مقوقس (شاہ مصر)

(مقوقس سے رجوع مکرر)

مقوقس شاہِ مصر اسکندریہ کا حاکم جسے حضرت محمد نے ایک خط لکھا تھا۔

مقوقس (شاہ مصر)
Muhammad letter maqoqas egypt.jpg
 

معلومات شخصیت
تاریخ وفات 21 مارچ 642  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt.svg مصر  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نسل
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان مصری عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان یونانی زبان،  قبطی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقوقس کو لکھا گیا خط

نامترميم

مقوقس شاہ ِ مصر کا نام جریج بن متی تھا [1] ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اس کا نام بنیامین بتلایا ہے۔ جس کا لقب مقوقس تھا۔ اور جو مصر واسکندریہ کا بادشاہ تھا۔

خط کا متنترميم

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد کی طرف سے مقوقس عظیم ِ قِبط کی جانب !! اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد : میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لاؤ سلامت رہوگے۔ اور اسلام لاؤ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا۔ لیکن اگر تم نے منہ موڑا تو تم پراہل ِ قبط کا بھی گناہ ہوگا۔ اے اہل ِ قبط ! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان میں برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے بعض، بعض کو اللہ کی بجائے رب نہ بنائیں۔ پس اگر وہ منہ موڑ یں تو کہہ دوکہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۔اس خط کو پہنچانے والے حاطب بن ابی بلتعہ تھے مقوقس نے کہا : ہمارا ایک دین ہے جسے ہم چھوڑ نہیں سکتے جب تک کہ اس سے بہتر دین نہ مل جائے۔ جبکہ مقوقس نے نبیﷺ کا خط لے کر (احترام کے ساتھ ) ہاتھی دانت کی ایک ڈبیا میں رکھ دیا اور مہرلگا کر اپنی ایک لونڈی کے حوالے کر دیا۔ پھر عربی لکھنے والے ایک کاتب کو بلا کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حسب ذیل خط لکھوایا :

خط کا جوابترميم

بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد بن عبد اللہ کے لیے مقوقس عظیم قبط کی طرف سے ۔ آپ پر سلام ! اما بعد میں نے آپ کا خط پڑھا۔ اورا س میں آپ کی ذکر کی ہوئی بات اور دعوت کو سمجھا۔ مجھے معلوم ہے کہ ابھی ایک نبی کی آمد باقی ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ شام سے نمودار ہوگا۔ میں نے آپ کے قاصد کا اعزاز واکرام کیا۔ اور آپ کی خدمت میں دولونڈیاں بھیج رہاہوں جنہیں قبطیوں میں بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ اور کپڑے بھیج رہا ہوں۔ اور آپ کی سواری کے لیے ایک خچر بھی ہدیہ کر رہا ہوں اور آپ پرسلام۔ مقوقس نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا اور اسلام نہیں لایا۔ دونوں لونڈیاں ماریہ اور سیرین تھیں۔ خچر کا نام دُلدل تھا۔ جو معاویہ کے زمانے تک باقی رہا۔[2][3]

مقوقس کی معزولیترميم

جب ہرقل روم کو مقوقس کے تحائف کی اطلاع ملی تو مقوقس کو معزول کر دیا جب عمرو بن العاص نے مصر فتح کیا تو اسے بحال کر دیا وہ ہر بات مسلمانوں کے مشورے سے کرتا تھا[4]

حوالہ جاتترميم

  1. رحمۃ للعالمین ،قاضی سلیمان منصورپوری،1/178
  2. رسول اکرم کی سیا سی زندگی، ص 141
  3. زاد المعاد، ابن قیم 3/61
  4. تاریخ ابن خلدون جلد 2 صفحہ 99 ناشر : دار الاشاعت اردو بازار کراچی پاکستان