مادھو راؤ اول (14 فروری 1745ء – 18 نومبر 1772ء) مرہٹہ سلطنت کے چوتھے پیشوا تھے۔ ان کے دور اقتدار میں مرہٹہ سلطنت پانی پت کی تیسری جنگ کے زخموں سے جانبر ہونے کی کوشش کرتی رہی۔ اس صورت حال کو تاریخ میں "مرہٹوں کی حیات نو" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مادھو راؤ کو مرہٹہ تاریخ کے عظیم پیشواؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

مادھو راؤ اول
(مراٹھی میں: माधवराव पेशवे ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل= مادھو راؤ اول کا پورٹریٹ
تفصیل= مادھو راؤ اول کا پورٹریٹ

مرہٹہ سلطنت کے پیشوا
مدت منصب
23 جون 1761ء – 18 نومبر 1772ء
حکمران راجا رام دوم، ستارا
بالاجی باجی راؤ
ناراین راؤ پیشوا
معلومات شخصیت
پیدائش 14 فروری 1745ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مراٹھا سلطنت   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 نومبر 1772ء (27 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پونے   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سل   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل مراٹھی
مذہب ہندو مت
والد بالاجی باجی راؤ   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگی اور منصبِ پیشوائی

ترمیم

مادھو راؤ نانا صاحب پیشوا کے دوسرے بیٹے تھے۔ سنہ 1745ء میں مادھو راؤ کی ساونور میں پیدائش ہوئی۔ ان کی پیدائش کے وقت مرہٹہ سلطنت کی سرحدیں مغربی، وسطی اور شمالی ہندوستان کے خاصے بڑے علاقوں تک پھیل چکی تھیں۔ 9 دسمبر 1753ء کو پونہ میں مادھو راؤ کا رمابائی سے بیاہ ہوا۔

ان کے والد نانا صاحب نے اپنے دور اقتدار میں مرہٹہ سلطنت کی سرحدوں کو بے حد وسیع کر دیا تھا اور ایک بہتر حکمرانی کی داغ بیل ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم وہ پانی پت کے میدان میں احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں 14 جنوری 1761ء کو مرہٹہ تاریخ کی بدترین شکست کے ذمہ دار بھی تھے۔ اس جنگ میں مرہٹوں نے اپنے بہترین جرنیل کھوئے، خود نانا صاحب کا بڑا بیٹا اور وارث وشواس راؤ بھی کام آگیا۔ نانا صاحب پیشوا کی وفات کے بعد سولہ سالہ مادھو راؤ مرہٹہ سلطنت کے اگلے پیشوا مقرر ہوئے اور ان کے چچا رگھوناتھ راؤ نائب السلطنت کے طور پر کام کرتے رہے۔

قتل کی کوشش

ترمیم

یہ حادثہ 7 ستمبر 1769ء کو صبح کے وقت پیش آیا۔ مادھو راؤ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پونہ کے پروتی مندر سے لوٹ رہے تھے کہ اچانک ان کے ایک جرنیل رام سنگھ نے اپنی تلوار سے ان پر حملہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے مادھو راؤ بروقت خبردار ہو گئے اور اس اچانک وار سے اپنے آپ کو بچا لیا لیکن بچاؤ کی اس کوشش میں ان کا کاندھا زخمی ہو گیا۔ مادھو راؤ کا خیال تھا کہ یہ رگھوناتھ راؤ کی کوشش تھی لیکن کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا اس لیے انھوں نے سالار رام سنگھ کو قید کر دیا۔

حوالہ جات

ترمیم

مزید پڑھیے

ترمیم