امام الحافظ شمس الدین سخاوی (پیدائش: جنوری 1428ء– وفات: یکم مئی 1497ء) بہت بڑے مؤرخ ،محدث ،فقیہ ،فرائض ،حساب،تفسیر اورعلم الاوقات کے ماہر تھے

شمس الدین سخاوی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1427[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 مئی 1497 (70 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt.svg مصر  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ حافظ ابن حجر عسقلانی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث،  مصنف،  مؤرخ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث،  تاریخ  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نامترميم

محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن ابوبکر بن عثمان ابو الخیرالسخاوی ہیں

ولادتترميم

شمس الدین سخاوی کی ولادت (831ھ ـ 1427ء)۔ میں قاہرہ میں ہوئی اصلا مصر کے ایک قریہ سخا سے تعلق رکھتے تھے

حصول علمترميم

بچپن میں قرآن حفظ کر لیا بہت سے متون انہیں حفظ تھے علم کے لیے بہت جگہوں کا سفر کیا بہت سے شیوخ سے استفادہ کیا سب سے زیادہ صحبت حافظ ابن حجر عسقلانی سے رہی بہت سے علوم میں تبحر حاصل کیاان میں فقہ ،نحو ،علم حدیث تاریخ نمایاں ہیں اکابر شیوخ کی طرف سے افتاء، تدریس اور املا کے مجاز تھے ۔

تصنیفاتترميم

علامہ زرکلی نے ان کی تصنیفات کی تعداد 200 لکھی چند ایک کے نام یہ ہیں*القول البدیع فی احکام علی الصلاۃ علی حبیب الشفیع*الغایہ فی شرح الھدایہ*الجواہر المجموعہ* الضوء اللامع فی اعيان القرن التاسع* فتح المغيث شرح فیہ الفیہ العراقی فی علوم الحديث* المقاصد الحسنہ فی بيان كثير من الاحاديث المشتہرة على الالسنہ* تلخيص تاريخ اليمن* طبقات المالكیہ* تاريخ المدينتين* الاعلان بالتوبيخ لمن ذم التاريخ۔

وفاتترميم

سخاوی کی وفات 902ھ 1497ء میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔[3] ا[4]

حوالہ جاتترميم

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14629256h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14629256h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. موسوعہ فقہیہ ،جلد7 صفحہ 436، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
  4. لموسوعہ العربيہ العالميہ http://www.mawsoah.net