شولا متھ فائراسٹون

شولا متھ فائراسٹون[7] ایک کینیڈی امریکی انتہا پسندانہ نسائیت کی حامی، مصنفہ اور فعالیت پسند ہے۔ انتہا پسندانہ نسائیت اور نسائیت کی دوسری لہر کی ابتدائی ترقی میں فائر اسٹون ایک مرکزی شخصیت تھی اور تین بنیاد پرست نسائیتی گروہوں: نیو یارک ریڈیکل ویمن، ریڈ اسٹاکنگس، اور نیو یارک ریڈیکل فیمنسٹس کی بانی رکن تھیں۔ ان بنیادی تحریکوں کے اندر، فائر اسٹون " فائر برانڈ" اور "فائر بال" کے طور پر جانی ہے۔[8] فائر اسٹون نے شکاگو میں دی نیشنل کانفرنس فار نیو پولیٹکس میں تقریر کرنے جیسی سرگرمی میں حصہ لیا۔[9]

شولا متھ فائراسٹون
(انگریزی میں: Shulamith Firestone ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Shulamith Bath Shmuel Ben Ari Feuerstein ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 7 جنوری 1945[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوٹاوا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 28 اگست 2012 (67 سال)[2][1][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نیویارک شہر  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Canada (Pantone).svg کینیڈا  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب راسخ العقیدہ یہودیت[4]  ویکی ڈیٹا پر (P140) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ انفصام[5][6]  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ واشنگٹن، سینٹ لوئس  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد سند یافتہ جامعہ  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنفہ،  حامی حقوق نسواں  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں دی ڈالیکٹک آف سیکس  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک فریدو مارکسیت،  انتہا پسندانہ نسائیت  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نظریاتترميم

شوالا متھ انتہا پسند نسائیتی مفکرین میں اہم قام رکھتی ہے، اور پرزور انداز میں کہتی ہے کہ تولید ہی خواتین پر ظلم کی اصل وجہ ہے۔ اس نے اپنی کتاب دی ڈائی لیکٹک آف سیکس میں لکھا ہے کہ پدرسری معاشرہ جو عورتوں کی منظم غلامی ہے اس کی جڑ میں صنف کی حیاتیاتی عدم مساوات ہے۔ فائر اسٹون کے عورت کے تولیدی رول پر خیالات مارکس اور اینگلس کے مادی معاشرے کے نظریات ہی کی بازگشت ہیں۔ مارکسیوں کے مطابق طبقاتی کشمکش اور معاشی طبقہ استبداد و ظلم کا مرکز ہے۔ انھوں نے صنفی طبقہ پر کم توجہ دی ہے۔ لیکن فائر اسٹون نے صنفی طبقہ کو مرکزی اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔ فائر اسٹون کی خواہش تھی کہ مردانکی اور زنانہ پن میں دھماکا ہو جائے لیکن اس کا خیال تھا کہ یہ دھماکا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک انسان پدرسری تولید، اور سرمایہ دارانہ پیداوار کو ترک نہیں کرتے۔ اس کے مطابق معاشرے میں ماں بننے کی خوشی دراصل ایک دھوکا ہے۔ دراصل حمل ایک بربری فعل ہے۔ علاوہازین ماں بننا دیگر کئی برائیوں کی جڑ ہے۔

فائر اسٹون کے اس تجزيے کوعورت کی مزید غلامی کا نقشہ کہہ کر بجا طور پر تنقید کی گئی ہے۔ اس کے ناقدین کہتے ہیں کہ خواتین پر ظلم اس کی زنانہ حیاتیات کا نتیجہ نہین بل کہ مرد کے اس حیاتیات پر کنٹرول کا نتیجہ ہے۔

ملاحظاتترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب Internet Speculative Fiction Database author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?107903 — بنام: Shulamith Firestone — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. Shulamith Firestone (1945-2012) — شائع شدہ از: 30 اگست 2012
  3. امریکن نیشنل بائیوگرافی آئی ڈی: https://doi.org/10.1093/anb/9780198606697.article.1501379 — بنام: Shulamith Firestone — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Shulamith Firestone
  5. The New York Times، New-York Daily Times اور The New-York Times — سے آرکائیو اصل فی 12 نومبر 2020
  6. The New Yorker — سے آرکائیو اصل فی 13 جنوری 2021
  7. Butnick، Stephanie (اگست 30, 2012). "Shulamith Firestone (1945–2012)". Tablet Magazine. 
  8. Faludi، Susan (2013-04-08). "Death of a Revolutionary". The New Yorker (بزبان انگریزی). ISSN 0028-792X. اخذ شدہ بتاریخ 08 اکتوبر 2019. 

بیرونی روابطترميم