نجف (عربی میں النجف) عراق کا ایک شہر ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے روضہ کے حوالے سے مشہور ہے۔ نجف بغداد سے 160 کلومیٹر دور ہے۔ اور پرانے کوفہ شہر سے قریب ایک اونچے علاقے میں ہے۔ نجف کا لفظی مطلب ہی اونچی جگہ ہے۔ اس کی آبادی 2006 میں چھ لاکھ سے زائد تھی۔

نجف
(عربی میں: النجف ویکی ڈیٹا پر (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ImamAliMosqueNajafIraq.JPG
 

Iraq map najaf.png
 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Iraq.svg عراق  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ محافظہ نجف  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 32°00′00″N 44°20′00″E / 32.00000°N 44.33333°E / 32.00000; 44.33333
بلندی 60 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 724700 (2015)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
جڑواں شہر
اوقات متناسق عالمی وقت+03:00  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
جیو رمز 98860  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

موسمترميم

آب ہوا معلومات برائے نجف
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسط بلند °س (°ف) 14
(58)
18
(65)
23
(74)
30
(86)
36
(97)
41
(105)
42
(108)
42
(107)
39
(102)
33
(91)
23
(74)
17
(62)
29.8
(85.8)
اوسط کم °س (°ف) 7
(44)
9
(49)
13
(56)
19
(66)
23
(74)
28
(82)
29
(85)
29
(84)
27
(80)
21
(70)
13
(55)
8
(47)
18.8
(66)
اوسط عمل ترسیب سم (انچ) 3
(1)
1.3
(0.5)
1.3
(0.5)
1.3
(0.5)
0.5
(0.2)
0
(0)
0
(0)
0
(0)
0
(0)
0.5
(0.2)
1
(0.4)
1
(0.4)
9.9
(3.7)
ماخذ: Weatherbase [4]

تاریخترميم

نجف ایک پرانے ساسانی شہر سورستان کے پاس تھا جو اس وقت فارس کی سلطنت میں شامل تھا۔ عباسی خلیفہ ھارون الرشید نے اس کی نئے سرے سے تعمیر کی۔ عثمانی خلافت کے زمانے میں عرب قبائل کے حملوں اور پانی کے ذخائر کم ہونے کی وجہ سے گھروں کی تعداد 30,000 سے گر کر صرف سولہویں صدی میں 30 رہ گئی تھی۔ اٹھارویں صدی میں وھابی قبائل نے اسے کئی دفعہ لوٹا اور تاراج کیا۔ 1803 میں نہر ھندیہ کی تعمیر سے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوا تو شہر کی آبادی یکدم 60,000 سے تجاوز کر گئی۔1915 میں شہر کو عثمانی خلافت سے آزاد کروایا گیا مگر یہ برطانوی قبضہ میں چلا گیا۔ 1918 میں شہر کے مذہبی رہنما سید مہدی الاعوادی نے بغاوت کر دی تو برطانوی فوج نے شہر کو گھیرے میں لے کر پانی کی رسد بند کر دی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔ صدام حسین کے دور میں یہ شہر اپنی شیعہ آبادی کی وجہ سے ھمیشہ شک کی زد میں رہا اور یہاں کئی بغاوتیں بھی ہوئیں۔ فروری 1999 میں مشہور شیعہ رہنما سید صادق الصدر کو بغداد میں شہید کر دیا گیا جس کے بعد حالات بہت خراب ہو گئے۔ 2003 کے بعد موجودہ امریکی قبضہ کے دوران انہی رہنما سید صادق الصدر کے بیٹے مقتدیٰ الصدر نے اپنی فوج بنائی اور امریکیوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ جس کی وجہ سے نجف آج کل بھی خراب حالات کا شکار ہے۔ جنوری2007 میں نجف پھر جنگ کی زد میں آیا اور یہاں امریکی اور برطانوی فوج نے کئی دفعہ کارروائی کی یہاں تک کہ 28 جنوری 2007 کو ایک ہی دن میں نجف میں 300 سے زیادہ لوگ قتل ہو گئے۔

نجف کی مذہبی اہمیتترميم

نجف حضرت علی علیہ السلام کے روضہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حضرت علی علیہ السلام کی بنائی ہوئی ایک قدیم مسجد ہے۔ نجف میں دنیا کا سب سے بڑا مسلم قبرستان بھی ہے جسے وادی السلام کہا جاتا ہے۔ نجف اپنے مذہبی مدرسوں، قدیم کتب خانوں اور علمائے کرام کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ اگرچہ اس صدی میں ایران کا شہر قم شیعہ مدرسوں کا زیادہ بڑا مرکز بن گیا مگر اب نجف اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ یہاں کا قدیم ترین مدرسہ حوزہ علمیہ نجف پوری دنیا میں مشہور ہے۔

 
1932 ء میں حضرت علی کا مزار

حوالہ جاتترميم

  1.    "صفحہ نجف في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 30 جنوری 2021ء. 
  2. http://www.citypopulation.de/Iraq-Cities.html
  3. "Weatherbase: Historical Weather for An Najaf, Iraq". Weatherbase. 2011. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 اکتوبر 2013.  Retrieved on November 24, 2011.

بیرونی روابطترميم