔ ان کی شاعری میں شاید کسی بھی اردو شاعر سے کہیں زیادہ اور واضح تیلگو زبان اور دکنی بول کی آمیزش دانستہ طور دیکھی گئی ہے:

ہر رات پی کو آنا، مُجے پیٹنا رُلانا

ایو راما راما، ایو راما راما

اِیْگا گیلسیناوے بھاما، اِیْگا گیلسیناوے بھاما[1] [2]

انتقالترميم

گلی نلگنڈوی یرقان سے متاثر ہوئے اور حیدرآباد کے عثمانیہ ہاسپٹل میں شریک علاج رہے۔ وہ 29 دسمبر، 1979ء کو انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کا سبب حد سے زیادہ شراب کا پینا بتایا گیا۔[1] [2]

مجموعہ کلامترميم

ان کا مجموعہ کلام تاڑبن کے عنوان سے بعد از مرگ شائع ہوا۔ [1] [2]

اسٹڈی سنٹر موسوم کرنے کا مطالبہترميم

روزنامہ سیاست کے مدیر زاہد علی خان نے 2011ء میں گلی نلگنڈوی کے مجموعہ کلام اڑبن کو اپنے اخبار کے دفتر پر جاری کیا۔ اس رسم اجراء کے موقع پر انہوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ایک اسٹڈی سنٹر کو گلی نلگنڈوی کے نام سے معنون کرے۔[3]

مقالاتترميم

یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبہ اردو میں 2009ء میں ایک ایم فل مقالہ منظور ہوا جس کا عنوان گلی نلگنڈوی بطور طنز نگار اور مزاح نگار رکھا گیا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم