عامر ملک (پیدائش: 3جنوری 1963ء منڈی بہاؤالدین) ایک پاکستانی سابق کرکٹ کھلاڑی تھے، جنھوں نے 1987ء سے 1994ء تک 14 ٹیسٹ اور24 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے۔ وہ دائیں ہاتھ کے ایک بلے باز اور دائیں ہاتھ ہی کے باولر تھے تاہم ان کا بیٹنگ رول بطور وکٹ کیپر تھا انھوں نے پاکستان کے علاوہ زرعی ترقیاتی بینک اف پاکستان، لاہور، پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز،اور پاکستان ریلویز کی طرف سے بھی کرکٹ مقابلوں میں حصہ لیا

عامر ملک ٹیسٹ کیپ نمبر 108
ذاتی معلومات
پیدائش3 جنوری 1963ء
منڈی بہاؤالدین، پنجاب
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کا فاسٹ میڈیم گیند باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 108)7 دسمبر 1987  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹیسٹ5 اکتوبر 1994  بمقابلہ  آسٹریلیا
پہلا ایک روزہ (کیپ 65)18 مارچ 1988  بمقابلہ  ویسٹ انڈیز
آخری ایک روزہ14 اکتوبر 1994  بمقابلہ  آسٹریلیا
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ
میچ 14 24
رنز بنائے 565 556
بیٹنگ اوسط 35.31 25.27
100s/50s 2/3 -/5
ٹاپ اسکور 117 90
گیندیں کرائیں 156 120
وکٹ 1 3
بولنگ اوسط 89.00 28.66
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ n/a
بہترین بولنگ 1/0 2/35
کیچ/سٹمپ 15/1 13/3
ماخذ: [1]، 4 فروری 2006

ٹیسٹ کیریئر

ترمیم

عامر ملک کو انگلستان کے خلاف 1987ء میں فیصل آباد کے مقام پر اپنا ڈیبیو شروع کرنے کا موقع ملا تھا۔ پہلے ٹیسٹ میں انھوں نے صرف 5 رنز بنائے مگر فیلڈنگ میں ان کی اعلیٰ کارکردگی پر سب حیران تھے۔ انھوں نے گراہم گوچ، بل ایتھے، ڈیوڈ چیپل اور نیل فاسٹر کے 4 کیچز تھامے۔ کراچی کے اگلے ٹیسٹ میں وہ 98 ناقابل شکست رنز بنانے میں کامیاب رہے تاہم بدقسمتی سے صرف 2 رنز کی کمی کے باعث سنچری نہ بنا سکے۔ انھوں نے پاکستان کے سکور 353 میں 329 گیندوں پر 12چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے سکور کو خاطر خواہ مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انگلستان کی ٹیم 258 رنز بنا سکی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 1988ء میں وہ 32 اور 2 رنز بنا سکے تاہم انھوں نے وکٹوں کے پیچھے 3 کیچ اور ایک سٹمپ کرکے زیادہ مایوس نہیں کیا۔ 1991ء میں آکلینڈ کے مقام پر نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی 56 رنز کی عمدہ باری نظر آئی تاہم بھارت کے خلاف 1989ء میں مسلسل دو سنچریاں ان کی روایتی حریف کے خلاف بہترین آئینہ دار تھیں۔ انھوں نے فیصل آباد کے ٹیسٹ میں 117 اور لاہور کے ٹیسٹ میں 113 رنز بنا کر تسلسل کے ساتھ بولرز پر اپنی برتری ثابت کردی تاہم اس کے بعد وہ اگلے سیزن میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکے۔ 4 سال کے بعد 1994ء میں انھیں آسٹریلیا کے خلاف راولپنڈی میں اپنا آخری ٹیسٹ کھیلنے کا موقع ملا جہاں پہلی اننگ میں وہ صرف 11 تک محدود رہے لیکن دوسری اننگ میں انھوں نے 65 رنز بنا کر اپنے کیریئر کو بہترین انداز میں اختتام پزیر کیا۔

ون ڈے کیریئر

ترمیم

پہلے ون ڈے میں وہ صرف 12 رنز ہی بنا سکے بلکہ اگلے 3,4 میچوں میں بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے خلاف وہ زیادہ رنز کرنے سے قاصر رہے۔ مگر پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف ان کے 90 رنز اور 2/35 کی کارکردگی نے انھیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دلوایا۔ بینسن اینڈ ہیجز ورلڈ سیریز کے اس میچ میں پاکستان نے 7 وکٹوں پر 216 رنز بنائے۔ عامر ملک 135 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے 90 رنز کی عمدہ اننگ کھیلنے کے بعد سائمن اوڈنل کے ہاتھوں میکڈرمٹ کی گیند پر آئوٹ ہوئے۔ جاوید میانداد 31 اور عمران خان 23 کے ساتھ ٹیم کے سکور کو 216 تک لے جانے میں کامیاب رہے۔ آسٹریلیا کی پوری ٹیم 178 پر ہی پویلین لوٹ گئی۔ سائمن اوڈنل 46 کے ساتھ نمایاں سکورر رہے اور پاکستان نے عامر ملک کے 35/2 کی وجہ سے اس میچ میں 38 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ برسبین کے اگلے میچ میں عامر ملک نے ایک مرتبہ پھر بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے 7 وکٹوں پر 257 سکور کیے۔ عامر ملک ایک بار پھر 119 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 75رنز بنا کر نمایاں سکورر تھے۔ عمران خان 67 اور جاوید میانداد 31 کے ساتھ معاون ثابت ہوئے تھے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم 203 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ عامر ملک نے 20 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آئوٹ کیا تھا۔ وسیم اکرم 3، عمران خان اور عاقب جاوید 2,2 وکٹوں کے ساتھ فتح گر ثابت ہوئے۔ عمران خان کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد تسلسل کے ساتھ عامر ملک کی کارکردگی معیاری نہ رہی اور وہ معمولی سکور پر آئوٹ ہوتے رہے۔ 1989ء میں جالندھر کے مقام پر ویسٹ انڈیز کے خلاف انھوں نے 77 رنز کی ایک عمدہ باری کھیلی۔ بھارت کے خلاف کولکتہ میں ان کے 51 رنز بھی بہت اعلیٰ تھے۔ 1989ء میں پرتھ کے مقام پر سری لنکا کے خلاف انھوں نے ایک اور عمدہ اننگز 69 رنز کے ساتھ اختتام پزیر کی۔ عامر ملک کا آخری ون ڈے میچ 1994ء میں آسٹریلیا کے خلاف ملتان کے مقام پر تھا جہاں انھوں نے 20 رنز سکور کیے۔

اعداد و شمار

ترمیم

عامر ملک نے 14 ٹیسٹ میچوں کی 19 اننگز میں 3 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 565 رنز سکور کیے۔ 35.31 کی اوسط سے بننے والے اس مجموعے میں 117 ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور تھا۔ انھوں نے 2 سنچریاں اور 3 نصف سنچریاں بھی ٹیسٹ کرکٹ کے مقابلوں میں مکمل کیں۔ 15 کیچز بھی ان کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ عامر ملک نے 24 ایک روزہ مقابلوں کی 23 اننگز میں ایک دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 556 کر 25.27 کی اوسط سے مکمل کیے۔ ان میں 90 اس کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ 5 نصف سنچریاں انھوں نے ون ڈے میچوں میں سکور کی تھیں لیکن بدقسمتی سے وہ کسی ایک اننگ میں تیسرے ہندسے تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔ 13 کیچز اور 3 سٹمپ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں ان کی بطور وکٹ کیپر کارکردگی کا خلاصہ تھی۔ 135 فرسٹ کلاس میچوں کی 213 اننگز میں 17 دفعہ بغیر آئوٹ ہوئے 39.64 کی اوسط سے انھوں نے 7770 رنز اکٹھے کیے جن میں 200 ناقابل شکست رنز ان کے فرسٹ کلاس کیریئر کا بہترین سکور تھا۔ 22 سنچریاں اور 34 نصف سنچریاں بھی ان کے کھاتے میں جمع ہیں۔ 102 کیچ اور 7 سٹمپ کے ساتھ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر اختتام پزیر ہوا۔ عامر ملک نے ٹیسٹ میچوں میں 1، ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں 3 اور فرسٹ کلاس میچوں میں 21 وکٹیں بھی حاصل کر رکھی تھیں۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم