فاطمہ خاتون بنت نجم الدین ابی الشکور ایوب بن شادی بن مروان، سِتُّ الشّامِ (شام کی سب سے بہترین خاتون) کے لقب سے مشہور تھیں، صلاح الدین ایوبی کی بہن ہیں۔ بعض مؤرخین ان کا نام "زمرد" بھی بتاتے ہیں جوغلط ہے۔ یہ ان کے والد نجم الدین ایوب کا لقب تھا جو اپنے بھائی اسد الدین شیر کوہ کے ساتھ نور الدین زنگی وزرا میں سے تھے اور یہ لقب انھیں سلطان نے ہی دیا تھا۔[1]

فاطمہ خاتون
معلومات شخصیت
مقام پیدائش دمشق  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 جنوری 1220  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مدرسہ الشامیہ الکبٰری  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Ayyubid Dynasty.svg سلطنت ایوبیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات محمد بن شیرکوہ  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد نجم الدین ایوب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ست الملک خاتون  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
صلاح الدین ایوبی،  سیف الاسلام طغتکین،  ملک عادل،  توران شاہ بن ایوب،  ربیعہ خاتون  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فاطمہ کی پہلی شادی عمر بن لاجین سے ہوئی تھی، لیکن کچھ ہی عرصہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ پھر دوسری شادی ان کے چچا زاد بھائی محمد بن شیر کوہ سے ہوئی جو حمص کے حاکم تھے۔

بھائی اور بہنیںترميم

مزید بہنوں کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔

ابن کثیر نے لکھا ہے کہ: «ست الشام بنت نجم الدین ایوب بادشاہوں اور سلاطین کی بہن، ان کی اولادوں کی خالہ اور پھوپھی اور بادشاہوں کی ماں تھیں، ان کے محرم رشتہ داروں میں تقریباً 35 سلاطین تھے»۔ پورا خاندان علم پرور اور علم دوست تھا۔

کارنامےترميم

فاطمہ خاتون دمشق میں بیمارستان نوری کے سامنے ایک بڑے گھر میں رہتی تھیں جس کو انھوں نے صلیبیوں اور فرنگیوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ مقام بنایا تھا، فقرا ومساکین کو صدقات و عطایا بہت دیا کرتی تھیں۔ ابن قاضی شہبہ نے ان کے مناقب و کارنامے پر ایک رسالہ تحریر کیا ہے۔

ابو شامہ مقدسی کہتے ہیں: سبط ابن جوزی کہتے ہیں: «فاطمہ خواتین کی سردار، خوب احسان و صدقات کرنے والی اور عاقلہ صالحہ خاتون تھیں، اپنے گھر میں شربت، معجون اور دیگر کھانے کی اشیا ہر سال ہزاروں دینار کی بناتی تھیں۔ ہم کہتے تھے واقعی یہ "ست الشام" ہیں»۔

فاطمہ خاتون تعلیم کے لیے مدارس اور ادارے بھی بنواتی تھیں، دو سب سے بڑے اور مشہور مدرسے مدرسہ شامیہ جوانیہ اور مدرسہ شامیہ برانیہ تھے، جہاں انھوں شافعی علما اور فقہا اور بہترین مدرسین کو جمع کر دیا تھا۔ یہ دونوں مدرسے اس زمانے کے یونیورسٹی اور جامعہ تھے۔ اپنے بھائی صلاح الدین ایوبی کی طرح ان کی بہن بھی اسلام اور مسلمانوں کی خیرخواہ تھیں۔

فاطمہ، صاحبِ علم و وعظ بھی تھیں، ابن خلکان اور ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ: ست الشام نے اپنے بھائی توران شاہ کی وفات پر سنہ 579ہجری مطابق 1180 عیسوی میں اسکندریہ میں "رحم اور صلہ رحمی" پر درس دیا تھا۔

الکرک کا حادثہترميم

فاطمہ خاتون نے اپنے بیٹے محمد بن لاجین کے ساتھ ایک قافلہ کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوئی، جب الکرک کے علاقہ میں پہونچی تو وہاں کرک صلیبی گورنر ارناط نے قافلہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی، جب اس واقعی کی اطلاع صلاح الدین ایوبی کو ملی تو انھوں نے انتقام کی اوراپنے ہاتھ سے ارناط کو قتل کرنے کی قسم کھائی اور اپنی قسم کو پورا کر دکھایا۔

وفاتترميم

فاطمہ ست الشام کی وفات جمعہ کے روز 16 ذی قعدہ سنہ 616 ہجری میں دمشق میں بیمارستان نوری کے سامنے ان کے گھر میں ہوئی اور مدرسہ حسامیہ میں دفن کیا گیا۔ ان کے جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک تھے زور زورسے دعائیں کر رہے تھے، کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے کسی خاتون کے جنازے میں اتنی تعداد نہیں دیکھی گئی۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. سيرة صلاح الدين من كتاب النوادر السلطانية والمحاسن اليوسفية، لبهاء الدين بن شداد
  2. مجلة رأس الخيمة - العدد 354 - عفت وصال حمزة.