مرکزی مینیو کھولیں


تیسرے خلیفہ راشد عثمان بن عفان کو ان کے گھر میں محصور کر کے قتل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر ایک احتجاج شروع ہوا، جو خوفناک طریقے سے رخ بدل کر، قتل عثمان پر منتج ہوا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ، عثمان، خلافت سے دستبردار ہو جائیں اور نیا خلیفہ آئے۔ اس واقعے کو فتنہ اول بھی کہا جاتا ہے۔

فہرست

پس منظر

تیسرے خلیفہ، عثمان بن عفان کے قتل کی، کئی وجوہات تھیں، سازش مصر سے شروع ہوئی اور عراق کے علاقے میں پروان چڑھی۔ سازش کا پہلا مقصد صرف عثمان بن عفان کو خلافت سے ہٹانا تھا۔ عبد اللہ بن سبا یہ متنازع شخصیت کا اس میں نام لیا جاتا ہے، جس نے سازش کی بنیاد رکھی اور جھوٹے مکتوبات سے خلیفہ اور​ گورنروں میں غلط فہمیاں پیدا کیں۔ خلیفہ کے کچھ رشتہ داروں کو جو عہدوں پر فائز تھے، ان کا حوالہ دیا جاتا کہ خلیفہ نے اپنے رشتہ داروں کو اہم عہدوں پر مسلط کر دیا ہے، ان کو ہٹایا جائے، اس کے ساتھ ہی اندر اندر علی ابن ابی طالب کو مظلوم شخصیت بنا کر پیش کیا جانے لگا کہ علی ابن ابی طالب کو خلافت سے تینوں پہلے خلفاء نے دور رکھا، جب کہ وہ ہی خلافت کے اصل حق دار تھے۔[حوالہ درکار]

قتل

باغیوں نے خلیفہ کے گھر کا مرکزی دروازہ جلا دیا۔ محمد بن ابو بکر گھر کی عقبی دیوار سے گھر کے اندر اتر گيا اور خلیفہ عثمان بن عفان جو اس وقت قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے، ان کے پاس صرف ان کی بیوی تھی، محمد بن ابو بکر نے خلیفہ کی داڑھی پکڑ لی، تو خلیفہ نے ان کو ان کے والد ابوبکر صدیق کا حوالہ دیا، تو محمد بن ابو بکر نے داڑھی چھوڑ دی اور گھر سے نکل گئے، لیکن دیگر لوگوں نے خلیفہ کو قتل کر دیا۔ اس دوران میں خلیفہ کی بیوی کے ہاتھ کی انگلیاں کٹ گیئں۔[1]

بعد قتل

خلافت

18 ذوالحجہ 35ء کو جمعہ کے دن خلیفہ کا قتل ہوا۔ اگلے پانچ دن تک کوئی خلیفہ نہیں تھا۔ باغیوں نے اعلان کروا دیا کہ اگر علی بن ابی طالب نے خلافت قبول نہ کی تو ہم قتل عام کریں گے، تو یوں چوتھے خلیفہ راشد کے طور پر علی بن ابی طالب نے، بیعت لی۔ طلحہ بن عبید اللہ اور عبد اللہ ابن زبیر سے تلوار کی نوک پر بیعت لی گئی۔

مطالبہ قصاص

جنگ جمل

عام لوگوں کو توقع تھی کہ علی خلافت کا آغاز ہی قاتلینِ عثمان کی گرفتاری سے کریں گے مگر دن اور ہفتے گزرنے لگے اور ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ مدینہ کا اختیار عملی طور پر باغیوں کے ہاتھ میں تھا اور علی باغیوں کی مرضی کے بغیر کچھ بھی کرنے کے قابل نہ تھے۔ اب مدینہ سے ایک اور خط پورے عالمِ اسلام میں پھیلایا گیا جس میں کہا گیا کہ علی نے خلیفہ بننے کے لیے عثمان کو قتل کرایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قاتلینِ عثمان سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو اس الزام پر یقین آنے لگا۔ یہ فطری بات تھی کہ عثمان کی اہلیہ اور بچوں کو ہر شخص سے زیادہ دلچسپی تھی کہ قاتلینِ عثمان کے خلاف نظامِ انصاف کو حرکت میں لایا جائے۔ اس لیے، شاید مدینہ سے مایوس ہوکر، آپ کی اہلیہ نے اپنی کٹی ہوئی انگلیاں اور عثمان کا خون آلود کرتا جو بوقتِ شہادت زیبِ تن کیے ہوئے تھے معاویہ کو شام بھجوا دیا جو عثمان کے قریبی رشتہ دار تھے اور ان پر زور دیا کہ قتلِ عثمان کا انتقام لیا جائے۔ اس موقع پر علی نے معاویہ سمیت صوبائی گورنروں کو شہادتِ عثمان کے سانحہ کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ وہ خلافت کا منصب سنبھال چکے ہیں اب وہ نہ صرف خود نئے خلیفہ کی بیعت کریں بلکہ اپنے اپنے صوبوں میں بھی خلیفہ کے لیے بیعت لیں۔ انہوں نے معاویہ کے نام خط میں انہیں گورنر کے منصب سے معزول کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ چارج نئے گورنر کے حوالے کر دیں۔ سبائیوں نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معاویہ کو علی کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی لیکن وہ آسانی سے ان کے چکر میں آنے والے نہ تھے۔ انہوں نے علی کے خط کا جواب نہایت نرمی سے دیا اور کہا کہ جب قاتلینِ عثمان کو گرفتار کرکے سزا دے دی جائے گی وہ بیعت کر لیں گے۔ ایسی صورت حال میں مسلمانوں میں پہلی خانہ جنگی ہوئی، جس میں صحابہ کی ایک تعداد شہید ہوئی۔ علی کی سپاہ کو فتح ہوئی اور ان کے زور و قوت میں اصافہ ہو گیا۔

جنگ صفین

جنگ نہروان

قتل معاویہ و علی

حوالہ جات

  1. ڈاکٹر، محمد حمید اللہ۔ جنگ جمل اور صفین کا یہودی پس منظر (پی‌ڈی‌ایف)۔ پاکستان: پیام قرآن۔ صفحہ 18۔