میاں خاندان، باغبانپورہ

میاں خاندان باغبانپورہ، لاہور کا اعزازی و مشہور خاندان ہے۔

تاریخترميم

میاں خاندان آرائیں قوم سے تعلق رکھتے ہیں جن کے بڑوں نے پندروی صدی عیسوی میں قدیم لاہور شہر کے وسط میں اسحاق پور کے نام سے ایک بستی آباد کی۔ بنیادی طور پر یہ لوگ زمیسدار تھے اور اس وسیع علاقے کو کاشتکاری کی غرض سے ہی آباد کیا۔ 1641ء میں جب مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے لاہور کے قریب شالامار باغ تعمیر کرنے کا حکم دیا تو ماہرتعمیرات نے باغ کی تعمیر کے لیے اسحاق پور کا انتخاب کیا۔ شہنشاہ شاہ جہاں نے اس وقت خاندان کے سربراہ میں محمد یوسف عرف مہر مہنگا کو زمین کے بدلے منہ مانگی قیمت ادا کرنا چاہی تو محمد یوسف نے باغ کے لیے درکار زمین بادشاہ کو بلامعوزہ بطور تحفہ ہی پیش کر دی۔ شاہجہاں اس قدر فراغ دلی سے بے حد متاثر ہوا اور اسی خاندان کو شالامار باغ کا ناظم مقرر کرتے ہوئے باغبانپورہ کی جاگیر بھی عطا کر دی۔ بعد ازا اس خاندان کی دیانتداری سے متاثر ہوتے ہوئے شہنشاہ شاہجہاں نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے 'میاں' کا وراثتی خطاب بھی عطا کیا جو آج تک اس خاندان کے ناموں سے منسلک ہے۔ میاں خاندان زراعت اور صنعت کے اعتبار سے شہرت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ خاندان کے اکثر لوگ فوج اور اعلی سرکاری عہدوں پر بھی فایز رہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ انگریزوں کے ہندستان پر حکومت قائم کرنے پر یہ خاندان ان چند اولین خاندانوں میں شامل تھا جنہوں نے بدلتے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلی نسل کو اعلی تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اس خاندان نے ہندستان کے پہلے مسلم چیف جسٹس میاں شاہدین، جسٹس میاں سر شفیع، میاں سر محمد شاہنواز، بیگم جہاں آرا شاہنواز، میاں افتخارالدین اور پاکستان کے پہلے چیف جسٹس میاں سر عبدلرشید جیسے نامور رہنما پیدا کیے۔ میاں خاندان باغبانپورہ اور شالامار باغ، لاہور کے درمیانی علاقہ میں آباد رہا پر اب زیادہ تر نئی نسل لاہور شہر کے جدید علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ 1962ء میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد شالامار باغ کا نظام حکومت وقت نے میاں خاندان سے لے کر محکمہ آثار قدیمہ کو منتقل کر دیا۔ اِس خاندان کے بیشتر افراد باغبانپورہ کے خاندانی قبرستان میں مدفون ہیں۔

میاں خاندان کی مشہور شخصیاتترميم

مزید دیکھیےترميم