تصور پاکستان کے خالق بانی پاکستان سے والہانہ عقیدت و محبت سے سرشار جذبے کی بدولت میاں عبدالخالق نے میدان سیاست میں قدم رکھا۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سے جس کا خمیر اٹھا ہو قومی سیاست کے میدان میں اس کی آماجگاہ خالق پاکستان جماعت ہی ہو سکتی تھی چنانچہ عملی سیاست میں ایوبی آمریت سے ٹکرانے والی پاکستان مسلم لیگ کونسل میں شامل ہوئے اور اس راہ میں پاکستان کے سابق وزیراعظم خواجہ ناظم الدین ، میاں ممتاز دولتانہ ، ڈاکٹر جاوید اقبال ، چودھری محمد حسین چٹھہ اور خواجہ محمد صفدر ان کے ہمسفر رہے۔ سیاسی نظریات کی پختگی اور ان کی جرأت و ذہانت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ عین اس وقت جب ایوب خان پاکستان کے حاکم مطلق تھے، انہوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ایوب خان کے خلاف انتخابی مہم کا چیف الیکشن ایجنٹ بننا منظور کیا اور ان کی ساری انتخابی مہم منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا جس کے باعث انہیں بعدازاں مینار پاکستان کی تعمیر کے بلوں کی رقوم حاصل کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایک ٹھیکیدار کی حیثیت سے ان کی تعمیراتی اور معاشی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ انہوں نے ایک محب وطن اور دیانتدار شہری کی حیثیت سے مینار پاکستان اور قذافی سٹیڈیم کی تعمیر کی صورت میں جو شاہکار چھوڑے ہیں وہ قابلِ فخر ہیں، میاں عبدالخالق کی زندگی کی کہانی جسے معروف صحافی خالد کاشمیری نے ان کے فرزند ارجمند میاں طارق محمود اور ان کے دوستوں اور مداحوں کی معاونت اور ملاقاتوں کے بعد ترتیب دیا، اشاعت پذیر ہو چکی ہے

حوالہ جاتترميم

حوالہ جات