سورہ الجمعہ

قرآن مجید کی 62 ویں سورت
(سورہ جمعہ سے رجوع مکرر)

قرآن مجید کی 62 ویں سورت جس کے دو رکوع میں 11 آیات ہیں۔

الجمعہ
دور نزولمدنی
اعداد و شمار
عددِ سورت62
عددِ پارہ28
تعداد آیات11

نام

آیت 9 کے فقرے اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اس سورت میں نماز جمعہ کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں لیکن "جمعہ" بحیثیت مجموعی اس کے مضامین کا عنوان نہیں ہے، بلکہ دوسری سورتوں کے ناموں کی طرح یہ نام بھی علامت ہی کے طور پر ہے۔

زمانۂ نزول

پہلے رکوع کا زمانۂ نزول 7ھ ہے اور غالباً یہ فتح خیبر کے موقع پر یا اس کے بعد قریبی زمانے میں نازل ہوا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن جریر نے حضرت ابو ہریرہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے جب یہ آیات نازل ہوئیں۔ حضرت ابو ہریرہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کے متعلق یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح خیبر سے پہلے ایمان لائے تھے اور خیبر کی فتح ابن ہشام کے بقول محرم اور ابن سعد کے بقول جمادی الاولٰی میں ہوئی ہے۔ پس قرین قیاس ہے کہ یہودیوں کے اس آخری گڑھ کو فتح کرنے کے بعد اللہ تعالٰی نے ان کوخطاب کرتے ہوئے یہ آیات نازل فرمائی ہوں گی یا پھر ان کا نزول اس وقت ہوا ہوگا جب خیبر کا انجام دیکھ کر شمالی حجاز کی تمام یہودی بستیاں اسلامی حکومت کی تابع فرمان بن گئی تھیں۔

دوسرا رکوع ہجرت کے بعد قریبی زمانے میں ہی نازل ہوا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ طیبہ پہنچتے ہی پانچویں روز جمعہ قائم کر دیا تھا اور اس رکوع کی آخری آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ صاف بتا رہا ہے کہ وہ اقامت جمعہ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد لازماً کسی ایسے زمانے میں پیش آیا ہوگا جب لوگوں کو دینی اجتماعات کے آداب کی پوری تربیت ابھی نہیں ملی تھی۔

موضوع اور مضامین

جیسا کہ اوپر ہم بیان کر چکے ہیں، اس سورت کے دو رکوع دو الگ زبانوں میں نازل ہوئے ہیں۔ اسی لیے دونوں کے موضوع الگ ہیں اور مخاطب بھی الگ۔ اگرچہ ان کے درمیان ایک نوع کی مناسبت ہے جس کی بنا پر انھیں ایک سورت میں جمع کیا گیا ہے، لیکن مناسبت سمجھنے سے پہلے ہمیں دونوں کے موضوعات کو الگ الگ سمجھ لینا چاہیے۔

پہلا رکوع اس وقت نازل ہوا جب یہودیوں کی وہ تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں جو اسلام کی دعوت کا راستہ روکنے کے لیے پچھلے چھ سال کے دوران میں انھوں نے کی تھیں۔ پہلے مدینہ میں ان کے تین تین طاقتور قبیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی تک کا زور لگاتے رہے اور نتیجہ یہ دیکھا کہ ایک قبیلہ پوری طرح تباہ ہو گیا اور دو قبیلوں کو جلا وطن ہونا پڑا۔ پھر وہ سازشیں کر کے عرب کے بہت سے قبائل کو مدینے پر چڑھا لائے، مگر غزوۂ احزاب میں ان سب سے منہ کی کھائی۔ اس کے بعد ان کا سب سے بڑا گڑھ خیبر رہ گیا تھا جہاں مدینہ سے نکلے ہوئے یہودیوں کی بھی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔ ان آیات کے نزول کے وقت وہ بھی بغیر کسی غیر معمولی زحمت کے فتح ہو گیا اور یہودیوں نے خود درخواست کر کے وہاں مسلمانوں کے کاشتکاروں کی حیثیت سے رہنا قبول کر لیا۔ اس آخری شکست کے بعد عرب سے یہودی طاقت کا بالکل خاتمہ ہو گیا۔ وادی القریٰ، فدک، تیما، تبوک، سب ایک ایک کر کے ہتھیار ڈالتے چلے گئے، یہاں تک کہ عرب کے تمام یہودی اسی اسلام کی رعایا بن کر رہ گئے جس کے وجود کو برداشت کرنا تو درکنار، جس کا نام سننا تک انھیں گوارا نہ تھا۔ یہ موقع تھا جب اللہ تعالٰی نے اس سورت میں ایک مرتبہ پھر ان کو خطاب فرمایا اور غالباً یہ آخری خطاب تھا جو قرآن مجید میں ان سے کیا گیا۔ اسی میں انھیں مخاطب کر کے تین باتیں فرمائی گئی ہیں :

  1. تم نے اِس رسول کو اس لیے ماننے سے انکار کیا کہ یہ اُس قوم میں مبعوث ہوا تھا جسے تم حقارت کے ساتھ "اُمی" کہتے ہو۔ تمھارا زعم باطل یہ تھا کہ رسول لازماً تمھاری اپنی قوم ہی کا ہونا چاہیے۔ تم یہ فیصلہ کیے بیٹھے تھے کہ تمھاری قوم سے باہر کا جو شخص رسالت کا دعویٰ کرے وہ ضرور جھوٹا ہے، کیونکہ یہ منصب تمھاری نسل کے لیے مختص ہو چکا ہے اور "امیوں " میں کبھی کوئی رسول نہیں آ سکتا۔ لیکن اللہ نے انہی امیوں میں سے ایک رسول اٹھایا ہے جو تمھاری آنکھوں کے سامنے اس کی کتاب سنا رہا ہے، نفوس کا تزکیہ کر رہا ہے اور ان لوگوں کو ہدایت دے رہا ہے جن کی گمراہی کا حال تم خود جانتے ہو۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ اس کے فضل پر تمھارا اجارہ نہیں ہے کہ جسے تم دلوانا چاہو اسی کو وہ دے اور جسے تم محروم رکھنا چاہو اسے وہ محروم رکھے۔
  2. تم کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا، مگر تم نے اس کی ذمہ داری نہ سمجھی، نہ ادا کی۔ تمھارا حال اس گدھے کا سا ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اور اسے کچھ نہیں معلوم کہ وہ کس چیز کا بار اٹھائے ہوئے ہے۔ بلکہ تمھاری حالت گدھے سے بھی بدتر ہے۔ وہ تو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا، مگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو اور پھر کتاب اللہ کے حامل ہونے کی ذمہ داری سے فرار ہی نہیں کرتے، دانستہ اللہ کی آیات کو جھٹلانے سے بھی باز نہیں رہتے۔ اور اس پر تمھارا زعم یہ ہے کہ تم اللہ کے چہیتے ہو اور رسالت کی نعمت ہمیشہ کے لیے تمھارے نام لکھ دی گئی ہے۔ گویا تمھاری رائے یہ ہے کہ خواہ تم اللہ کے پیغام کا حق ادا کرو یا نہ کرو، بہرحال اللہ اس کا پابند ہے کہ وہ اپنے پیغام کا حامل تمھارے سوا کسی کو نہ بنائے!
  3. تم اگر واقعی اللہ کے چہیتے ہوتے اور تمھیں اگر یقین ہوتا کہ اس کے ہاں تمھارے لیے بڑی عزت اور قدر و منزلت کا مقام محفوظ ہے تو تمھیں موت کا ایسا خوف نہ ہوتا کہ ذلت کی زندگی قبول ہے مگر موت کسی طرح قبول نہیں۔ یہی موت کا خوف ہی تو ہے جس کی بدولت پچھلے چند سالوں میں تم شکست پر شکست کھاتے چلے گئے ہو۔ تمھاری یہ حالت آپ ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اپنے کرتوتوں سے تم خود واقف ہو اور تمھارا ضمیر خوب جانتا ہے کہ ان کرتوتوں کے ساتھ مرو گے تو اللہ کے ہاں اس سے زیادہ ذلیل و خوار ہو گے جتنے دنیا میں ہو رہے ہو۔

یہ ہے پہلے رکوع کا مضمون۔ اس کے بعد دوسرا رکوع، جو کئی سال پہلے نازل ہوا تھا، اس سورت میں لا کر اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے یہودیوں کے سبت کا مقابلہ میں مسلمانوں کو جمعہ عطا فرمایا ہے اور اللہ تعالٰی مسلمانوں کو متنبہ فرمانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے جمعہ کے ساتھ وہ معاملہ نہ کریں جو یہودیوں نے سبت کے ساتھ کیا تھا۔ یہ رکوع اس وقت نازل ہوا تھا جب مدینے میں ایک روز عین نماز جمعہ کے وقت ایک تجارتی قافلہ آیا اور اس کے ڈھول تاشوں کی آواز سن کر 12 آدمیوں کے سوا تمام حاضرین مسجد نبوی سے قافلے کی طرف دوڑ گئے، حالانکہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس پر یہ حکم دیا گیا کہ جمعہ کی اذان ہونے کے بعد ہر قسم کی خرید و فروخت اور ہر دوسری مصروفیت حرام ہے۔ اہل ایمان کا یہ کام ہے کہ اس وقت سب کام چھوڑ چھاڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف دوڑیں۔ البتہ جب نماز ختم ہو جائے تو انھیں حق ہے کہ اپنے کاروبار چلانے کے لیے زمین میں پھیل جائیں۔ احکام جمعہ کے بارے میں یہ رکوع ایک مستقل سورت بھی بنایا جا سکتا تھا اور کسی دوسری سورت میں بھی شامل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے خاص طور پر اسے یہاں اُن آیات کے ساتھ لا کر ملایا گیا جن میں یہودیوں کو ان کے انجام بد کے اسباب پر متنبہ کیا گیا ہے۔ اس کی حکمت ہمارے نزدیک وہی ہے جو جو اوپر بیان کی ہے۔