مرکزی مینیو کھولیں

مفتی نظام الدین شامزئی پاکستان کے نامور علمائے دیوبند میں سے ہیں جنہیں 30 مئی 2004ء کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔

فہرست

ولادتترميم

آپ جولائی 1952ء کو سوات میں پیدا ہوئے۔

تعلیمترميم

آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ مظہرالعلوم مینگورہ ضلع سوات اور راولپنڈی کے مدارس میں حاصل کی۔

اعلیٰ تعلیمترميم

[1] تشریف لے گئے اس وقت آپ تیسرے درجہ میں تھے کہ آپ کے والد حبیب الرحمٰن شامزئی وفات پاگئے، یوں آپ کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری اُ ن کے بڑے بھائی ڈاکٹر عزیزالدین شامزئی نے اٹھائی۔ آپ کے تعلیمی مراحل کی تکمیل جامعہ فاروقیہ کراچی سے ہوئی۔

اسا تذہترميم

عالم دین مولانا عبد الرحمٰن، فیض علی شاہ، عنایت اللہ خان اور وفاق المدارس عربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان ہیں۔

درس و تدریسترميم

جامعہ فاروقیہ سے فراغت کے بعد اپنے حضرت شیخ کے حکم سے جامعہ فاروقیہ میں ہی تدریس شروع کر دی اور تقریباً 20 سال تک تدریسی خد مات انجام دیتے رہے۔ پھر مفتی احمد الرحمٰن کے حکم اور انکی دعوت پر جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں استاد حدیث کی حیثیت سے کام شروع کر دیا۔ آخری وقت میں جامعہ کے شیخ الحدیث اور شعبہ تخصص فی الفقہ کے نگران تھے۔

تصانیفترميم

شرح مقدمہ مسلم، عقیدہ ظہور مہدی احادیث کی روشنی میں، والدین کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق اور پی ایچ ڈی مقابلہ شیوخ بخاری وغیرہ۔ http://www.elmedeen.com/author-287-حضرت-مولانا-مفتی-نظام-الدین-شامزئی-صاحب

وفاتترميم

10 ربیع الثانی 1425ھ بمطابق 30 مئی 2004ء بروز اتوار کو کراچی میں قتل کر دیے گئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. کراچی
  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔