عبد اللہ بن سہیلؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابتدائی اسلام لانے والے صحابہ میں شامل ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ میں مشرف باسلام ہوئے۔حبشہ کی دوسری ہجرت کے بعد مدینہ ہجرت کی۔غزوہ بدر میں شریک ہوئے اس کے بعد تمام غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ کے دور خلافت میں جنگ یمامہ میں 12ھ میں شہادت نوش فرمائی۔

عبد اللہ بن سہیل
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبد الله بن سهيل ؓ
پیدائش سنہ 594ء (عمر 1429–1430 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو سہیل
والد سہیل بن عمرو
والدہ فاختہ بنت عامر بن نوفل بن عبد مناف[1]
رشتے دار بھائی: ابو جندل بن سہیل
عملی زندگی
نسب العامری القرشی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی
جنگ یمامہ

نام و نسب

ترمیم

عبد اللہ ؓ نام، ابوسہیل کنیت ، والد کا نام سہیل اور والدہ کا نام فاختہ بنت عامر تھا شجرۂ نسب یہ ہے: عبد اللہ بن سہیل بن عمرو بن عبد شمس بن عبد ودبن نصربن مالک بن جبل بن عامر بن لوی۔،ماں کا نام فاختہ تھا، نانہالی سلسلہ نسب یہ ہے،فاختہ بنت عامر بن نوفل بن عبدمناف بن قصی۔ [2] [1]

اسلام

ترمیم

مکہ مکرمہ میں ایمان لائے اور سرزمین حبش کی دوسری ہجرت میں شریک ہوئے۔ حبش سے واپس آئے توان کے والد نے پکڑ کر مقید کر لیا اور سخت اذیت پہنچائی، عبد اللہ ؓ نے ظاہری طور پر اسلام کو خیر باد کہہ دیا غزوۂ بدر میں والد شرک کی حمایت پر اپنے ساتھ لے گئے، لیکن انھیں کیا خبر تھی کہ جو دل نورِ ایمان سے ایک دفعہ روشن ہو چکا ہے وہ کبھی تاریک نہیں ہو سکتا؟ غرض میدانِ بدر میں جب حق وباطل کے فدائی ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوئے تو عبد اللہ شرک کا ظاہری جامہ چاک کرکے آغاز جنگ سے پہلے لوائے توحید کے نیچے آ کھڑے ہوئے۔ [3]

غزوہ بدر کی شرکت

ترمیم

غزوہ بدر میں کفار کے ساتھ مل کر میدان جنگ میں آئے موقع پاکر کفار سے نکل گئے اور مسلمانوں کی طرف سے غزوہ میں حصہ لیا۔[4]

دیگر غزوات

ترمیم

غزوۂ بدر سمیت تمام مشہور معرکوں میں جانبازی وپامردی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب تھے، مکہ فتح ہوا تو انھوں نے دربارنبوت میں اپنے والد کے لیے امان طلب کی، آپﷺ نے امان دے کر حاضرین سے فرمایا: "سہیل بن عمرو کو کوئی نگاہِ حقارت سے نہ دیکھے، قسم ہے کہ وہ نہایت ذی عزت و دانشمند ہے، ایسا شخص محاسن اسلام سے ناواقف نہیں ہو سکتا اوراب تو اس نے دیکھ لیا ہے کہ وہ جس کا حامی تھا اس میں کوئی منفعت نہیں۔ عبد اللہ ؓ نے اپنے والد کے پاس آکر رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنایا اورامان کی بشارت دی تو ان کا دل اپنے صاحبزادہ کی سعادت مندی پر تشکر آمیز شفقت سے لبریز ہو گیا، بولے، خداکی قسم یہ بچپن ہی سے سعادت مند ونیکو کار ہے۔[5] [1][6][7]

شہادت

ترمیم

عبد اللہ ؓ تقریباً 38 برس کی عمر پاکر 12ھ میں یمامہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج کے لیے مکہ آئے تو ان کے والد سہیل کے پاس تعزیت کے لیے گئے، صابرو شاکر باپ نے کہا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ شہید اپنے 70 اہل خاندان کی شفاعت کرے گا، مجھ کو امید ہے کہ میرا لڑکا اس وقت مجھ کو فراموش نہ کرے گا۔[8] [9]

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب پ "الطبقات الكبرى لابن سعد - عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سهيل"۔ 19 مارچ 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 نومبر 2017 
  2. (ابن سعد،جز3،ق1:255)
  3. سير أعلام النبلاء» الصحابة رضوان الله عليهم» عبد الله بن سهيل آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  4. اصحاب بدر،صفحہ 103،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  5. استیعاب جلد1:394
  6. أسد الغابة في معرفة الصحابة - عبد الله بن سهيل العامري آرکائیو شدہ 2017-07-29 بذریعہ وے بیک مشین
  7. الإصابة في تمييز الصحابة - عبد اللَّه بن سهيل بن عمرو آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  8. طبقات ابن سعد قسم اول جز 3 :296
  9. تاريخ دمشق لابن عساكر » حرف الباء » ذكر من اسمه سهيل » سُهَيْلُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ شَمْسِ آرکائیو شدہ 2017-09-06 بذریعہ وے بیک مشین