ضلع ٹھٹہ کا ایک قدیمی شہر جس کی آبادی 2017ء کی مردم شماری کے مطابق 47,239 تھی، مکلی کی وجہ شہرت مکلی قبرستان ہے، ٹھٹہ سے مغرب کی طرف 3 کلومیٹر کی دوری پر مکلی کا قدیمی شہر آباد ہے، سطح سمندر سے یہ تاریخی شہر 9 میٹر (30 فٹ) بلند ہے،

سید میر علی شیر قانع‘ نے اِس مکلی کو جس کیفیت میں دیکھا تھا اُس پر ایک چھوٹی سی کتاب تحریر کر ڈالی۔ یہ کتاب تقریباً 1761ء میں تحریر کی گئی تھی، جس پر بعد میں ’سید حسام الدین راشدی‘ نے بڑا تحقیقی کام کیا اور 900 صفحات پر مشتمل ’مکلی نامہ‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب ہم تک پہنچی۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مَکلی میں پانی کے تالاب اور بہت سارے میٹھے پانی کے چشمے تھے۔ پانی کی وجہ سے تپتے دنوں میں بھی یہاں ہریالی رہتی اور یہ میٹھے چَشمے پیاسے لوگوں، چَرِند و پَرند کی پیاس بُجھاتے اور ساتھ میں پانی کے کئی تالاب بھی تھے، درخت تھے اور کُچھ دکانیں بھی تھیں جن میں درگاہوں کے میلوں کی مناسبت سے چیزیں فروخت ہوتیں۔

1880ء کو رچرڈ ایف برٹن جب حیدرآباد جا رہے تھے تب انھوں نے مکلی کا انتہائی باریک بینی سے مطالعہ کیا۔ یہاں تک کہ مکلی کے اطراف جنگلی حیات کی کیا کیفیت تھی اُس کے متعلق بھی وہ مشاہداتی نوٹ تحریر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ،

’مکلی کے اطراف پھیلے ہوئے جنگل سے گزرتے ہوئے ہمیں ’کالے تیتر‘ کی آواز سُننے میں آئی جو شاید پہاڑی کے درمیان موجود میدانی علاقے سے آرہی تھی۔ ’ہُدہُد‘ بھی ہمارے آگے بغیر کسی خوف کے گذر رہا تھا، ’چنڈول‘ بھی ہم سے نہیں ڈر رہا تھا۔ وہ اپنی جگہ پر بیٹھا رہتا اور جب ہم نزدیک پہنچتے تو اُڑ کر پھر کُچھ فاصلے پر جا کر سامنے بیٹھ جاتا، ہمیں چلتا دیکھ کر کچھ کوے ہمارا جائزہ لے کر ’کائیں کائیں‘ کر رہے تھے، کچھ تیتر ہمارے دونوں اطرف چلتے تھے۔ ’خرگوش‘ جیسا ڈرپوک جانور بھی ہمیں دیکھ کر نہیں بھاگ رہا تھا، یہ خرگوش اچھے خاصے صحت مند تھے اور جنگلی بلے سے بھی بڑے تھے۔ کچھ گیدڑ شاید ساری رات اِن کا پیچھا کر رہے تھے کہ اُن کا شکار کرسکیں مگر ہمیں دیکھ کر وہ وہیں پر کھڑے ہو گئے اور چالاک نظروں سے ہمیں دیکھتے رہے۔ مکلی کا دُور سے نظارہ آدمی کو بے حد راحت اور خوشی بخشتا ہے، آپ کسی اونچی پہاڑی پر چڑھ کر دیکھیں تو، نَنگر (ٹھٹہ) کا شہر یہاں سے سیدھا مشرق میں بسا نظر آتا ہے۔ مکلی کے مقبروں کی تعمیرات پر کی گئی نقش و نگاری کو جتنا قریب سے جاکر دیکھیں گے اُتنا ہی زیادہ لطیف احساس ملتا ہے۔ یہاں ہر قسم کی نقش نگاری میں انتہائی نزاکت اور نفاست نظر آتی ہے جو سارے مقبرے پر اُبھری ہوتی ہے۔ یہاں کے ہر پتھر پر، چھینی سے تراشیدہ (Carved relief) دکھائی دیتا ہے۔ دیکھنے والے کی آنکھ کو یقین ہی نہیں آتا کہ اِس ساری نقش و نگاری نے ان بے جان پتھروں میں جان ڈال دی ہے

مکلی میں پولیس اسٹیشن ، سول ہسپتال ، ڈاکخانہ بھی موجود ہے، یہاں آباد ذاتوں میں خشک ، سومرو، وغیرہ ہیں،

وجہ تسمیہ

ترمیم

کتاب ’’مکلی نامہ ‘‘کے مصنف میر علی شیرقانع کا بیان ہے کہ کوئی واصل ولی اللہ بزرگ سفر حج کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس کوہ کی ایک پہاڑی پر قیام پزیر ہوئے۔ رات کو شاید خواب میں مکہ کا نقشہ دیکھا۔ علی الصباح خواب سے بیدار ہوئے تو زبان مبارک پر ’’ہذا مکۃ لی‘‘ کا ورد تھا اور’’ ازدل خیز دبر دل ریزد ‘‘کے مصداق اس کلمہ صداقت اثر نے شہرت عام اور بقائے دوام حاصل کر لی۔ مکتہ لی میں اولاً ’’ت‘‘ کی تخفیف ہوئی تو مکلی اور پھر امتداد زمانہ نے مکلی کے نام سے مشہور کر دیا۔

اس سلسلے میں ایک اور روایت زیب بیان اس طرح کی بھی ہے کہ ایک خدا رسیدہ زاہدہ اور عابدہ خاتون اس علاقے میں رہائش پزیر تھیں جن کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ جب وہ اس دار فانی سے رخصت ہوئیں تو اس پہاڑی پر ان کی آخری آرام گاہ بنائی گئی۔ اس سے متصل شیخ حماد جمالی نے ایک جامع مسجد کی بنیاد رکھی اور اس ٹیلے کا نام انہی زاہدہ خاتون کے نام پر ’’مکتہ لی‘‘ رکھا گیا جو وقت گزرنے کے ساتھ مکلی ہو گیا۔ اس شکستہ جامع مسجد کی محراب کے روبرو اس پا کیزہ خاتون کا مزار اپنی خستہ حالی پر نوحہ کناں ہے،[1]

  1. https://jang.com.pk/news/711423