محمد جواد باہنر (5 ستمبر 1933ء- 30 اگست 1981ء) ایک شیعہ ایرانی ماہر الہیات اور سیاست دان تھے جنہوں نے اگست 1981ء میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے تک ایران کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ باہنر اور محمد علی رجائی کی حکومت کے دیگر ارکان کو مجاہدین خلق نے قتل کر دیا۔

شہید (اسلام)  ویکی ڈیٹا پر (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
محمد جواد باہنر
(فارسی میں: محمدجواد باهنر ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل=

ایران کے وزیر اعظم 48th
مدت منصب
4 اگست 1981 – 30 اگست 1981
صدر محمد علی راجائی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد علی راجائی
محمد رضا مہدی کنی (نائب) Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر تعلیم
مدت منصب
10 اگست 1980 – 10 اگست 1981
صدر ابوالحسن بنی صدر
وزیر اعظم محمد علی راجائی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد علی راجائی
علی اکبر پرورش Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مجلس ایران
مدت منصب
28 مئی 1980 – 10 اگست 1980
ووٹ 1,385,197 (64.8%)
ماہرین کی اسمبلی برائے آئین
مدت منصب
15 اگست 1979 – 15 نومبر 1979
ووٹ 205,765 (80.2%)
معلومات شخصیت
پیدائش 5 ستمبر 1933[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کرمان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 اگست 1981 (48 سال)[2][1][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تہران  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات انفجاری آلہ  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن بہشت زہرا  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت حزب جمہوری اسلامی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رشتے دار محمد رضا باہنر (بیٹا)
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ تہران  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ڈاکٹریٹ[4]  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان،  معلم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ تہران  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Mohammad-Javad Bahonar signature.svg

ابتدائی زندگیترميم

محمد جواد باہنر 3 ستمبر 1933ء کو کرمان، ایران میں پیدا ہوئے۔ اس کے والد ایک سادہ تاجر تھے اور کرمان شہر میں ان کی ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ وہ نو بچوں میں دوسرا بچہ تھا، اور اس کا خاندان بہت غریب تھا۔ بچپن میں، اسے مقامی مکتب-خانہ میں قرآن پڑھایا جاتا تھا (قومی اسکول کے نظام کے نافذ ہونے سے پہلے مقامی ملا کے گھر اکثر طالب علم پڑھتے تھے) اس نے فارسی پڑھنا لکھنا بھی سیکھا۔ آیت اللہ ھذی کی رہنمائی میں، اس نے معصومیہ کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ اسی وقت وہ قدیم اسکول کی پانچویں ڈگری حاصل کر سکتا تھا۔

تعلیمترميم

باہنر نے پرائمری تعلیم کرمان کے معصومیہ اسکول سے پاس کی۔ 1953ء میں، وہ حوزہ علمیہ قم گئے اور ایرانی انقلاب کے رہبر روح اللہ خمینی کی کلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے تہران یونیورسٹی سے الہیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ، وہ تہران یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر تھے اور مذہبی اسباق اور الہیات پڑھاتے تھے۔

وفاتترميم

باہنر اور راجائی 29 ستمبر 1981ء کو وزیر اعظم کے دفتر میں ہونے والے ایک دھماکے میں مارے گئے تھے۔[6]

 
30 ستمبر 1981ء کو اطلاعات اخبار کی سرخی

اولادترميم

محمد جواد باہنر نے پسماندگان میں چار بچے دو بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا بیٹا ناصر باہنر ہے، جو امام صادق یونیورسٹی کی فیکلٹی کے رکن اور ویلفیئر کلچرل کمپلیکس کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے دوسرے بیٹے نے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں "ایئر اسپیس" کی تعلیم حاصل کی اور اس وقت وزارت دفاع میں کام کر رہا ہے۔ اس کی دو بیٹیاں ہیں، ایک ڈاکٹر اور دوسری ڈینٹسٹ ہے۔[7]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/memorial/56940553 — بنام: Mohammad Javad Bahonar — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Mohammad-Javad-Bahonar — بنام: Mohammad Javad Bahonar — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000016444 — بنام: Mohammad Djavad Bahonar — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ربط : https://d-nb.info/gnd/1011173832  — اخذ شدہ بتاریخ: 28 مارچ 2015 — اجازت نامہ: CC0
  5. شهید باهنر به روایت همسر
  6. زندگی محمد جواد باهنر
  7. "یادمانده‌های محمدرضا باهنر از دوران نمایندگی".  سانچہ:پیوند مرده