صدقہ فطر یا فطرانہ، ایک خیرات سے متعلقہ اسلامی اصطلاح ہے۔ اسلام میں اس کو رمضان کے روزوں میں لغو اور بیہودہ کلام کی طہارت کے لیے قرار دیا گيا ہے۔[1] صدقہ فطر ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر یکم رمضان کی صبح طلوع ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے۔ اور اس کے ادا کرنے کا آخری وقت نماز عید سے پہلے تک ہے[2]


صدقۂ فطر

اخباری (اہل تشیع) میںترميم

ابن ابی بحزان اور علی بن حکم نے صفوان جمال سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے فطرہ کے متعلق دریافت کیا آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ چھوٹے بڑے آزاد و غلام ہر انسان پر ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع خشک انگور ہے۔( یعنی 2.830646 کلو گرام)[3]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. سنن ابی داؤد، کتاب زکاۃ،، باب زکاۃالفطر، حدیث 1609
  2. مفتی امجد علی اعظمی، بہار شریعت، جلد اوّل، حصہ 5، صفحہ 70، مکتبۃالمدینہ، کراچی
  3. من لا یحضرہ الفقیہ جلد 2، صفحہ 123، حدیث نمبر 2061، مترجم سید حسن امداد ممتاز الافضل (غازی پوری)