منیر نیازی (9 اپریل 1928ء - 26 دسمبر 2006ء) کا شمار اردو اور پنجابی کے اہم تر شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی ابتدائی شاعری قیام ساہیوال کے ایام کی یادگار ہے۔ منٹگمری (اب ساہیوال) میں انھوں نے ۔۔سات رنگ۔۔۔کے نام سے ایک ادبی رسالہ بھی جاری کیا۔ لاہور منتقلی کے بعد فلمی گانے بھی لکھے۔ منیر نیازی کی غزل میں حیرت اور مستی کی ملی جلی کیفیات نظر آتی ہیں۔ ان کے ہاں ماضی کے گمشدہ منظر اور رشتوں کے انحراف کا دکھ نمایاں ہے۔ منیر نیازی کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر محمد افتخارشفیع اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔

منیر نیازی
پیدائشمنیر احمد نیازی
9 اپریل 1928(1928-04-09)
ہوشیار پور، پنجاب، برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
وفات26 دسمبر 2006(2006-12-26) (عمر  83 سال)
لاہور، پنجاب، پاکستان
پیشہپنجابی زبان کے شعرا کی فہرست، اردو شاعری
قومیتپاکستانi
مادر علمیگورنمنٹ ایس ای کالج بہاولپور
ديال سنگھ کالج، لاہور
دور1960ء - 2006ء (فعالیت کے سال)
اصنافاردو و پنجابی شاعری
اہم اعزازاتستارۂ امتیاز اعزاز 2005ء
تمغائے حسن کارکردگی اعزاز 1992ء

منیر نیازی بیسویں صدی کی اردوشاعری کی اہم ترین آواز ہیں۔ ان کا شعری لب ولہجہ اپنی انفرادیت کے ساتھ ہمیشہ انھیں نمایاں مقام عطا کرے گا۔

ابتدائی دور

اردو اور پنجابی کے مشہور شاعر اور ادیب۔ 9 اپریل، 1928ء کو ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔[1][2] انہوں نے بی اے تک تعلیم پائی اور جنگ عظیم کے دوران میں ہندوستانی بحریہ میں بھرتی ہو گئے لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر گھر واپس آ گئے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور آ گئے۔

طرز شاعری

منیر نیازی نے جنگل سے وابستہ علامات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے استعمال کیا۔ انہوں نے جدید انسان کے روحانی خوف اور نفسی کرب کے اظہار کے لیے چڑیل اورچیل ایسی علامات استعمال کیں۔ منیر نیازی کی نظموں میں انسان کا دل جنگل کی تال پر دھرتا ہے اور ان کی مختصر نظموں کا یہ عالم ہے کہ گویا تلواروں کی آبداری نشتر میں بھر دی گئی ہو۔

اردو کے معروف ادیب اشفاق احمد نے منیر نیازی کی ایک کتاب میں ان پر مضمون میں لکھا ہے کہ منیر نیازی کا ایک ایک شعر، ایک ایک مصرع اور ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ ذہن کے پردے سے ٹکراتاہے اور اس کی لہروں کی گونج سے قوت سامعہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

ان کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان میں شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔

تصنیفات

  • بے وفا کا شہر
  • تیز ہوا اور تنہا پھول
  • جنگل میں دھنک
  • دشمنوں کے درمیان میں شام
  • سفید دن کی ہوا
  • سیاہ شب کا سمندر
  • ماہ منیر
  • چھ رنگین دروازے
  • شفر دی رات
  • چار چپ چیزاں
  • رستہ دسن والے تارے
  • آغاز زمستان
  • ساعت سیار

نمونہ کلام

ایک مشہور اردو نظم

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں

ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو

اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو

بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو

کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو

حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

ایک مشہور پنجابی قطعہ

کج اونج وی راھواں اوکھیاں سن

کج گَل وچ غم دا طوق وی سی

کج شہر دے لوک وی ظالم سن

کج مينوں مَرن دا شوق وی سی

بیرونی روابط

  1. Death anniversary of poets Parveen Shakir and Munir Niazi being observed today Dawn (newspaper), Published 26 Dec 2014, Retrieved 30 May 2019
  2. Munir Niazi Pride of Performance Award info on ARY TV News website Published 26 December 2015, Retrieved 30 May 2019