قدرت اللہ شہاب (1986ء-1917ء) پاکستان کے نامور اردو ادیب اور بیورو کریٹ تھے۔ ان کی پیدائش گلگت میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی۔ جموں کے پرنس آف ویلز کالج سے بی۔ایس۔سی۔ کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم -اے انگلش کیا۔ 1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ ابتدا میں شہاب صاحب نے بہار اور اڑیسہ میں خدمات سر انجام دیں۔ 1943ء میں بنگال میں متعین ہو گئے۔ آزادی کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل ہوئے۔ بعد ازاں پہلے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد، پھر اسکندر مرزا اور بعد ازاں صدر ایوب خان کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔ پاکستان میں جنرل یحیی خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے سول سروس سے استعفی دے دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی شرانگیزیوں کا جائزہ لینے کے لیے ان علاقوں کا خفیہ دورہ کیا اور اسرائیل کی زیادتیوں کا پردہ چاک کیا۔ ان کی اس خدمت کی بدولت مقبوضہ عرب علاقوں میں یونیسکو کا منظور شدہ نصاب رائج ہو گیا جو ان کی فلسطینی مسلمانوں کے لیے ایک عظیم خدمت تھی۔پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی مساعی سے عمل میں آئی۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں وہ ابتلا کا شکار بھی ہوئے اور یہ عرصہ انہوں نے انگلستان کے نواحی علاقوں میں گزارا۔ شہاب صاحب ایک بہت عمدہ نثر نگار اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور ان کی خود نوشتہ سوانح حیات “شہاب نامہ“ قابل ذکر ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور اسلام آباد کے سیکٹر H-8 کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔He is a great and nice person in Pakistan history

قدرت اللہ شہاب
معلومات شخصیت
پیدائش 26 فروری 1917  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گلگت  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 جولا‎ئی 1986 (69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسلام آباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سفارت کار،  آپ بیتی نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت انڈین سول سروس  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

شہاب نامہ سے اقتباسترميم

  • "آئی سی ایس نے لوٹ کھسوٹ میں جنم لیا۔ مار دھاڑ میں پروان چڑھی۔ سلطنت آرائی میں عروج پایا۔ اور برصغیر میں آزادی کے نزول کے ساتھ ہی دم توڑ دیا۔"
  • " 1940ء میں جب میں آئی سی ایس میں داخل ہوا تو میرا گروپ 30 افراد پر مشتمل تھا۔ ان میں سے 19 کا انتخاب لندن میں اور 11 کا دہلی میں ہوا تھا۔ گروپ میں 15 انگریز 12 ہندو اور 3 مسلمان تھے۔"
  • "قاہراہ پہنچ کر معلوم ہوا کہ مصر کی انقلابی حکومت نے حاجیوں کی آمد و رفت کے لیے نہایت اعلیٰ درجہ کے انتظامات کر رکھے ہیں۔ حاجیوں کو لے کر ہر روز دو ہوائی جہاز پرواز کرتے تھے۔ ہر تیسرے روز ایک سمندری جہاز بھی جدہ کے لیے روانہ ہوتا تھا۔ وزارت خارجہ کا جو افسر ان انتظامات کی دیکھ بھال پر مامور تھا۔ وہ میری درخواست دیکھ کر بڑا چیں بچیں ہوا۔
” آپ پاکستانی ہو کر انگریزی میں درخواست کیوں لکھتے ہیں؟“ اس نے میری جواب طلبی کی۔
میں نے معذرت کی کہ مجھے عربی نہیں آتی، اس لیے درخواست انگریزی میں لکھنا پڑی۔
” آپ کی اپنی زبان کیا ہے؟" افسر نے پوچھا۔
"اردو" میں نے جواب دیا۔
"پھر انگریز کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے؟" افسر نے طنزیہ پوچھا۔
میرے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ میں یہ تسلیم کروں کہ انگریزی کے ساتھ میرا فقط غلامی کا رشتہ ہے۔"[1]


  • "جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوبی ایشیا میں تجارت کے پردے میں سیاست کا جال پھیلایا تو اس کے جلو میں ملازمین کا ایک لاؤ لشکر بھی اس خطہ ارض پر ٹڈی دل کی طرح امڈ آیا۔ یہ ملازم عام طور پر کمپنی کے ڈائریکٹروں کے بیٹے بھانجے بھتیجے یا ان کے دوست احباب کے عزیز و اقارت ہوتے تھے۔ ان کی تنخواہ 5 پاؤنڈ ماہوار تک مقرر تھی۔ لیکن اس کے علاوہ ذاتی تجارت کرنے کی بھی ان کو کھلی چھٹی تھی۔ چنانچہ اکثر ملازم کمپنی کا کام کم اور نجی تجارت زیادہ کرتے تھے۔
مقامی راجوں، رجواڑوں زمینداروں اور رئیسوں سے زبردستی نذرانے وصول کرنے کا رواج بھی عام تھا۔ اور اس طرح اکثر ملازم چند سال میں لاکھوں روپے سمیٹ کر انگلستان واپس چلے جاتے تھے۔ واپسی پر وہ ایک آدھ ملازم چھوکرا یا طرحدار آیا بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور جب وہ انگلینڈ کے مضافات میں بیش قیمت جائیدادیں خرید کر اپنا ٹھاٹھ جماتے تھے تو وہاں کی سوسائی میں "نبان" کہلاتے تھے۔
مال و دولت سمیٹنے کا یہ نیا راستہ دیکھ کر دوسرے انگریزوں کی بھی رال ٹپکنے لگی۔ اور ہندوستان میں کمپنی کی ملازمت حاصل کرنا ایک باقاعدہ مہم کی صورت اختیار کر گیا۔ اب لندن میں ڈائریکٹڑوں کی بر آئی اور انہوں نے بھی کھلے بندوں ہاتھ رنگنے شروع کر دیئے۔ چنانچہ کمپنی کی اسامیاں فروخت ہونے لگیں۔ ڈائریکٹر صاحبان ایک ایک اسامی کی قیمت دو ہزار سے تین ہزار پاؤنڈ تک وصول کرتے تھے۔
اسامی سفارش سے ملی ہو یا قیمت دے کر خریدی گئی ہو، کمپنی کے ملازمین کا واحد مقصد یہی ہوتا تھا کہ ہندوستان آ کر وہ کم سے کم عرصہ میں زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹیں اور پھر وطن عزیز واپس جا کر عیش و آرام کی زندگی بسر کریں۔ اس مقصد براری کی دھن میں میں انہیں طرح طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔
جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا نیا ملازم ہندوستان پہنچ کر جہاز سے اترتا تھا تو سب سے پہلے اسے یہاں کا بنیا ہاتھوں ہاتھ لیتا تھا۔ ہر انگریز کے ساتھ ایک ایک بنیا ہر وقت اس طرح چپکا رہتا تھا جس طرح جسم کے ساتھ سایہ لگا رہتا ہے۔ انگریزوں کی ذاتی تجارت کے لیے سرمایہ بنیا فراہم کرتا تھا۔ اسمگلنگ کے کاروبار کے نت نئے راستے وہ نکالتا تھا۔ گھروں کے لیے فرنیچر آرائش و زیبائش کا سامان وہ لاتا تھا۔ باورچی خانے کی روزمرہ ضروریات اس کے دم قدم سے پوری ہوتی تھیں۔ گھریلو ملازمین کا چناؤ اس کے مشورہ سے ہوتا تھا۔ نذرانہ وصول کرنے کے لیے موٹی موٹی اسامیوں کی نشاندہی بھی بنیا کرتا تھا۔ اور اپنے فرنگی آقاؤں کی جنسی حاجات پر بھی وہ بڑے رکھ رکھاؤ سے اپنی نظر التفات ہر دم مرکوز رکھتا تھا۔
زندگی کے ہر شعبے میں ہر طرح کے مسائل کو آناً فاناً حل کرنے میں بنیے نے کچھ ایسے مہارت حاصل کر رکھی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اکثر ملازم اس کے بنے ہوئے پیچیدہ جال میں بے بس مکڑیوں کی طرح جکڑے بندھے رہتے تھے۔ ابتداء میں انگریزوں اور ہندو بنیوں کا گٹھ جوڑ شروع تو تجارتی لین دین سے ہوا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ ایک عالمگیر بلا (Octopus) کی طرح اس نے باہمی خیر سگالی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
انگریزوں اور ہندوؤں کے درمیان ایک بہت بڑی قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں مسلمانوں کو اپنا واحد دشمن تصور کرتے تھے۔ یہ ملی بھگت خوب رنگ لائی۔ جب انگریزوں نے برصغیر پر اپنا تسلط جمانے کا آغاز کیا تو تجارتی بنیا ان کا دست راست تھا۔ اور آزادی کے بعد جب انہوں نے خطہ ارض چھوڑا تو سیاسی بنیا ان کا ہمدم و ہمراز تھا۔ یہ محض حسن اتفاق ہی نہ تھا کہ ہندوؤں نے جس انگریز سے چھٹکارا حاصل کیا تھا اسی انگریز کو برضا و رغبت بھارت کا پہلا گورنر جنرل بھی تسلیم کر لیا۔ برٹش فراست اور بنیا سیاست کی یہ کامیابی چانکیہ کے فلسفہ ریاست کے عین مطابق ہے۔ جس میں راج نیتی کے کاروبار میں جھوٹ اور فریب واجب ہے اور ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانے میں کوئی ہرج نہیں۔
ڈیڑھ دو سو سال پہلے ان دونوں کا نصب العین مسلمانوں کے بنے بنائے اقتدار کو پامال کرنا تھا۔ آزادی کے بعد دونوں کا مقصد ایک نئی ابھرتی ہوئی اسلامی مملکت کو درہم برہم کرنا بن گیا۔ یوں تو بنیا گیری عام طور پر ایک انفرادی پیشہ تھا۔ لیکن کلکتہ میں چند منچلوں نے مل کر بنیوں کی ایک کمپنی بھی کھول لی تھی۔ اس فرم کا نام "چار یار" تھا اور یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ بڑے بڑے ٹھیکوں کا کام کیا کرتی تھی۔
۴ مئی ۱۷۹۹ء کا وہ منحوس دن تھا جب سرنگا پٹم کے تاریخی معرکے میں ٹیپو سلطان شہید ہو گئے۔ اور ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے انگریزوں کا راستہ بالکل صاف ہو گیا۔ اس فتح کی خوشی میں لارڈ کارنوالس نے کلکتہ تھیٹر میں ایک شاندار محفل رقص و سرور منعقد کرنے کا اہتمام کیا۔ ہال میں جگہ جگہ "دشمن" سے چھینے ہوئے سامان حرب کی نمائش لگائی گئی۔ دیواروں پر بڑے بڑے آئینوں کے سامنے معرکہ سرنگا پٹم کے مختلف مناظر کی قد آدم تصویریں بنا کر لٹکائی گئیں۔ ستونوں پر بڑی خوبصورتی سے رنگ برنگ ریشم کے تھان منڈھے گئے۔ چھت سے رنگین سلک کی بڑی بڑی چادروں کو شامیانوں کی صورت میں آویزاں کیا گیا۔
انگریزوں کی جس جس رجمنٹ نے سرنگا پٹم کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ ان کے جھنڈے ہال کے عین وسط میں لہرائے گئے۔ ان کے عین نیچے سلطان ٹیپو شہید کے جھنڈوں کو الٹا لٹکایا گیا۔ ڈانس رات گیارہ بجے شروع ہوا۔ اور صبح پانچ بجے تک جاری رہا۔ میموں نے سفید ساٹن کی چست وردیاں پہنی ہوئی تھیں جن پر ریشم کے دھاگے سے ۴ مئی کے الفاظ جلی حروف میں کاڑھے ہوئے تھے۔ ڈانس کے درمیان جب مے نوشی کے لیے کچھ وقفہ ہوتا تھا تو زرق برق کپڑوں میں ملبوس ہندوستانی ناچنے اور گانے والیاں مبارکبادی کے نغمے گا کر معزز مہمانوں کا دل بہلاتی تھیں۔ ارباب نشاط کے ان طائفوں کو ”چار یار" نے بڑے اہتمام کے ساتھ بنارس سے فراہم کیا تھا۔ اس تقریب کے لیے خاص طور پر ”چار یار" کے بنیوں نے یہ انوکھی اپچ نکالی تھی کہ ٹیپو سلطان کا درباری لباس اس محفل میں کام کرنے والے خدمتگاروں اور چپراسیوں کو پہنایا گیا تھا۔
اپنے اپنے بنیے کی سرپرستی سے کمپنی کے انگریز ملازموں کی پانچوں گھی میں اور سر اکثر کڑاہی میں رہتا تھا۔ صبح سات بجے کے قریب جب صاحب بہادر کی آنکھ کھلتی تھی، تو سب سے پہلے حمال دبے پاؤں کمرے میں داخل ہو کر کھڑکیاں اور دروازے کھولتا تھا۔ مسالچی بستر پر تنی ہوئی مچھر دانی سمیٹتا تھا۔ ایک طرف سے بیرا ”چھوٹا حاضری" کی چائے پیش کرتا تھا۔ دوسری جانب سے حجام لپک کر بڑھتا تھا، اور صاحب کے سر کے نیچے دو تین تکیے رکھ کر لیٹے ہی لیٹے اس کی شیو بنا دیتا تھا۔ چلمچی اور آفتابہ لا کر بستر ہی میں اس کا ہاتھ منہ دھلا دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد جب وہ بریک فاسٹ کے لیے بیٹھا تھا، تو یہی حجام کرسی کے پیچھے کھڑا ہو کر اس کے سر کی ہلکی ہلکی مالش کرتا تھا، بال بناتا تھا، وگ جماتا تھا۔ کانوں کی میل نکالتا تھا اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کو چٹخاتا تھا۔
ناشتہ ختم ہوتے ہی حقہ بردار حقے کی نلکی اس کے منہ میں دے کر خود پیتل کی ایک چمکدار پھکنی سے چلم کی آگ سلگاتا رہتا تھا۔ حقے کی پہلی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی صاحب کا بنیا جھک جھک کر سلام کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا تھا۔ اس کے بعد ملازموں کی فوج ظفر موج کا ریلا اندر آتا تھا۔ خانساماں، بیرا، مسالچی، حمال، مالی، بہشتی، کتے والا، پنکھے والا، دھوبی، درزی۔ سب باری باری سلام کر کے اپنی دن بھر کی ضروریات پیش کرتے تھے۔ بنیا انہیں پورا کرنے کا بیڑا اٹھاتا تھا۔ اس کے بعد دفتر کے منشی، متصدی، پیشکار، ہرکارے، چوبدار اور چراسی پیش ہوتے تھے۔ دس بجے صاحب کمرے سے برآمد ہو کر اپنی حیثیت کے مطابق گھوڑے یا پالکی یا فٹن پر سوار ہوتے تھے۔ ان کے سر پر چھاتا کھلتا تھا اور آگے پیچھے دس پندرہ چوبداروں، برقندازوں اور چپراسیوں کا جلوس چلتا تھا، جو بڑی خوبصورت رنگین وردیوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ کچھ وقت دفتر میں گزار کر سارے مقامی انگریز ایک بجے ٹفن کے لیے جمع ہو جاتے تھے۔ لنچ میں پندرہ سے اٹھارہ تک کھانے کے کورس اور چار پانچ قسم کی شرابیں ہوتی تھیں۔
چار بجھے کھانے سے فارغ ہو کر شام کے سات بجے تک قیلولہ ہوتا تھا۔ اس کے بعد باربر ایک بار پھر ان کے کان کی میل نکالتا تھا، انگلیوں کے جوڑ چٹخاتا تھا، اور بال سنوار کر سر پروگ جماتا تھا۔ آٹھ بجے سب لوگ اپنی اپنی سواریوں پر ہوا خوری کے لیے نکلتے تھے اور دس بجے ڈنر کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ ڈنر کے بعد رات گئے تک حقے اور شراب کا دور چلتا تھا۔
اس محنت شاقہ کے عوض یہ لوگ چند برس میں لکھ پتی بن کر اپنے وطن سدھارتے تھے۔ دولت سمیٹنے کے اس کاروبار میں نذرانوں کی وصولی کو بڑا اہم مقام حاصل تھا۔ نذرانہ دراصل رشوت ہی کا دوسرا نام تھا۔ سب سے بڑا نذرانہ لارڈ کلائیو نے بنگال کے غدار میر جعفر سے وصول کیا تھا۔ اس نذرانے کا تخمینہ تیس لاکھ پاؤنڈ کے لگ بھگ تھا۔ اپنی تاریخی غداری کے شکرانے میں اس تنگ دنیا ننگ دین ننگ وطن میر جعفر نے اپنی وصیت میں بھی ساڑھے تین لاکھ روپے کے جواہرات اور ڈیڑھ لاکھ روپے کا سونا کلائیو کے لیے ان القابات کے ساتھ چھوڑا تھا: ”ہمارے ہیرو، ہماری آنکھوں کے نور نواب والی قدر لارڈ کلائیو کے نام جو میدان جنگ میں چٹان کی طرح ثابت قدم رہتے ہیں"۔ نذرانوں کے علاوہ میر جعفر کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور لارڈ کلائیو کمپنی پر بھی بے دریغ ہاتھ صاف کرتا رہتا تھا۔ ایک بار اپنی تنخواہ وغیرہ کے علاوہ اس نے دو برس کے متفرق اخراباب کا جو بل ایسٹ انڈیا کمپنی سے وصول کیا تھا۔۔۔۔۔اس کا ٹوٹل 333895 روپیہ تھا۔
اپنے اپنے بنیوں کے تعاون سے کمپنی کے بہت سے انگریز ملازم خفیہ طور پر چھوٹے چھوٹے مقامی حرم بھی قائم کر لیتے تھے۔ لیکن باقاعدہ شادی وہ صرف میموں سے ہی رچاتے تھے۔ اس مقد کے لیے کمپنی کے ڈائریکٹر انگلستان سے آنے والے ہر بحری جہاز میں شادی کی خواستگار میموں کی کھیپ بھی ہندوستان بھیجتے تھے۔ یہ خواتین نئے نئے فیشن کے ملبوسات اور سامان آرائش سے لدی پھندی آتی تھیں۔ اور اپنے دل پسند خاوند کا شکار کرنے کے لیے طرح طرح کے دامن تنویر بچھا کر بیٹھ جاتی تھیں۔ ان کے دل کو نوجوانوں کی نسبت بڈھے خاوند زیادہ پسند آتے تھے۔
عمر رسیدہ انگریز ہندوستان کی آب ہوا میں سالہا سال کی بسیار خوری اور مے نوشی کے بعد قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہوتے تھے۔ اور ان کی جوان بیویاں بہت جلد ان کی سمیٹی ہوئی دولت کی وارث بن جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ خاوند کے مرتے ہی بیوہ کے نام عمر بھر کے لیے تین سو پاؤنڈ سالانہ کی پینشن بھی مقرر ہو جاتی تھی۔ جو عورت ہندوستان آنے کے بعد ایک سال تک خاوند پھانسنے میں کامیاب نہ ہو سکے اسے کمپنی کے خرچ پر واپس انگلستان بھیج دیا جاتا تھا۔
البتہ ایک طرحدار میم مس ہالڈین نے انگلستان واپس جانے سے صاف انکار کر دیا۔ کیونکہ اس نے ہندوستان میں کسی خاوند کا سہارا لیے بغیر ہی دولت کمانے کا ایک نیا راستہ تلاش کر لیا تھا۔ ہندوؤں کی ریت ہے کہ دیوالی کی رات وہ لکشمی دیوی کی پوجا کرتے ہیں تا کہ سارا سال ان پر مایا کی بارش برستی رہے۔ اگر کنورای کنیا کے برہنہ جسم پر سونے چاندی کے سکے رکھ کر پوجا پاٹھ کی جائے تو لکشمی دیوی کا دل زیادہ آسانی سے خوش ہو جاتا ہے۔ چند بنیوں کی مدد سے مس ہالڈین نے دیوالی کی راتوں کے لیے کنواری کنیا کا روپ دھار لیا۔ دولت کے پجاری اس کے عریاں تن بدن کو بڑی فنکاری سے روپوں اور اشرفیوں سے سجاتے تھے، اور پھر اس کے قدموں میں بیٹھ کر ساری رات بڑی عقیدت سے لکشمی دیوی کو برماتے اور اپنے قلب و نظر کو گرماتے تھے۔
رفتہ رفتہ مس ہالڈین "ہلدی دیوی" کہلانے لگی۔ ”دھن کی موج ہلدی دیوی، من کی کوج ہلدی دیوی" کی بھپتیوں کے ساتھ اس کا چرچا دور دور تک پھیل گیا۔ پوجا پاٹھ کے لیے اس کی مانگ اتنی بڑھ گئی کہ ہر رات دیوالی کی رات بننے لگی۔ کمپنی کے ملازمین ایک سفید فام عورت کی ان حرکات پر بڑے چراغ پا تھے۔ ایک طویل سازش کے بعد آخر انہوں نے مس ہالڈین کو زبردستی انگلستان واپس بھیجوا دیا۔ اس نے اپنی واپسی کے خلاف عدالتوں میں ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کی تو بہت کی، لیکن کہیں کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ کیونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی عدالتیں مقدموں کا فیصلہ انصاف کی رو سے نہیں بلکہ مصلحت کی رو سے کرنے کی پابند تھیں۔
کمپنی کے عدالتی نظام میں کسی گورے کے ہاتھوں کالے کا قتل بڑا جرم شمار نہ ہوتا تھا۔ ایسے مقدمات میں مقتول اکثر بنگلوں اور دفتروں کے پنکھا قلی ہوتے تھے۔ انہوں نے دن رات مسلسل پنکھا کھینچنے کی بڑی مہارت حاصل کر رکھی تھی۔ بسا اوقات وہ پنکھے کی رسی اپنے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ باندھ کر فرش پر لیٹ جاتے تھے۔ اس حالت میں اگر کبھی انہیں اونگھ بھی آ جاتی تھی، تو ان کی ٹانگ متواتر چلتی رہتی تھی اور پنکھا بدستور ہلتا رہتا تھا۔ لیکن اگر شومئی قسمت سے کسی وقت پنکھا بند ہو جائے تو گرمی، نیند اور شراب کے خمار میں بوکھلایا ہوا ”صاحب“ ہڑبڑا کر اٹھتا تھا، اور سوئے ہوئے قلی کے پیٹ میں زور سے ٹھوکر مار کر اسے بیدار کرتا تھا۔ کئی بار اس ٹھوکر کی ضرب سے بچارے قلی کی تلی پھٹ جاتی تھی اور وہ وہیں لیٹے لیٹے دم توڑ دیتا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں صاحب کو کبھی ایک روپیہ جرمانہ ہو جاتا تھا، کبھی محض وارننگ ملتی تھی، کبھی بالکل باعزت بری۔
ہندوستانیوں کو سب سے کڑی سزا چوری کے جرم پر ملتی تھی۔ مجرم عورتیں ہوں یا مرد، عام طور پر انہیں چوراہوں میں بر سر عام ہر روز ۳۹ کوڑے اس وقت تک لگائے جاتے تھے جب تک کہ وہ چوری کا مال واپس نہ کر دیں۔ تپتے ہوئے گرم لوہے سے چہرہ، ہاتھ اور ٹخنے داغنا بھی ایک عام سزا تھی۔ کچھ قیدیوں کو ہفتے میں ایک یا دو بار کاٹھ بھی مارا جاتا تھا۔ کسی کو لکڑی کے شکنجے میں کس کر اس کی نمائش کرنے میں جسمانی تکلیف کی نسبت تذلیل و تشہیر کا عنصر زیادہ نمایاں ہوتا تھا۔ اکثر مقامات پر ہندوستانیوں کے لیے انگریزوں کے سامنے کسی سواری پر بیٹھنا ممنوع تھا اور بارش یا دھوپ میں چھاتا کھول کر چلنے کی بھی ممانعت تھی۔
کوئی دو سو برس تک اسی طرح من مانی کارروائیوں سے کمپنی بہادر نے ایک ہاتھ سے لوٹ مار کا بازار گرم رکھا اور دوسرے ہاتھ سے ملک گیری کی مہم ایسی کامیابی سے چلائی کہ ۱۸۵۳ء میں اس کا تجارتی کاروبار قانونی طور پر بند ہو گیا اور برصغیر پر انگریزوں کی باقاعدہ حکمرانی کا دور شروع ہو گیا۔ نئے سامراجی تقاضوں کے پیش نظر سب سے پہلے آئی سی ایس کی داغ بیل ڈالی گئی اور لارڈ میکالے کی قیادت میں اس سروس کو باضابطہ منظم کیا گیا۔ اب اس میں داخلہ صرف مقابلے کے امتحان کے ذریعہ ہونے لگا۔ آئی سی ایس کا پہلا امتحان لندن میں ۱۸۵۵ء میں منعقد ہوا۔ ۱۸۶۴ء میں پہلا ہندوستانی اس امتحان میں کامیاب ہوا۔ ۱۸۷۱ء میں ان کی تعداد چار ہو گئی۔ اگلے چالیس پچاس برس تک اس سروس میں جتنے ہندوستانی داخل ہوئے وہ زیادہ تر ہندو ہی تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اس برصغیر میں مسلمانوں کے تعلیم و ترقی کے بھی دروازے بند کر دیئے گئے تھے۔ لارڈ میکالے کا فتویٰ تھا کہ یہاں پر جو نظام تعلیم رائج کیا جائے وہ ایسے انسان پیدا کرے جو رنگت میں تو بیشک ہندوستانی ہوں لیکن چال اعمال، فہم و فراست، ذوق و مذاق، اخلاق و اطوار اور ذہنی اعتبار سے انگریز ہوں۔ اس پالیسی کے تحت جب فارسی کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان بنا دیا گیا تو برصغیر کے ہزاروں مسلمان علماء و فضلاء بہ یک نوک قلم غیر تعلیم یافتہ قرار دے دیئے گئے۔ اس فیصلے کا ہندوؤں نے بڑی گرم جوشی سے خیر مقدم کیا۔ اس لیے نہیں کہ انہیں انگریزی سے کوئی خاص محبت تھی بلکہ صرف اس لیے کہ انہیں فارسی سے چڑ تھی، کیونکہ اس زبان کا رابطہ مسلمانوں سے تھا۔
یوں بھی جب ۱۸۵۷ء میں سلطنت مغلیہ کا آخری چراغ گل ہو گیا تو انگریزوں اور ہندوؤں کی ایک مشترکہ کوشش یہ تھی کہ اس برصغیر میں ہر اس امکان کو ختم کر دیا جائے جس میں مسلمانوں کے دوبارہ سر اٹھانے کا ذرا سا شائبہ بھی موجود ہو۔ یہاں پر مسلمان ہی ایک ایسی قوم تھی جس میں حکومت کرنے کی صلاحیت بھی تھی، روایت بھی تھی اور ہزار سالہ تجربہ بھی حاصل تھا۔ چنانچہ اس قوم کا سر کچلنا دونوں کا فرض منصبی قرار پایا۔
اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انگریزوں نے سب سے پہلے اقتصادی طور پر ہندوؤں کو آگے بڑھانے اور تعلیمی طور پر مسلمانوں کو پیچھے دھکیلنے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ یہ تجربہ بڑا کامیاب رہا۔ حکومت انگلشیہ نے نظام تعلیم کو سیکولر بنا کر اسے براہ راست سرکاری سرپرستی میں لے لیا۔ اس طرح مسلمانوں کے تہذیبی، تمدنی اور علمی گہواروں کا رشتہ اس نظام تعلیم سے بالکل منقطع ہو گیا۔ اسلامی مدرسے اور دارالعلوم تو حکومت کی سرپرستی سے محروم ہو کر اپنے اپنے خود حفاظتی خول میں چلے گئے، لیکن کرسچین مشنری سکولوں کی تعداد روز بروز بڑی تیزی سے بڑھنے لگی۔ مسلمان طلبہ گورنمنٹ سکولوں میں داخل ہونے سے بڑے طویل عرصہ تک ہچکچاتے رہے۔
اس کی تین وجوہات تھیں۔ ایک تو انگریزوں کا رویہ مسلمانوں کی طرف ویسا ہی تھا جیسا کہ فاتح کا مفتوح کی طرف ہوتا ہے۔ اس لیے مسلمان قدرتی طور پر ان اداروں میں جانے سے استنکاف محسوس کرتے تھے، جو غالب قوم نے خاص اپنے اغراض و مقاصد کے لیے قائم کئے تھے۔ دوسرے گورنمنٹ سکولوں میں دینی تعلیم پر مکمل پابندی تھی۔ یہ بات مسلمانوں کے لیے ناقابل فہم تھی۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ اس بات کی شاہد تھی کہ دین کے بغیر تعلیم کا کوئی نظام نہ مکمل ہو سکتا تھا نہ قابل قبول۔ چنانچہ انگریزوں کا یہ اقدام مسلمانوں کی نظر میں شکوک و شبہات سے اٹا اٹ بھرا ہوا تھا۔
تیسری وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال سے شہ پا کر اس زمانے میں عیسائی مشنریوں نے بھی برصغیر پر یورش شروع کر دی، اور وہ بڑی شدت سے مسیحیت کی تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔ یہ پادری جگہ جگہ مسلمان علماء کو مناظرے کا چیلنج دیتے تھے۔ مناظرے اکثر گورنمنٹ سکولوں کی گراؤنڈ پر منعقد ہوتے تھے۔ مقامی انگریز افسر شامیانوں کا بندوبست بھی کرتے تھے اور ہر ممکن طریقے سے پادریوں کی پشت پناہی کا سامان بھی کرتے تھے۔
اس سے مسلمانوں کے ذہن میں یہ شبہ اور بھی پختہ ہو گیا کہ گورنمنٹ سکولوں، انگریزوں اور مسیحی پادریوں کے درمیان مسلمانوں کے خلاف ضرور کوئی خفیہ گٹھ جوڑ ہے اور مسلمانوں کا سیاسی زور توڑنے کے بعد اب یہ لوگ سرکاری نظام تعلیم کے پردے میں ان کے دین کے درپے ہو رہے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کے دینی تعلیمی ادارے اور حکومت کے سرکاری سکول الگ الگ متوازی خطوط پر چلنے لگے۔ آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ اب تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔
اس صورت حال کا نتیجہ یہ تھا کہ 1880-1881ء میں سارے برصغیر میں انگریزی ہائی سکولوں میں 36686 ہندو اور صرف 363 مسلمان طلبہ پڑھتے تھے۔ اسی طرح اس سال پورے ہندوستان میں 3155 ہندو اور فقط 75 مسلمان گریجویٹ تھے۔ قدرتی طور پر ملک کے انتظامی اور معاشی نظام میں بھی ہندوؤں کا تناسب اسی لحاظ سے تھا۔
مسلمانوں کی پسماندگی کے اس جمود کو سر سید احمد خان کی تحریک علی گڑھ نے بڑے موثر طور پر توڑا۔"[1]
  • نتھ نگر کے فسادات اور نئی فیکٹریاں
"نتھ نگر کے مسلمانوں کو اس قدر لب بستہ پا کر ایک رات میں بھاگلپور کے بیرسٹر نور الحسن کے ہاں چلا گیا، اور ان سے درخواست کی کہ اس معمہ کی عقدہ کشائی میں وہ میری رہنمائی فرمائیں۔ پہلے تو وہ بڑی دیر تک ٹال مٹول کرتے رہے لیکن میرے مسلسل اصرار پر انہوں نے مجھ سے حلف لیا کہ اگر نتھ نگر میں کبھی کوئی انکوائری ہوئی تو میں ہرگز ہرگز کسی کو یہ نہ بتاؤں گا کہ مجھے کوئی معلومات بیرسٹر نور الحسن سے بھی حاصل ہوئی تھیں۔ میں نے بڑی خوشی سے حلف اٹھا کر انہیں یقین دلایا کہ کسی جگہ کسی صورت میں ان کا نام کبھی نہ آئے گا۔
میری یقین دہانی سے مطمئن ہو کر بیرسٹر صاحب نے اپنی انگریز بیوی کو دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔ ڈرائنگ روم کی کھڑکیاں اور دروازے بند کئے اور میرے کان کے پاس منہ لا کر ہلکی ہلکی سرگوشیوں میں بتایا کہ پچھلے پندرہ برس سے یہ رواج چل نکلا ہے کہ نتھ نگر میں جب کوئی نئی فیکٹری تعمیر ہونے لگتی ہے تو اس وقت وہاں پر ایک آدھ ہندو مسلم فساد ضرور ہوتا ہے۔ سیٹھ صاحبان ہندو کاشت کاروں سے فیکٹری کے لیے زمین کا سودا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ قیمتیں بڑھانے کے لیے کسانوں سے ایجی ٹیشن شروع کرا دیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ ایجی ٹیشن سیاسی رنگ پکڑ لیتی ہے۔ اس مرحلے پر بھاگلپور کی راشٹریہ سوائم سیوک سنگ کا صدر کمار اندر دیو نرائن سنگھ سیٹھوں سے منہ مانگی رقم وصول کرتا ہے اور اس کا سیکرٹری ست نرائن پانڈے اپنے مسلح غنڈے مسلمانوں پر چھوڑ کر ہندو مسلم فساد کروا دیتا ہے۔ کچھ مسلمان مارے جاتے ہیں۔ چند مسلمان لڑکیاں اغوا ہو جاتی ہیں۔ ہندو کسان اپنی ایجی ٹیشن کو بھول کر بڑی دلجمعی سے مسلمانوں کی لوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ رات بھر کی لوٹ کھسوٹ کے بعد علاقے پر کرفیو نافذ ہو جاتا ہے۔
کرفیو کی آڑ میں کمشنر یا کلکٹر فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھ دیتا ہے۔ سیٹھ صاحبان گورنمنٹ کے کسی فنڈ میں خاطر خواہ عطیہ کا اعلان فرماتے ہیں اور اس طرح نتھ نگر میں بڑی خوش اسلوبی سے ایک نئی فیکٹری کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
"کیا اس بار بھی سیٹھ بدری پرشاد جھن جھنیا نے کمار اندر دیو نرائن سنگھ کے ساتھ کوئی ساز باز کی ہے؟“ میں نے پوچھا۔
بیرسٹر نور الحسن نے اپنے بند ڈرائنگ روم میں گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا، اور پھر اپنے ہونٹوں کو عین میرے کان کے ساتھ ملا کر آہستہ سے بولے۔ سننے میں آیا ہے کہ اس بار پچاس ہزار روپے پر سودا طے ہوا ہے۔
اگلا سارا دن میں نے بھاگلپور کلکٹریٹ کے ریکارڈ روم میں صرف کیا۔ پچھلے دس برس کے دوران نتھ نگر میں جتنی نئی فیکٹریاں لگی تھیں' ان سب کی فائلیں نکال کر پڑھیں۔ واقعی بیرسٹر نور الحسن کی بات حرف بہ حرف صحیح تھی۔ ہر فیکٹری کی بنیاد ہندو مسلم فساد پر کھڑی ہوئی تھی۔ لیکن یہ عجیب بات تھی کہ ان فسادات کے سلسلے میں نہ کہیں کمار اندر دیو نرائن سنگھ کا نام آتا تھا، نہ ست نرائن پانڈے کا۔ بلکہ پولیس اور مجسٹریوں کی تحقیقاتی رپورٹوں میں بالالتزام مسلمانوں ہی کو مورد الزام ٹھرایا گیا تھا۔"


  • قدرت اللہ شہاب کے ہاتھ 1947ء کے اوائل میں کانگریس کی ایک مسلم کُش خفیہ دستاویز آ گئی جس کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
"ایک دو روز کی تگ و دو، منت سماجت اور حیلے بہانوں کے بعد آخر بڑی مشکل سے مجھے قائداعظم تک رسائی حاصل ہوئی۔ جب میں ان کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔ فارغ ہو کر ایک نظر مجھ پر ڈالی اور گرجدار آواز میں بولے۔
"کیا بات ہے؟"
"سر میں آپ کے لیے ایک مفید دستاویز لے کر آیا ہوں۔ میرا نام قدرت اللہ شہاب ہے۔ میں اڑیسہ میں ڈپٹی ہوم سیکرٹری ہوں۔" میں نے ایک ہی سانس میں زیادہ سے زیادہ باتیں کہنے کی کوشش کی۔
"کیسی دستاویز؟"
میں نے آگے بڑھ کر کانگریس کا سرکلر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ وہ بڑے سکون سے اسے پڑھتے رہے۔ میں کھڑا ہوا ان کے چہرے کا جائزہ لیتا رہا۔ ان کے جذبات میں ہلکا سا ارتعاش بھی پیدا نہ ہوا۔ ایک بار پڑھ چکے تو مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا۔ ”"ہاں یہ ہمارے لیے مفید ہو سکتی ہے۔“یہ کہہ کر وہ دوبارہ اس کے مطالعے میں مصروف ہو گئے۔ اس کے بعد مجھ سے دریافت کیا۔ ”یہ تم نے کہاں سے حاصل کی ہے ؟"
میں نے فرفر ساری بات کہہ سنائی۔
”ویل ویل، تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ This is breach of Trust
میں نے اپنا قومی فرض پورا کرنے کے موضوع پر تقریر کرنے کی کوشش کی تو قائداعظم نے مجھے کسی قدر سختی سے ٹوک دیا اور فرمایا۔
Don't You see each copy is numbered. Its disappearance would be easily tracked down to you, are you prepared to face the consequences?
میں نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔
"yes Sir, I am fully prepared"”
“کیا میں اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہوں ؟" قائداعظم نے دستاویز کی طرف اشارہ کر کےکہا۔
”جی ہاں سر! یہ میں آپ ہی کے لیے لایا ہوں۔“
"آل رائٹ“ تم جا سکتے ہو۔“ قائداعظم نے حکم دیا۔
میں دروازے سے باہر نکلنے لگا تو قائداعظم نے بلند آواز سے پکار کر پوچھا۔ ” تم نے اپنا نام کیا بتایا تھا؟"
"قدرت اللہ شہاب"
”بوائے دوبارہ اایسی حرکت مت کرنا۔ قائداعظم نے فرمایا، مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت ان کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ تھی یا نہیں تھی۔ لیکن ان کے لہجے میں مجھے شفقت کا ہلکا سا گداز ضرور محسوس ہوا۔
یہ اپریل ۱۹۴۷ء کی بات ہے۔ اس وقت ہندوستان کی بساط سیاست پر مسلمانوں کے خلاف جو خطرناک چالیں چلی جا رہی تھیں۔ ان کا پس منظر بڑا سبق آموز ہے۔
جب سے لاہور میں ۱۹۴۰ء کا پاکستان ریزولیوشن منظور ہوا تھا، اسی وقت سے گاندھی جی لنگر لنگوٹ کس کر اسے ناکام بنانے کے لیے میدان عمل میں اترے ہوئے تھے۔ ۱۹۴۲ء میں جب برطانیہ کو جرمنی اور جاپان کے ہاتھوں چاروں طرف شکست نصیب ہو رہی تھی تو انہوں نے ایک منجھے ہوئے سیاسی جواری کی طرح حالات کو آنک تول کر اپنا پانسہ پھینکا، اور مسلمانوں کو اعتماد میں لیے بغیر ”ہندوستان چھوڑ دو" (Quit India) تحریک کا کھڑاگ کھڑا کر دیا۔ جب یہ پوچھا جاتا تھا کہ اگر انگریز واقعی چلے جائیں، تو ہندوستان کس کے حوالے کر کے جائیں۔۔۔۔ تو گاندھی جی کے چیلے چانٹوں کا جواب بڑا جازم اور غیر مبہم ہوتا تھا۔
"To God or to Anarchy"
طوائف الملوکی کی صورت میں پوبارہ اکثریت ہی کی تھی اور برصغیر میں اکثریت ہندو قوم کی تھی۔
ڈیڑھ دو برس بعد جب جنگ عظیم کا پانسہ پلٹنا شروع ہوا اور برطانیہ کا پلہ بھاری دکھائی دینے لگا، تو گاندھی جی نے بھی پینترا بدلا۔ جس وقت برطانیہ شکست کھا رہا تھا، گاندھی جی جنگ کے بائیکاٹ کا پرچار اس اصول کی بنا پر کر رہے تھے کہ جنگ و جدال اہنساپرم دھرم کے منافی ہے۔ لیکن لڑائی کا نقشہ بدلتے ہی اہنسا کا اصول بھی موم کی ناک کی طرح مڑ گیا۔ اب گاندھی جی نے برٹش حکومت کو یہ پیشکش کی، اگر ہندوستان کی آزادی کا اعلان کر کے اقتدار فوراً منتقل کر دیا جائے، تو جنگ کے ہر شعبے میں برطانیہ کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا جائے گا۔ مہاتما گاندھی کے سیاسی دین میں اہنسا کے اصول کو مصلحتوں کی بے حد لچک حاصل تھی۔ جب جی چاہا ہارتے ہوئے انگریز کے خلاف جنگی بائیکاٹ کے لیے استعمال کر لیا اور جونہی حالات بدلے جیتے ہوئے انگریز کے ساتھ جنگی تعاون کے لیے کام میں لے آئے۔ امور ریاست اور سیاست میں ریا کاری کو فنون لطیفہ کا درجہ دینے والے کوٹلیا کا ارتھ شاستر بھی گاندھی جی کے عملی ہتھکنڈوں کے سامنے بازیچہ اطفال نظر آتا ہے۔
جنگ ختم ہوتے ہی انگلستان میں لیبر پارٹی بر سر اقتدار آ گئی۔ اس پارٹی کے ساتھ کانگرس کے گہرے تعلقات تھے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر گاندھی جی نے گرگٹ کی طرح ایک اور رنگ بدلا۔ اب انہوں نے برملا یہ رٹ لگانی شروع کر دی کہ انگریزوں کے بعد ہندوستان میں سیاسی اقتدار کی وارث صرف آل انڈیا کانگرس ہے۔ جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے، اقتدار حاصل کرنے کے بعد کانگرس خود اس سے نپٹ لے گی۔
اہنساپرم دھرم کا یہ دیرینہ پجاری اب باضابطہ تلوار سونت کر میدان جنگ میں اترنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔
مطالبہ پاکستان کے متعلق گاندھی جی کا موقف یہ تھا کہ ہندوستان ایک اٹوٹ اور ناقابل تقسیم اکائی ہے۔ اس کو تقسیم کرنے کی کوشش گئو ماتا کا جسم کاٹنے کے مترادف ہے۔ جراحی کا یہ عمل بھارت ماتا پر کرنے سے پہلے ان کی اپنی لاش پر کرنا پڑے گا۔
اس پس منظر میں برطانوی کیبنٹ مشن آزادی ہند کی گتھی سلجھانے مارچ ۱۹۴۶ء میں ہندوستان وارد ہوا۔ مشن میں لارڈ پیتھک لارنس، سرسٹیفورڈ کرپس اور مسٹر اے وی الیگزینڈر شامل تھے۔
رجحان طبع اور میلا خاطر کے لحاظ سے لاڈ پیتھک لارنس گاندھی جی کی مہاتمائی کے اسیر تھے۔ وہ گاندھی جی کو مشرقی دانائی اور روحانیت کا منبع سمجھتے تھے۔ اور ان دونوں کا آپس میں گرو اور چیلے کا سا تعلق تھا۔
مشن کے سب سے زیادہ تیز، طرار اور فعال ممبر سر سٹیفورڈ کرپس تھے۔ پنڈت نہرو کے ان کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ مشن کی بیشتر اہم تجاویز پنڈت نہرو اور گاندھی جی کے خفیہ مشورے کے بعد مرتب کی جاتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے سر سٹیفورڈ کرپس اپنے ایک ذاتی دوست سدھیر گھوش کو دلال کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
مشن کے تیسرے ممبر اے وی الیگزینڈر کو کانگریسی لیڈروں کے ساتھ کسی قسم کی ذہنی یا جذباتی یا ذاتی وابستگی تو نہ تھی، لیکن ان کو یہ وہم لاحق تھا، کہ کانگرس کے مرد آہن ولبھ بھائی پٹیل کی خوشنودی حاصل کئے بغیر مستلبی میں آزاد ہندوستان اور انگلستان کے باہمی تعلقات خوشگوار نہیں رہ سکتے۔
اس ملی بھگت کے مقابلہ میں قائداعظم کی ذات یکتا و تنہا تھی۔ ان کا واحد ہتھیار ان کا ذاتی کردار تھا جس کا ایک نمایاں جوہر ان کی سیاسی بصیرت تھی۔ لیکن اس سے بھی بڑا جوہر ان کی کامل ثابت قدمی اور دیانتداری تھی، جسے نہ خوف دبا سکتا تھا، نہ خوشامد ڈگمگا سکتی تھی، نہ لالچ خرید سکتا تھا۔
جب کیبنٹ مشن ہندوستان آ رہا تھا، تو وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی نے اپنے بیان میں یہ اعلان کیا تھا۔ ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کا ہمیں خیال ہے۔ لیکن ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کوئی اقلیت اکثریت کے حقوق پر کسی قسم کا ویٹو استعمال کر سکے۔"
اس اعلان پر کانگرس نے بڑی بغلیں بجائیں۔ مسلم لیگ کے لیے یہ ایک طرح کی وارنگ تھی کہ وہ کانگرس کے عزائم میں زیادہ روڑے اٹکانے کی کوشش نہ کرے۔ قائداعظم نے اس دھمکی کا بڑا خوبصورت جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک مکڑی اپنا جالا بن کر تیار کرے اور پھر مکھی کو مدعو کرے کہ وہ تشریف لائے اور جالے میں آ کر پھنس جائے۔ اب اگر مکھی اس دعوت کو قبول نہیں کرتی۔ تو وزیراعظم اٹیلی کے الفاظ میں یہی کہا جائے گا، کہ مکھی مکڑی کے خلاف ویٹو استعمال کر رہی ہے۔
کیبنٹ مشن ہندوستاں میں تین ماہ کے قریب رہا۔ اس عرصے کی داستاں انگریزوں اور ہندوؤں کی سیاسی چیرہ دستیوں منافقتوں ریاکاریوں، دروغ بافیوں اور فریب سازیوں کی عجیب و غریب بھول بھلیاں ہے۔ کانگرس نے اپنا دام تزویر قدم قدم پر بچھا رکھا تھا۔ اور برٹش حکومت کے نمائندے مسلم لیگ کو گھیر گھار کر اسے اس میں پھنسانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔ قائداعظم نے ان سب کا مقابلہ بڑی بے لاگ راست بازی اور ثابت قدمی سے کیا۔ کیبنٹ مشن کا فیصلہ یہ تھا کہ برصغیر کو پاکستان اور بھارت کے دو الگ الگ اور خود مختار حصوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ متحدہ ہندوستان میں امور خارجہ دفاع اور ذرائع آمد و رفت مرکزی حکومت کے اختیار میں ہوں گے۔ صوبوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک گروپ میں ہندو اکثریت کے صوبے ہوں گے۔ دوسرے گروپ میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان ہوں گے۔ تیسرے گروپ میں بنگال اور آسام کے صوبے ہوں گے۔ تین مرکزی شعبوں کو چھوڑ کر باقی سب امور میں ہر گروپ خود مختار ہو گا۔
اب منااقضانہ سیاست کاری کا ایک نیا منظر ظہور میں آیا۔ ایک الگ پاکستان کا مطالبہ کرنے والی مسلم لیگ نے تو یہ تجویز منظور کر لی۔ لیکن اکھنڈ بھارت کی رٹ لگانے والی کانگرس نے اسے مسترد کر دیا۔
مسلم لیگ کی طرف سے اس تجویز کی منظوری قائد اعظم کی سیاسی بصیرت کا عملی شاہکار ہے۔ مطالبہ پاکستان رو ہو جانے کے بعد یہ تجویز بھاگتے چور کی سب سے اچھی لنگوٹی تھی۔ اس میں کم از کم یہ گارنٹی تو موجود تھی، کہ صوبوں کی گروپ بندی کی وجہ سے ایک طرف پنجاب، سرحد سندھ اور بلوچستان اور دوسری طرف بنگال اور آسام کے مسلمانوں کو اپنے معاملات میں بڑی حد تک ہندو مرکزیت کے اثر سے خود مختاری حاصل ہو گی۔ اس کے علاوہ قائداعظم ہندو ذہنیت سے بڑی اچھی طرح واقف تھے۔ شاید ان کے ذہن میں یہ خیال بھی ہو کہ جس وجہ سے مسلم لیگ اس فارمولے کو منظور کر رہی ہے عین اسی وجہ سے کانگرس اسے مسترد بھی کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو مطالبہ پاکستان قدرتی طور پر از سر نو بحال ہو جائے گا۔
کانگرس کی گنگا جمنی سیاست نے وہی کیا جس کی اس سے توقع تھی۔ ہندو قیادت اتنا بھی برداشت نہ کر سکی کہ کسی فارمولے میں مسلمانوں کو ان کے اکثریتی صوبوں میں بھی کسی قسم کا سیاسی اختیار حاصل ہو۔ گاندھی جی چراغ پا ہو گئے۔ پنڈت نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کیبنٹ مشن پلان کی دھجیاں اڑا دیں۔ ہندو پریس نے شور و غوغا کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کیبنٹ مشن کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ انہوں نے کانگرسی لیڈروں کے ساتھ کچھ ظاہری اور کچھ خفیہ رابطے قائم کئے۔ کانگرس کے دباؤ میں آ کر مشن کے ممبروں نے اپنا تھوکا ہوا خود ہی چاٹنا شروع کر دیا۔ اور کانگرس کے ایماء پر خود اپنے ہی پلان میں انہوں نے ترمیم و تجدید اور غلط تعبیر، غلط تفسیر اور غلط استخراج کے ایسے ایسے پیوند لگانے شروع کر دیئے کہ اس کی شکل بدل گئی۔ اس کے معنی بگڑ گئے اور متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے جمہوری حقوق مکمل طور پر ہندو آمریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جس طور پر کانگریس نے اپنی یہ تحریک چلائی اس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ اس کا بنیادی مقصد انگریزی راج سے آزادی حاصل کرنا نہیں بلکہ مسلم لیگ کو شکست دینا ہے۔ کانگرس کی نظر میں ہندوستان کی آزادی اسی صورت میں قابل قبول تھی جبکہ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ہندوؤں کے زیر نگیں رکھنے کے لیے پہلے سے پورا پورا بندوبست کر لیا جائے ۔ قائداعظم اپنا فرض پورا کر چکے تھے۔ کیبنٹ مشن کے پلان کو تسلیم کر کے انہوں نے پاکستان کا مطالبہ داؤ پر لگا دیا تھا۔ لیکن کانگرس کے خوف و خوشامد میں آ کر مشن نے حب اپنے پلان کی صورت خود ہی مسخ کر دی تو مجبوراً مسلم لیگ نے بھی اپنی منظوری واپس لے لی۔ اس طرح اکھنڈ بھارت کی آخری ہنڈیا کانگرس نے خود اپنے ہاتھوں اپنی مسلم کش پالیسیوں کے چوراہے میں پھوڑ دی۔ کانگرس کے بلیک میل کے آگے سر جھکا کر اور دم ہلا کر خود اپنے ہی تیار کردہ پلان میں تحریف و تخریب کرنے والے کیبنٹ مشن نے بھی متحدہ ہندوستان کے تابوت میں آخری کیل گاڑ دی۔ چنانچہ قائداعظم نے اعلان کیا کہ ہم نے مفاہمت کی ہر کوشش، دلیل اور حجت کو کام میں لا کر دیکھ لیا ہے۔ اب یہ بات حتمی طور پہ پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ ان تمام مسائل کا واحد حل قیام پاکستان ہے۔ دوسروں سے مدد یا ہمدردی کی امید رکھنا بیکار ہے۔ ایسی کوئی عدالت نہیں جس کا دروازہ ہم انصاف حاصل کرنے کے لیے کھٹکھٹا سکیں۔ ہماری فقط ایک عدالت ہے وہ مسلمان قوم ہے۔
اب تک مسلم لیگ کی سیاست بڑی احتیاط سے آئینی حدود کے اندر رکھی جاتی تھی۔ لیکن اب وقت آ گیا تھا کہ انگریزوں کی موجودہ اور ہندوؤں کی مجوزہ غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سیاست کے اس اسلوب کو ترک کر دیا جائے۔ چنانچہ مسلم لیگ نے ”ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کیا اور ۱۶ اگست ۱۹۴۶ء ”ڈائریکٹ ایکشن ڈے مقرر ہو گیا۔ ساتھ ہی تمام مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ برٹش گورنمنٹ کے دیئے ہوئے خطابات واپس کر دیں۔
۱۶ اگست ۱۹۴۶ء کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے“ ہر جگہ امن و امان سے گزر گیا، لیکن کلکتہ میں بڑا زبردست فساد ہو گیا۔ مسٹر حسین شہید سہروردی بنگال کے چیف منسٹر تھے۔ انہوں نے ۱۶ اگست کو عام تعطیل کا دن قرار دے دیا۔ کانگرسی حلقے اس اعلان پر بڑے سیخ پا ہوئے۔ کلکتہ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ۲۴ فیصد کے قریب تھی۔ ۱۶ اگست کو وہ لاکھوں کی تعداد میں ”ڈائریکٹ ایکشن ڈے" کے جلسے میں شریک ہوئے۔ مسٹر سہروردی نے بڑی ولولہ انگیز تقریر کی۔ جلسے کے بعد جب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے تو شہر کے گلی کوچوں میں مسلح ہندوؤں نے اچانک ان پر قاتلانہ حملے شروع کر دیئے۔ جلسہ گاہ سے واپس آنے والے مسلمانوں کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ اس طرح یکایک ایک پہلے سے ٹھانی ہوئی سازش کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ بالکل نہتے تھے۔ اس کے برعکس ہندوؤں کے جتھے ہر قسم کے مہلک ہتھیاروں سے لیس تھے۔ وہ جگہ جگہ گھات لگا کر بے خبر اور بے شان و گمان مسلمانوں کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ تاریخ یہ کبھی نہ بتا سکے گی کہ اس روز کلکتہ کے گلی کوچوں، سڑکوں اور بازاروں میں کتنے مسلمان شہید ہوئے۔ ان کی تعداد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں تھی۔ یہ قیامت صغریٰ کئی روز تک شہر کے طول و عرض میں برپا رہی۔ کلکتہ کے ہندو پہلے سے تیار بھی تھے،مسلح بھی تھے اور تعداد میں بھی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھے۔ لیکن ہندو پریس یہی اودھم مچاتا رہا کہ زیادتی سراسر مسلمانوں کی ہے اور صوبے کے چیف منسٹر سہروردی ان کی خفیہ طور پر مدد کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے شہروں میں ہندو مسلم فساد کوئی نئی یا عجیب چیز نہیں تھی۔ لیکن جس پیمانے پر کلکتہ میں کشت و خون کا بازار گرم ہوا اس نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ دو فرقوں یا دو گروہوں کی لڑائی نہ تھی۔ بلکہ دراصل یہ دو قوموں کی جنگ تھی۔ برصغیر میں پہلی بار دو قومی نظریہ بساط سیاست سے نکل کر میدان کار زار میں اتر آیا تھا اور اس Great Calcutta Killing نے مستقبل کے نقشے پر بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب کئے۔
اس کا سب سے پہلا اثر عبوری حکومت کی تشکیل پر ہوا۔ کیبنٹ مشن کی سفارش کے مطابق وائسرائے ہند لارڈ ویول کانگرس، مسلم لیگ اور دوسری اقلیتوں کے نمائندوں پر مشتمل مرکزی کابینہ بنانے کی تگ و دو کر رہا تھا۔ یہاں پر بھی کانگرس کی یہی خواہش اور کوشش تھی کہ وائسرائے پہلے کانگرس کو عبوری حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے۔ اس کے بعد مسلم لیگ سمیت دوسری جماعتیں وائسرائے کی دعوت پر نہیں بلکہ کانگریس کے ساتھ اپنا اپنا معاملہ طے کر کے کابینہ میں شریک ہوں۔ مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کی گدی پر بیٹھنے کا حق تو صرف کانگریس کو حاصل ہو۔ باقی جماعتیں کانگریس کی خوشنودی حاصل کر کے محض طفیلیوں اور حاشیہ نشینوں کی حیثیت سے حکومت میں شامل ہو سکیں۔ لارڈ ویول اس چکمے میں آ گیا۔ اور اس نے کانگرس کے نمائندوں کو عبوری حکومت میں شامل ہونے کی براہ راست دعوت دے دی۔ گاندھی جی کا نخل تمنا ایک دم سرسبز ہو گیا۔ جب کسی نے ان سے پوچھا کہ عبوری حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت کا کیا بنے گا تو گاندھی جی نے خوشی سے چہک چہک کر جواب دیا کہ مسلم لیگ کو اب وائسرائے کی بجائے کانگرس کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ جناح صاحب کو چاہیے کہ اس بارے میں وہ پنڈت نہرو . سے انٹرویو مانگیں۔
ابھی عبوری حکومت قائم نہیں ہوئی تھی، کہ کلکتہ کا ہولناک فساد برپا ہو گیا۔ فساد کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے لارڈ ویول نے کلکتہ کا دورہ کیا تو اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ سپای پیشہ وائسرائے میدان جنگ کی نفسیات اور فن حرب کا تجربہ کار ماہر تھا۔ اس کے فوجی ذہن نے بڑی آسانی سے یہ اندازہ لگا لیا کہ کلکتہ میں ہندو مسلم فساد نہیں ہوا بلکہ سول وار ہوئی ہے۔ اور مسلمانوں کے جائز حقوق کو مزید پامال کیا گیا تو سارا برصغیر ایک خوفناک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
لارڈ ویول دیانتدار سپاہی اور باضمیر سیاست دان تھا۔ کلکتہ سے واپس آ کر اس نے اخلاقی جرات سے کام لیا اور کانگریس سے مشورہ کئے بغیر مسلم لیگ کو بھی عبوری حکومت میں شامل ہونے کی براہ راست دعوت دے دی۔
وائسرائے کے اس اقدام سے کانگرس کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ انگریزوں کے سائے تلے ہندوستان پر اکیلے راج کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ اس وقت ہندوستان کے سول اور فوجی اداروں میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ اگر عبوری حکومت کی باگ ڈور صرف کانگریس کے ہاتھ میں آ جاتی تو بلاشبہ اسے سارے ہندوستان پر رام راج کی راہ ہموار کرنے میں بڑی مدد ملتی۔ مسند اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد مسلم لیگ کو مستقل طور پر عبوری حکومت سے باہر رکھنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ کانگریس کے ہاتھ میں ایسے جی حضوریے مسلمان موجود تھے جو بڑے شوق سے انٹرم گورنمنٹ (عبوری حکومت) میں مسلم لیگی سیٹوں کی خانہ پری کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس طرح مسلم لیگی سیاست کا بڑھتا ہوا سیلاب سرکاری رکاوٹوں کی مدد سے اقلیتوں کی بند کھاڑی میں دھکیل دیا جاتا۔ اور تسلسل حکومت کا بہانہ بنا کر کانگریس اپنے اس دعوے کو بھی مستحکم کر لیتی کہ ہندوستان میں وہ برٹش حکومت کی واحد جانشین ہے۔ لیکن وائسرائے کے بروقت اقدام نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس پر کانگرس نے بڑا کہرام مچایا۔ طرح طرح کے حیلے بہانوں کی آڑ لے کر گاندھی جی نے لارڈ ویول کو بڑی سختی سے برا بھلا کہا۔ اور لندن میں برٹش گورنمنٹ کے پاس یہ شکایت لکھ بھیجی کہ وائسرائے کلکتہ کے فسادات سے بوکھلا کر بدحواسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وہ اعصابی تناؤ میں مبتلا ہے اور آئینی امور میں اس کی قوت فیصلہ کمزور پڑ گئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وائسرائے کی مدد کے لیے انگلستان سے کوئی ایسا قانونی ماہر بھیجا جائے جو لارڈ ویول سے زیادہ قابل اور صائب الرائے ہو۔
لارڈ ویول پر کانگرس کا یہ پہلا حملہ تھا۔ اس کے بعد کانگرسی لیڈر مسلسل اس تاک میں رہتے تھے کہ جس طرح ہو سکے قدم قدم پر وائسرائے کو ہر معاملے میں زک پہنچائی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے لندن میں اپنے بہی خواہوں کے ذریعہ ریشہ دوانیاں شروع کر رکھی تھیں کہ لارڈ ویول کی جگہ کوئی ایسا شخص وائسرائے مقرر ہو جسے کانگرس آسانی سے کٹھ پیلن کی طرح اپنے مفاد کی تار پر نچا سکے۔
کانگریس ۲ ستمبر ۱۹۴۶ء کو عبوری حکومت میں آئی تھی۔ ۱۵ اکتوبر کو مسلم لیگ بھی اس میں شامل ہو گئی۔ مسلم لیگ کی شمولیت کانگریس کی مرضی کے خلاف عمل میں آئی تھی۔ اس لیے کابینہ میں ان دونوں کی رفاقت شروع ہی سے معاندانہ اور مخاصمانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
عبوری حکومت ۱۴ اراکین پر مشتمل تھی۔ چھ کانگرسی، پانچ مسلم لیگی، ایک سکھ ایک عیسائی اور ایک پارسی۔ امور خارجہ اور کامن ویلتھ نہرو کے پاس تھے۔ ہوم انفارمیشن اور براڈ کاسٹنگ پٹیل کے پاس اور ڈیفنس سردار بلدیو سنگھ کے پاس۔۔۔۔۔ جو ہر لحاظ سے کانگریس ہی کا کل پرزہ تھا۔ کانگرس نے جان بوجھ کر فنانس کا پورٹ فولیو مسلم لیگ پر اس وجہ سے ٹھونے کی پیشکش کی کہ مسلمان مالیاتی حساب کتاب میں کمزور مشہور تھے اور کانگرس کو امید تھی کہ وہ وزارت خزانہ چلانے میں بری طرح ناکام ہوں گے۔ خان لیاقت علی خان نے یہ وزارت سنبھال کر اس چیلنج کو ایسی خوش اسلوبی سے قبول کیا کہ بہت جلد کانگرسی وزیر کف افسوس ملنے لگے کہ انہوں نے فنانس کا چارج مسلم لیگ کو دے کر بڑی فاش غلطی کی ہے۔
ہر حکومت میں وزارت خزانہ کا یہ ناخوشگوار فرض ہوتا ہے کہ وہ وسائل اور اخراجات میں توازن برقرار رکھے۔ اس مقصد کے لیے عبوری حکومت میں جب خان لیاقت علی خان کسی کانگرسی وزیر کی اخراجاتی تجاویز میں جائز مین میخ نکال کر اسے گھٹاتے یا نامنظور کر دیتے تھے تو اسے ان کی ضد اور سیاسی خصومت پہ محلول کیا جاتا تھا۔ مالیاتی امور کے علاوہ باقی بہت سے معاملات میں بھی دونوں گروہوں میں مستقل چخ چخ چلتی رہتی تھی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا عمیق اور وسیع تضاد سیاسی سطح پر تو کیبنٹ مشن کےروبرو آشکار ہو چکا تھا۔ ان دو قوموں کا باہمی عناد کلکتہ کے خونریز فسادات نے اجاگر کر دیا تھا۔ رہی سہی کسر اب عبوری حکومت کے تجربے نے نکال دی۔
ایک طرف تو حکومت کے اندر مسلم لیگ اور کانگرس کی کشاکشی روز بروز زور پکڑتی جا رہی تھی دوسری طرف برصغیر کے کئی حصوں میں ہندو مسلم فسادات باضابطہ خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ کلکتہ میں مسلمانوں کے قتل عظیم کے بعد مشرقی بنگال کے ضلع نواکھلی میں فساد ہو گیا، جہاں تین سو کے قریب افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ اس واقعہ کو ہندو پریس نے مبالغے کا رنگ چڑھا کر ایسے انداز سے پیش کیا کہ ملک کے طول و عرض میں شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ ہندو تو پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے۔ اب نواکھلی کو بہانہ بنا کر انہوں نے بہار میں جوابی کاروائی شروع کر دی۔ یہاں پر مسلمان اقلیت پر جو قیامت ٹوٹی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ صوبے میں کانگرسی وزارت بر سر اقتدار تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں آٹھ ہزار سے اوپر مسلمان شہید ہوئے۔ لیکن اصلی تعداد کا کسی کو پورا علم نہیں۔ جن علاقوں میں یہ خونی طوفان اٹھا وہاں پر مسلمانوں کی آبادی سات آٹھ فیصد سے بھی کم تھی۔ ہندوؤں کے مسلح جتھے ہاتھیوں، گھوڑوں اور قتل گاڑیوں پر سوار ہو کر نکلتے تھے اور گاؤں گاؤں جا کر مسلمان آبادیوں کو نیست و نابود کر دیتے تھے۔ پیدل بلوائیوں کے جھنڈ کے جھنڈ ٹڈی دل کی طرح پھیلے ہوئے تھے اور مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر چن چن کر برچھیوں اور بھالوں سے مار ڈالتے تھے یا گھروں میں بند کر کے زندہ جلا دیتے تھے۔ درجنوں مسجدیں کھود کر ہل چلا دیا گیا۔ سینکڑوں عورتوں نے اپنی عصمت بچانے کی خاطر کنوؤں میں کود کر جان دے دی۔ بہت سے بچوں کو درختوں کے تنوں کے ساتھ میخوں سے ٹھونک کر مصلوب کر دیا گیا۔ ایک بھاری اکثریت کے ہاتھوں ایک قلیل، بے ضرر اور بے یار و مددگار اقلیت پر ظلم و بربریت کی اس سے زیادہ گھناؤنی مثال ملنا محال ہے۔
بہار کے بعد یوپی کی باری آئی۔ گڑھ مکیتسر میں ہر سال ہندوؤں کا میلہ لگتا تھا جس میں لاکھوں ہندو شامل ہوا کرتے تھے۔ چند ہزار غریب مسلمان بھی اس میلے میں خرید و فروخت کا سامان لے کر جمع ہوا کرتے تھے۔ ایک روز ہندوؤں نے اچانک مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے اور دیکھتے ہی دیکھتے میلے میں موجود تمام مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو بڑی بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
جب کلکتہ پر مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے تو ہندو پریس نے اسے مسلمانوں کی زیادتی کا رنگ دے کر بڑا شور و غوغا کیا تھا۔ نواکھلی کے واقعات کو بھی ہندو پریس نے بڑے ڈرامائی اور سنسنی خیز مبالغے کے ساتھ اچھالا تھا۔ لیکن بہار اور گڑھ مکیتسر میں مسلمانوں کے قتل عام پر اس پریس کو گویا سانپ سونگھ گیا۔ بہار اور یوپی کی کانگرسی وزارتوں کی شہہ پا کر سارے پریس نے ایک طرح کی اجتماعی چپ سادھ لی۔ لیکن جادو کی طرح خون ناحق بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ان دونوں لرزہ خیز واقعات کی خبریں بڑی سرعت سے پھیل گئیں اور رفتہ رفتہ سارا برصغیر ہندو مسلم تناؤ اور کشیدگی کی انتہائی خطرناک زد میں آ گیا۔
جب نواکھلی میں فساد ہوا تو گاندھی جی فوراً وہاں پہنچے اور کئی ماہ تک انہوں نے متاثرہ علاقوں کا پیدل دورہ کیا۔ وہ روزانہ تین چار میل پاپیادہ چلتے تھے، اور ہر جگہ مسلمانوں کو تلقین کرتے تھے کہ ہندو تمہارے بھائی ہیں اور ان کی حفاظت کرنا تمہارا فرض منصبی ہے۔
اسی دوران بہار میں فسادات برپا ہو گئے۔ بہار کے کچھ کانگرسی مسلمانوں کی بار بار استدعا پر گاندھی جی نے نواکھلی کا پیچھا چھوڑا اور بڑی مشکل سے باےر تشریف لائے۔ یہاں پر انہوں نے جو کچھ دیکھا اس نے ہندو جاتی کی امن پسندی، صلح جوئی اور غیر تشدد پسندی کے متعلق ان کے بہت سے مفروضات کی کایا پلٹ دی۔ یہاں پر وسیع و عریض علاقوں میں مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹ چکا تھا۔ گھر لٹ چکے تھے۔ مسجدیں ویران پڑی تھیں۔ کنوئیں مسلمان عورتوں کی لاشوں سے اٹا اٹ بھرے ہوئے تھے۔ کئی جگہ ننھے منے بچوں کے ڈھانچے اب تک موجود تھے جنہیں لوہے کے کیل گاڑ کر درختوں اور دیواروں کے ساتھ ٹانک دیا گیا تھا۔ یہ روح فرسا نظارے دیکھ کر گاندھی جی کو غالباً زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ ہندو قوم اتنی نرم دل امن پسند اور غیر متشدد نہیں ہے جتنا کہ وہ سمجھتے اور پرچار کرتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف بپھر کر ہندو بھی خونخوار درندگی کا پورا پورا مظاہرہ کرنے پر قادر ہیں۔ گاندھی جی کے جیون ساتھی، سیکرٹری اور سوانح نگار پیارے لال نے اپنی کتاب "Mahatma Gandh: The Last Phase“ میں بڑے واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہار کی خونریزی دیکھ کر گاندھی جی کی آنکھوں سے پردہ اٹھ گیا اور متحدہ ہندوستان کے متعلق ان کا دیرینہ خواب ٹوٹ کر پاش پاش ہو گیا۔
ان المناک واقعات نے ایک طرف تو گاندھی جی کے ذاتی سیاسی اور اخلاقی فلسفے میں انقلاب عظیم برپا کر دیا، اور دوسری طرف وائسرائے ہند لارڈ ویول کے فوجی تربیت یافتہ ذہن کے سامنے بھی تلخ حقائق کے انبار لگا دیئے۔ سارا برٹش انڈیا خانہ جنگی کی مہیب لپیٹ میں گھرا ہوا تھا۔ اس بڑھتے ہوئے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے وائسرائے کے وسائل خوفناک حد تک محدود تھے۔ جنگ عظیم کی وجہ سے اعلیٰ انتظامی سروسوں میں انگریز افسروں کی تعداد پہلے سے نصف رہ گئی تھی۔ برٹش گورنمنٹ کے سٹیل فریم ( آئی سی ایس) میں پانچ سو سے بھی کم انگریز افسر تھے۔ ان کی اکثریت بھی آزادی سے پہلے ریٹائر ہو کر گھر واپس جانے کے لیے پر تول رہی تھی۔ ہندوستان پر برٹش ایمپائر کا سایہ قائم رکھنے کے لیے ان لوگوں نے بڑے بڑے معرکے سر کئے تھے۔ لیکن اب ایمپائر کا سایہ ڈھل رہا تھا۔ اب محض ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی قتل و جدال میں کوئی نمایاں حصہ لینے میں انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ہندوستان کی مسلح افواج میں بھی برٹش افسروں کی تعداد گیارہ ہزار سے گر کر فقط چار ہزار رہ گئی تھی۔ گورا فوج کے یونٹ بھی بڑی سرعت سے انگلستان واپس جا رہے تھے۔ کیونکہ جنگ کے بعد ملک کی تعمیر نو کے لیے برطانیہ کو اپنی افرادی قوت کام پر لگانے کی شدید ضرورت تھی۔ سول اور ملٹری وسائل کی اس تقلیل و تخفیف کے پیش نظر برصغیر کے بگڑتے ہوئے حالات پر کنٹرول رکھنا وائسرائے کے بس کا روگ نہ تھا۔ عوامی سطح پر کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ سیاسی سطح پر عبوری حکومت میں مسلم لیگی اور کانگرسی گروپوں کی باہمی کشمش اور چپقلش روز بروز تلخ سے تلخ تر ہو رہی تھی۔ انتظامی سطح پر غیر جانبدار اور موثر وسائل سراسر ناکافی تھے۔ ان تمام حقائق کا جائزہ لے کر لارڈ ویول اس نتیجے پر پہنچا کہ برطانیہ کے لیے ہندوستان پر مزید حکومت کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اس نے برٹش گورنمنٹ کے پاس پر زور سفارش کی کہ برصغیر کا اقتدار مقامی لوگوں کو منتقل کر کے برطانیہ کو جلد از جلد اپنی اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔
اس پس منظر میں وزیراعظم اٹیلی نے ۲۰ فروری ۱۹۴۷ء کو یہ تاریخی اعلان کیا کہ حکومت برطانیہ ۱۵ جون ۱۹۴۸ء تک لازمی طور پر ہندوستان کے اقتدار سے دستبردار ہو جائے گی۔ یہ اقتدار کس کو سونپا جائے گا؟ کیا اقتدار برٹش انڈیا کی کسی واحد مرکزی حکومت کو منتقل کیا جائے گا یا الگ الگ صوبوں کے سپرد کیا جائے گا یا کوئی اور مناسب اور متبادل طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ اس کا فیصلہ وقت آنے پر حالات کے پیش نظر طے پایا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی وزیراعظم اٹیلی نے یہ اعلان بھی کیا کہ لارڈ ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان پر کانگرس نے خوشی کے بڑے شادیانے بجائے۔ لارڈ ویول مدت سے کانگریس کی تنقید و تنقیض کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ کانگریسی گرگے کافی عرصہ سے حکمران لیبر پارٹی کے حلقوں میں لارڈ ویول کے خلاف اپنا اثر و رسوخ مستعدی سے استعمال کر رہے تھے۔ فیلڈ مارشل دیول کا قصور صرف اتنا تھا، کہ کانگرس کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے اس نے مسلم لیگ کو براہ راست عبوری حکومت میں شامل کر لیا تھا۔ اب یہ بات تاریخی شواہد سے پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ لارڈ ویول کی معزولی اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تقرری کا پنڈت جواہر لال نہرو کو پہلے سے علم تھا اور اس فیصلے کو ان کی آشیر باد بھی حاصل تھی۔"[1]

تصانیفترميم

  1. شہاب نامہ خودنوشت سوانح حیات
  2. یاخدا
  3. نفسانے
  4. ماں جی
  5. سرخ فیتہ

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم