نجم آفندی اردو کے نامور مرثیہ گو شاعر تھے۔ وہ اردو شاعری کے جدید اصناف شاعری میں نئے تجربوں کے لیے بھی شہرت رکھتے تھے۔

نجم آفندی
Najm-Afandi-Portrait.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1893[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آگرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1975 (81–82 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Signature-Najm-Afandi.jpg
 
P literature.svg باب ادب

نام اور خاندانترميم

نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا۔ وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے[2]۔ ان کے والد بزم آفندی، دادا مرزا عباس علی ملیح، پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح، سب شاعر تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا اور یہی اس خاندان کے ناموں کا حصہ بن گیا تھا۔[3]

کلام کی قدر دانیترميم

خاندانی احوال کے زیر اثر نجم کم عمری سے شاعری کرنے لگے۔ انہوں نے اپنی مشہور نظم در یتیم لکھنؤ میں سنائی تھی۔ اس نظم پر بولی لگائی گئی تھی اور سب سے زیادہ بولی لگانے والے راجا راولپنڈی نے اسے 5,600 روپیوں میں خریدا تھا (جو 1910ء میں ایک چونکانے والی قیمت تھی)۔ رقم کی وصولی کے بعد نجم نے اسے یتیم خانے کے حوالے کر دیا تھا۔[4]

نئے اور ابھرتے ہوئے اصناف سخن کے تجربےترميم

ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے سے پہلے ہی نجم "کسان"، "مزدور کی آواز"، "ہماری عید" جیسے موضوعات کو اپنے شاعرانہ کلام کا حصہ بنا چکے تھے۔[4]

مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کرناترميم

نجم اپنی زندگی کے بعد کے ایام میں خالصتًا مذہبی شاعری اور مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔[4]

مجموعہ کلامترميم

نجم نے کئی مرثیے، نوحے، قصائد اور رباعیات لکھے تھے، جنہیں بعد میں کلیات کائنات نجم کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا گیا تھا۔[3]

نمونہ کلامترميم

شاعر ہوں جن کا نجم وہ ہیں وجہ کائنات
ممکن ہے تا ابد میرا نام و نشان رہے۔

ہجرت اور انتقالترميم

اپریل 1971ء میں نجم آفندی بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ وہ کراچی میں بس گئے۔ تاہم 21 دسمبر 1975ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ سخی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔[2][3]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/437195 — بنام: Najm Āfandī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ^ ا ب ص 418، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  3. ^ ا ب پ http://www.pakistanconnections.com/history/index/2013-12-21/180%7B%7Bمردہ ربط|date=January 2021 |bot=InternetArchiveBot}}
  4. ^ ا ب پ The World of Urdu Poetry, Literature & News | Ghazals, Nazms in Urdu, Hindi (Devanagari) and Roman scripts apart from news about Urdu literary world, Urdu Shaa'eri ka Haseen I...