صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک ضلع۔ مالاکنڈ ايجنسي 1970 ميں دير، چترال اور سوات کي رياستوں کے اِدغام کے نتيجے ميں معرضِ وجود ميں آئي۔ ضلع ملاکنڈ دو تحصیلوں پر مشتمل ہے، 1(تحصیل درگئی سمہ رانیزي) اور2( تحصیل بٹخیلہ سوات رانیزي) ںاس سے پہلے ملاکنڈ ايجنسي کا انتظام وفاقي حکومت کے زير نگراني تھا۔ 1970 ميں يہ قبائلي علاقہ صوبائي حکومت کے زيرانتظام آيا۔ شمالي علاقوں کے راستے ميں ہونے کيوجہ سے ملاکنڈ ايجنسي کو تاريخي لحاظ سے خاص اہميّت حاصل ہے۔ یہاں پشتو زبان بولی جاتی ہے۔ درگئی فورٹ اور مليشيائي فوج سے بھی درگئي کي اہميّت واضح ہے۔ صوبائي کنٹرول ميں آنے کے بعد اس ضلع کي تجارت ميں کافي تبديلياں آئيں۔ ملاکنڈ قبائلي اور ديہي حيثّيت رکھتا ہے۔اب اس علاقے نے کافی ترقی ہے مگر سٹیل فیکٹریوں کے برمار جو صحت کے لحاظ کے برعکس ہیں۔ جو یہاں کے عوام انے والے وقت کنسر کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں،اللہ رحم کریں. "سڑے چی مڑ شی کور پی وران شی او پہ بعضو خلقو باندی وران شی وطنونہ"۔ کے مصداق آپ کا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع مالاکنڈ کا محل وقوع

حاجی عبد المتین خان(مرحوم) 1918ء-2021ء سوانح حیات اور قومی و فلاحی خدمات۔

حاجی عبد المتین خان مرحوم تحصیل سوات رانیزئی (ملاکنڈ) کی قومی،سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا اور روشن باب اور رانیزئی قوم کے ایک صدی پر محیط بیسویں صدی کا آخری ستارہ جو مختلف ادوار کے امین اور چشم دید گواہ تھے۔ حاجی عبد المتین خان 104 سال کی عمر میں بقاضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اپنی پیدائش کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ" مئی یا جون 1918ء میں جب خار کا گاؤں دو حصوں(ڈلہ) میں تقسیم تھا اور اس وقت ان دو ڈلوں کے درمیان خونریز لڑائی لڑی گئی اور اس لڑائی میں اس وقت کے ملک زرین خان اور سراج خان قتل ہوئے اور میرے والد زخمی ہوئے، گاؤں کے اس تاریخی واقعے کے چند ماہ بعد یعنی اکتوبر 1918ء میں میری ولادت ہوئی۔" ان کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی ذیلی شاخ رانیزئی اور سب شاخ غیبی خیل کی شاخ نور محمد خیل سے تھا۔ جو ضلع ملاکنڈ کے موضع خار میں آباد ہیں۔ ان کے والد کا نام عبد المجید خان تھا۔ 1930ء میں جب آپ کے والد صاحب فوت ہوئے تو اپنے والدین کے اکلوتے نرینہ اولاد ہونے کے سبب بارہ سال کی عمر میں اپنی برادری کے مشر چنے گئے اور قومی ملک بن گئے۔یوں اپنی قومی، سماجی اور سیاسی کیریئر کا آغاز کیا توابتدا سے کئی ایک مسائل کا سامنا کیا تو مجبوراً جماعت پنجم ہی میں تعلیم کو خیر آباد کہا۔1935ء میں آگرہ (ملاکنڈ) پر انگریز سرکار کی چڑھائی کے دوران گوروں کو قریب سے دیکھا اور انگریز پولیٹیکل ایجنٹ مسٹر بیسٹ (فرنگی) کی لاش کے چشم دید گواہ تھے۔ کم سنی میں اپنے والد کی وفات کے بعد1936ء میں ان کو ملک غلام محمد خان عرف مشر الہ ڈھنڈ خان نے اپنے قبیلے کی سرداری کی دستار پہنائی۔ آپ ملاکنڈ کے جرگے کے آخری ممبر تھے جو اکیسویں صدی میں حیات رہے۔ اس کے بعد بھی آپ محمد کریم خان عرف الہ ڈھنڈ خان کے قریبی ساتھی اور معتمد رہے ہیں۔ آپ کی پہلی شادی ڈھیری الہ ڈھنڈ کے مشہور خاندان عزی خیل ملک کور، ملک محمد کریم خان عرف مشر الہ ڈھنڈ کی بھانجی کے ساتھ 1946ء میں ہوئی لیکن پہلی شریکِ حیات کی وفات کے 1960ء کے لگ بھگ دوسری شادی کی۔ سابق ریاست سوات کے وزیر اعظم ملک حضرت علی ننھیالی رشتے سے آپ کے چچا تھے اور اس کے چھوٹے بھائی ملک احمد علی خان ( کمانڈر ان چیف سابق ریاست سوات)، آپ کی پہلی بیوی کی وفات کے بعد1960ء کے لگ بھگ میں ان کے سسر بنے۔ سابق گورنر خیبر پختونخوا میجر جنرل( ریٹائرڈ) خورشید علی خان آپ کے برادر نسبتی تھے۔انگریز سرکار کی منعقدہ مشہور زمانہ خار ڈاگ میلہ جو ہر سال منعقد ہوتا تھا۔ جس میں مختلف قسم کے مقابلے کرائے جاتے تھے، آپ نے ان میں نشانہ بازی اور بوری ریس میں بذات خود حصہ لیا تھا اور اس منعقدہ ڈاگ میلے کی روداد کو بطور یاداشت محفوظ کیا۔آپ شروع سے ہی سے ملاکنڈ خاص سے روزنامہ نوائے وقت اخبار باقاعدگی سے منگواکر پڑھنے ملکی سیاست میں ان کی دلچسپی بڑھی تو اس وقت کی مشہور زمانہ "خدائی خدمت گار تحریک" سے وابستہ ہو گئے اور اپنی آخری سانسوں تک اس تحریک سے اپنا ناتا قائم رکھا۔ 1946ء کے انتخابات میں سرخ پوشوں کا ساتھ دیا اور ان کے لیے انتخابی مہم چلائی۔ 1960ء کی دہائی میں ملاکنڈ کے قومی جرگے کے ارکان تھے اور صدر ایوب خان کے خلاف ریفرنڈم میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا۔ آپ کو اس تاریخی ریفرنڈم کے دوران قلنگئی چوکی میں نظر بند کیا گیا تھا لیکن اس دباؤ کے باوجود آپ نے محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں دیگر قوم پرست رہنماؤں کی طرح ووٹ کاسٹ کیا۔ 1970ء کی کسان تحریک کے دوران ان کے گھر پر فائرنگ ہوئی اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور اسی تحریک میں ڈھیری جولگرام کے مکرم خان کو قتل کیا گیاتھا۔ 1977ء میں دیگر قوم پرست رہنماؤں سوات کے افضل خان لالا ، مردان کے امیر زادہ خان، سخاکوٹ کے راحت خان بابا، بٹ خیلہ کے غلام نادر لالا اور چارسدہ کے نثار محمد خان کے ہمراہ سینٹرل جیل پشاور میں تقریباً چھ ماہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 1980ء میں تحصیل بٹ خیلہ کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر منتخب کیے گئے۔ 80ء کی دہائی میں خار اور ڈھیری کے درمیان جب ایک پہاڑ کا تنازع اٹھا تو آپ نے اپنی فہم و فراست اور قانونی تجربے کی بنیاد پر 20 سال بعد اپنے گاؤں خار کے حق میں اس کی ملکیت تسلیم کروائی۔ 1901ء میں انگریز سرکار کی طرف سے نہر اپر سوات کے لیے بطورِ رائلٹی( جسے بند ماجب کہا جاتا ہے) کا کیس لڑکر 1995ء سے 2000 فی صد اضافہ کیا اور اس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ بھی تحصیل رانیزئی کی اقوام کے حق میں کیا جس سے علاقے کے کسانوں اور زمینداروں کو بہت فائدہ پہنچا۔اس کے علاوہ موضع خار کے سامنے دیر پائین کے گاؤں میاں بڑنگولہ کے درمیان زمین کی ملکیتی اور حدودات کے تنازعے کو بھی اپنی دانشمندی اور استدلالیت سے حل کیا اور دونوں گاؤں کے درمیان حدبندی کرائی۔ گورنمنٹ ہائیر سکینڈری اسکول خار کے عقب میں واقع گراؤنڈ( جس میں مرحوم کا جنازہ بھی پڑھا گیا) کی ملکیت کا کیس آپ نے 16 سال تک محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری اسکول کے ساتھ پشاور ہائی کورٹ میں لڑا اور آخر کار وہ کیس اپنے گاؤں کے حق میں جیتا، آج اسی گراؤنڈ پر گاؤں کے بچے اور جوان مختلف کھیل کھیلتے ہیں۔ آپ نے مٹکنی اور طوطہ کان کے باشندوں سلطان خان خیل اور باجوڑ کے غرشموزئی کی اقوام کے مابین پہاڑ اور حدودات کے تنازع میں بطور ثالث اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور اس تصفیے کو تکمیل کے قریب پہنچا دیاتھا لیکن بیماری کی وجہ آپ اس زمہ داری کو مزید نبھانے سے قاصر رہے اور ان کی جگہ آپ کے بڑے بیٹے حبیب اللہ خان اس ثالثی جرگے میں ممبر بنے۔ خار اور پیران گاؤں کے درمیان پہاڑ کے تنازع میں بھی آپ نے بھرپور کردار ادا کیا اور اپنے گاؤں خار کے حق میں حد بندی کو تسلیم کروایا۔آپ نے دریائے سوات کے کنارے واقع شولگرہ میں شیخ ملی بابا کی تقسیم( جسے پشتو می خسنڑے کہتے ہیں) کے آٹھ خسنڑے جو ہر دس سال بعد ہوا کرتا تھا، آپ نے اپنی فہم و فراست اور عقلی دلائل کے سبب کیے لیکن 2010ء کے بعد ان کی بیماری اور ناتوانی کے سبب یہ سلسلہ رک گیا۔ آپ کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں اور کارکردگی اظہر من الشمس ہیں۔ آپ کی سمجھ بوجھ کا ایک زمانہ معترف ہے۔کہیں بھی کوئی قومی یا ملکیتی مسئلہ ہو آپ ان سب میں پیش پیش رہے۔ آپ نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا اور جب بھی اجتماعی و قومی مفاد کی بات ہوتی تو اپنے ذاتی مفاد کو پس پشت ڈالا، اس سلسلے میں آپ نے بارہا جانی اور مالی نقصان برداشت کیا۔ آپ نے سادہ زندگی گزاری اور صوم و صلوٰۃ کے پابند رہے۔ آپ اصول پسند انسان تھے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1999ء میں عوامی نیشنل پارٹی کی ضلعی قیادت سے اصولی اور نظریاتی اختلافات کی وجہ سے عملی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے اور مرتے دم تک اصولی اختلاف قائم رہا۔ اس کے باوجود ایک سچے اور مخلص خدائی خدمت گار کی طرح عوامی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ موضع خار اور اس کے مضافات میں شجر کاری،باغبانی اور زراعت کے نئے بیجوں و تخموں کے کاشت کرنے کا رواج اور اس کا سہرا بھی آپ ہی کو جاتا ہے۔ جمہوریت اور عوام کے لیے کئی عشروں پر محیط طویل جدو جہد کی۔بطور جرگہ ممبر ہمیشہ حق کا ساتھ دیا چاہے مخالف کوئی بھی ہوتا۔ 104سال کی طویل اور بھرپور زندگی گزارنے کے بعد آپ اس دارفانی سے رخصت ہو گئے اور انھیں تحریک مجاہدین کی نامور ہستی مولانا عبدالحئ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

شماریات

ترمیم
  • ضلع کا کُل رقبہ 952 مربع کلوميٹر ہے۔
  • یہاں في مربع کلومیٹر 596 افراد آباد ہيں
  • سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 567000 تھی
  • دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔
  • کُل قابِل کاشت رقبہ 45660 ہيکٹيرز ہے۔