منظر پھلوری ان شاعری کا خاصہ ان کا غیر منقوط (بغیر نقطوں کے نعتیہ کلام ہے ُاور یہی وجہ شہرت بھی ہے جس کی بدولت انھیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ وہ ایک مشہور کالج لوریٹ نیشنل اکیڈمی کے موجودہ پرنسپل بھی ہیں۔

منظر پھلوری
ادیب
پیدائشی نامعبدالمجید افضل
قلمی ناممنظر پھلوری
تخلصمنظر
ولادت10 جنوری1973ء اڈا پھلور
ابتداٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان
اصناف ادبشاعری
ذیلی اصنافغزل، نعت
تعداد تصانیفآٹھ
تصنیف اولارحم عالم
تصنیف آخرصاحب لولاک
معروف تصانیفارحم عالم ، ماہ حرا ، صاحب لولاک ، دل کے آنگن میں ، قربان شہہ والا ؐ ، ہم اور لوگ ہیں ، کیسے کہہ دوں مرے وطن میں امن ہے ،سرابوں کے سلسلے

نامترميم

منظر پھلوری کا اصل نام عبد المجید افضل ہے۔ والد کا نام محمد افضل ہے قلمی نام منظر پھلوری جبکہ غیر منقوط نعت میں اپنا تخلص ’’سائل‘‘ استعمال کرتے ہیں۔

تعلیمترميم

تعلیمی مدارج میں ایم اے (اردو)اور ایم اے (پنجابیبی ایڈ، ایم فل اُردو اور پی ایچ ڈی (ریسرچ اسکالر) ہیں۔

ولادتترميم

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ (پاکستان) سے ملحقہ قصبہ ’’اڈا پھلور‘‘ میں 10 جنوری 1973ء کو پیدا ہوئے۔ اِسی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ پھلور کا لاحقہ استعمال کرتے ہیں۔

مجموعہ کلامترميم

ان کے مجموعہ ہائے کلام میں

  1. ارحم عالم (غیر منقوط مجموعہ نعت)
  2. ماہ حرا(غیر منقوط مجموعہ نعت)
  3. صاحب لولاک(غیر منقوط مجموعہ نعت)[1]
  4. دل کے آنگن میں (شاعری)،
  5. قربان شہہ والا ؐ(نعتیہ مجموعہ) ،
  6. ہم اور لوگ ہیں (شاعری) ،
  7. کیسے کہہ دوں مرے وطن میں امن ہے (طویل نظم )
  8. اور سرابوں کے سلسلے ( شعری مجموعہ) شامل ہیں۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. سجاگ[مردہ ربط]
  2. منظر پھلوری، ارحم عالم، فیصل آباد: احسن پبلی کیشنز، 2014ء، ص 5