علی سید محمد مصطفی البکری
علی سید محمد مصطفی البکری (پیدائش: 1966ء) ایک مصری نژاد جنگجو ہیں جو القاعدہ کے سینئر رکن اور تربیتی ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ علی سید محمد مصطفی البکری کو القاعدہ کے اندر ایک اہم مقام حاصل ہے اور وہ تنظیم کے عسکری تربیت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔[1]
علی سید محمد مصطفی البکری | |
---|---|
(عربی میں: علي سيد محمد مصطفى البكري) | |
القاعدہ تنظیم کا رہنماء
| |
معلومات شخصیت | |
پیدائش | 1966ء (اندازاً) مصر |
رہائش | ایران |
قومیت | مصری |
مذہب | اسلام |
رکن | مصری اسلامی جہاد ، القاعدہ |
عملی زندگی | |
پیشہ | القاعدہ کے سینئر رکن |
مادری زبان | مصری عربی |
پیشہ ورانہ زبان | عربی ، مصری عربی |
وجہ شہرت | القاعدہ میں کلیدی حیثیت |
عسکری خدمات | |
وفاداری | القاعدہ |
درستی - ترمیم |
ابتدائی زندگی
ترمیمعلی سید محمد مصطفی البکری 1966ء کے قریب مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں کم معلومات دستیاب ہیں، تاہم وہ جوانی میں شدت پسندی کی طرف مائل ہوئے اور القاعدہ میں شمولیت اختیار کی۔[2]
القاعدہ میں شمولیت اور کردار
ترمیمعلی سید محمد مصطفی البکری نے القاعدہ میں تربیت اور عسکری سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں القاعدہ کے تربیتی کیمپس کی نگرانی سونپی گئی اور انہوں نے کئی شدت پسندوں کو تربیت فراہم کی۔ وہ القاعدہ کے ساتھ ساتھ طالبان کے ساتھ بھی عسکری تعاون کرتے رہے ہیں۔[3]
عالمی سطح پر مذمت اور پابندیاں
ترمیمعلی سید محمد مصطفی البکری کو عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور ان پر متعدد بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر ممالک نے انہیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے اور ان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائیاں جاری ہیں۔[4]
القاعدہ کے تربیتی نیٹ ورک میں اثر و رسوخ
ترمیمعلی سید محمد مصطفی البکری کا القاعدہ کے تربیتی نیٹ ورک میں بڑا اثر ہے۔ ان کی نگرانی میں القاعدہ نے مختلف شدت پسندوں کو عسکری تربیت فراہم کی، جو تنظیم کی کارروائیوں کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوئی۔[5]
موجودہ صورت حال
ترمیمعلی سید محمد مصطفی البکری کی موجودہ حالت اور مقام کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں، تاہم ان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائیاں جاری ہیں۔