مرکزی مینیو کھولیں

محمد علی کلے کے بعد مائیک ٹائسن کو دنیا کا بہترین باکسر مانا جاتا ہے اگرچہ ان کا ریکارڈ محمد علی سے بھی شاندار رہا۔ باکسنگ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ جوشیلے لوگوں کا کھیل ہے لیکن باکسنگ میں صرف جوش ہی نہیں ہوش کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ایسا باکسر ہو جو جوش کی بجائے جنون سے کام لیتا ہو تو مدمقابل بھی اس کا سامنا کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، مائیک ٹائسن ایسے ہی جنونی باکسر تھے۔ مائیک ٹائسن نے 20 سال کی عمر میں ورلڈ باکسنگ کونسل، ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشن کا ورلڈ ہیوی ویٹ ٹائٹل جیت کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔ مائیک ٹائسن نے اپنے کیریئر کے پہلے 19 مقابلوں میں حریف باکسرز کو ناک آؤٹ کیا اور ان میں سے انہوں نے 12 حریفوں کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کیا۔ 1986ء میں مائیک ٹائسن نے ٹریور بریبیک کو شکست دے کر ڈبلیو بی سی ہیوی ویٹ ٹائٹل جیتا۔ انہوں نے ٹریور کو دوسرے راؤنڈ میں ٹیکنیکل ناک آؤٹ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جیمز سمتھ کو ہرا کر ڈبلیو بی اے اور ٹونی ٹکر کو شکست دے کر آئی بی ایف ٹائٹل اپنے نام کیا۔ 1988ء میں انہوں نے مائیکل سپنکس کو 91 سیکنڈ میں ناک آؤٹ کر کے خود کو دنیا کا بہترین باکسر ثابت کیا۔ اس کے بعد انہوں نے 9 بار ورلڈ ہیوی ویٹ ٹائٹلز کا دفاع کیا۔ پورے کیریئر کے دوران انہوں نے 58 مقابلوں میں حصہ لیا۔ ان میں سے 50 میں وہ کامیاب رہے جبکہ 6 میں انہیں شکست ہوئی اور 2 کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ انہوں نے 44 مقابلوں میں اپنے حریفوں کو ناک آؤٹ کیا۔ مائیک ٹائسن 30 جون 1966ء کو بروکلین نیویارک میں پیداہوئے۔ بچپن سے ہی شدید جارحانہ رویئے کے حامل مائیک ٹائسن کو جونیئر سکول سے ہی نکال دیا گیا اور وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے تاہم 1989ء میں سنٹرل سٹیٹ یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ مائیک ٹائسن محمد علی سے بھی بڑے باکسر کہلا سکتے تھے لیکن ان کا کیریئر ہمیشہ تنازعات کا شکار رہا۔ ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کے جرم میں انہیں 6 سال قید کی سزا ملی۔ اس کے بعد بھی وہ باکسنگ میں حصہ لیتے رہے، انہوں نے ایک مقابلے میں مقابل باکسر ہولی فیلڈ کا کان چبا ڈالا جس کے باعث ان پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مائیک ٹائسن نے 3 شادیاں کی جن سے ان کے 7 بچے ہوئے۔ ان کی بیویوں نے ان پر گھریلو تشدد کا الزام بھی لگایا۔ وہ منشیات کے استعمال کے باعث بھی جیل گئے اور انہی تنازعات نے ان کے کیریئر کو اس عروج پر نہ پہنچنے دیا جس پر وہ پہنچ سکتے تھے۔ محمد علی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے بھی اسلام قبول کیا اور اپنا نام ملک عمر بن عبد العزیز رکھا۔ اگرچہ قبول اسلام کے بعد وہ کافی عرصے تک اس کی تعلیمات سے دور ہی رہے لیکن اب وہ ایک عملی مسلمان کی زندگی گزار رہے ہیں۔[1]

حوالہ جاتترميم