عمرو بن امیہ

(عمرو بن امیہؓ سے رجوع مکرر)
عمرو بن امیہ
معلومات شخصیت
مدفن مدینہ
کنیت ابو امیہ
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں بیر معونہ،

نام ونسبترميم

عمرونام،ابوامیہ کنیت،سلسلۂ نسب یہ ہے،عمروبن امیہ بن خویلد بن عبد اللہ ابن ایاس بن عبید بن ناثرہ بن کعب بن جدی بن حمزہ بن عبدمناۃ بن کنانہ کنانی۔ [1]

اسلامترميم

بدر اوراحد کی لڑائیوں میں مشرکین کے ساتھ تھے اورمسلمانوں کے خلاف نہایت شجاعت اورپامردی سے لڑے؛لیکن بدر واحد کے معرکوں میں جو شخص مسلمانوں کے خون سے پیاس بجھانے آیا تھا،وہ احد کے بعد اسلام کے سرچشمہ ایمان سے سیراب ہو گیا۔ [2]

بیرمعونہترميم

اسلام لانے کے بعد سب سے پہلے بیر معونہ میں شریک ہوئے، اس کا واقعہ یہ ہے کہ 4ھ میں ابوبراء قبیلہ کلاب کے رئیس نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی کہ آپ کچھ مسلمان ہمارے قبیلہ میں دعوت اسلام کے لیے بھیجیں، آپﷺ نے فرمایا مجھ کو نجد والوں کی طرف سے خطرہ ہے؛لیکن اس کی ضمانت کے بعدستر آدمیوں کی جماعت منذربن عمروکی ماتحتی میں بھیج دی،ان لوگوں نے بیر معونہ پہنچ کر قیام کیا اورحرام بن ملحان کے ہاتھ آنحضرتﷺ کا دعوت نامہ عامر بن طفیل کے پاس بھجوادیا، اس نے ان کو قتل کر دیا، اورعصیہ،رعل اورذکوان وغیرہ کے قبائل میں منادی کرادی، یہ سب جمع ہو گئے،یہاں جب حرام کی واپسی میں دیر ہوئی تو مسلمان ان کی تلاش میں نکلے؛لیکن آگے بڑھ کر رعل وذکوان وغیرہ کا سامنا ہو گیا ان سب نے مل کر مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کی پوری جماعت تہ تیغ کردی،صرف حضرت عمروبن امیہؓ کو عامر بن طفیل نے یہ کہہ کر کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذرمانی تھی، چھوڑیا،اورنشان ذلت کے طورپر پیشانی کے بال تراش لیے،یہ واپس ہو رہے تھے کہ راستہ میں دو کلابی شخص ملے، ان دونوں کو آنحضرتﷺ نے امان دیدی تھی؛لیکن عمروؓ کو معلوم نہ تھا، اس لیے دونوں کو قصاص میں قتل کر دیا، آنحضرتﷺ کو خبر ہوئی تو آپ کو بہت صدمہ ہوا اوردونوں کی دیت اداکی۔ [3]

حضرت عمروؓ کی سفارت اورنجاشی کا اسلامترميم

6ھ میں آنحضرتﷺ نے ان کو نجاشی کے پاس دعوت اسلام کا خط لے جانے پر مامور کیا، اس خط میں دعوت اسلام کے علاوہ مہاجرین کی میزبانی کی سفارش اورحضرت ام حبیبہؓ جو اس وقت مہاجرین حبش کے ساتھ حبشہ میں موجود تھیں کے ساتھ نکاح کا پیام بھی تھا، اس دعوت نامہ کے اثر سے نجاشی حضرت جعفر کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوا اورآنحضرتٓﷺ کے نامہ مبارک کے جواب میں ایک عریضہ لکھا،جس میں اسلام کا اقرار،قدم بوسی کی تمنا اورمہاجرین کی میزبانی وغیرہ کا ذکر تھا، اس کے بعد نجاشی نے حضرت ام حبیبہؓ کو آنحضرت ﷺ کی طرف سے نکاح کا پیام دیا اورخود آنحضرتﷺ کی طرف سے وکیل بنایا اورنکاح کے بعد آپ کی طرف سے چار سودینار مہر معجل ادا کیا۔ [4]

ایک سریہترميم

اس سفارت کے بعد ابوسفیان کی ایک شرارت کا بدلہ لینے کی خدمت سپرد ہوئی،اس کا واقعہ یہ ہے کہ ابوسفیان قریش کے کچھ لوگوں کو آنحضرتﷺ کے قتل پر آمادہ کررہا تھا، ایک اعرابی نے اس کا بیڑا اٹھایا اورابوسفیان نے ضروری سامان مہیا کر دیا، وہ مدینہ پہنچا، آنحضرتﷺ مسجد میں تشریف رکھتے تھے یہ بھی وہیں پہنچا؛لیکن آنحضرتﷺ اس کی نیت تاڑ گئے، فرمایا کہ یہ کوئی فریب کرنا چاہتا ہے،اعرابی حملہ کرنے ہی والا تھا کہ حضرت اسید بن حضیرؓ نے جھپٹ کر دبوچ لیا،اعرابی کے ازار سے خنجر گرا، جرم کھلا ہوا تھا، کسی شاہد کی ضرورت نہ تھی، لیکن رحمۃ اللعالمین نے معاف کر دیا، اس نے پورا پورا واقعہ سنایا؛چونکہ اس جرم کا اصل بانی ابو سفیان تھا اوراس کے بدولت اہل مدینہ اورقریش کی دائمی جنگ کی سی حالت قائم تھی، اس لیے آنحضرتﷺ نے عمروبن امیہ اورسلمہ بن اسلم کو اس غرض سے بھیجا کہ اگر موقع ملے تو اس فتنہ کے بانی کو ہمیشہ کےلیے خاموش کر دیا جائے، یہ دونوں بزرگ مکہ پہنچے؛لیکن معاویہ نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور قریش کو خبر کردی،ان لوگوں نے کہا، ان کا آنا بے سبب نہیں ہے اور یہ کوئی نہ کوئی حرکت ضرور کریں گے ،ان لوگوں نے جب دیکھا کہ راز فاش ہو گیا تو مکہ سے نکل گئے ،راستہ میں عبیداللہ بن مالک اوربنو ہذیل کا ایک آدمی ملا، عمروؓ نے عبیداللہ کا اورسلمہ نے دوسرے شخص کا کام تمام کر دیا، اس کے بعد قریش کے دو جاسوس ملے جو انہیں کی تلاش میں پھر رہے تھے، ان دونوں بزرگوں نے ان میں سے بھی ایک کو قتل کر دیا اورایک کو پکڑ کر آنحضرتﷺ کی خدمت میں لائے۔ [5]

وفاتترميم

امیر معاویہؓ کے آخری عہدامارت 60ھ کے قبل مدینہ میں وفات پائی۔ [6]

اولادترميم

جعفر،عبد اللہ اورفضل تین لڑکے یادگارتھے۔ [7]

فضل وکمالترميم

فضل وکمال میں گو کوئی ممتاز حیثیت نہ تھی،تاہم ان کی 20 روایات حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں،تلامذہ میں ذیل کے نام ہیں،عبد اللہ،جعفر فضل ،زبرقان شعبیٰ، ابوسلمہ بن عبدالرحمن،ابوقلابہ جرمی اورابو المہاجر۔ [8]

عام حالاتترميم

شجاعت وشہامت اورجرات ودلیری میں عرب کے ممتاز لوگوں میں تھے، [9] اس لیے آنحضرتﷺ اہم امور کی تکمیل ان کے سپرد فرماتے تھے۔ [10]

حوالہ جاتترميم

  1. (اسد الغابہ:4/86)
  2. (استیعاب:2/443)
  3. (ابن سعد حصہ مغازی:36)
  4. (طبری:1569،1570)
  5. (ابن سعد،جز2،ق1:68)
  6. (تہذیب الکمال:287)
  7. (تہذیب التہذیب:8/6)
  8. (تہذیب الکمال:287)
  9. (تہذیب التہذیب حوالہ مذکور)
  10. (اسدالغابہ:4/186)