مینگورہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک شہر ہے جو ضلع سوات میں واقع ہے۔ مینگورہ جسے منگورہ بھی کہا جاتا ہے،

مینگورہ
مینگورہ بازار
مینگورہ بازار
ملکFlag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہخیبر پختونخوا
منطقۂ وقتپاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
ویب سائٹMingora
مینگورہ شہر غروبِ آفتاب کے دوران

اجمالی خاکہترميم

مینگورہ ضلع سوات کا سب سے بڑا ، مرکزی شہر۔ ضلعے کا صدر مقام دریائے سوات کے دائیں کنارے پر آباد صرف 6مربع کلومیٹر ایریا مگر آبادی 331091 سے زائد چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا۔ پہاڑ کبھی سرسبز جنگل تھے۔ اب ایک تہائی آبادی ان پہاڑوں پر آباد۔سڑکیں تنگ اور پر بیچ۔ سڑکیں بنانے میں کوئی پلاننگ دکھائی نہیں دیتی۔ ان سڑکوں پر روازانہ تیس ہزار غیر رجسٹرڈ رکشے اور بیس ہزار غیر قانونی (نان کسٹم پیڈ ) گاڑیاں قانون کے سینے پر مونگ دلتی دھندناتی دوڑتی ہیں۔ اور قسم کی گاڑیاں مستزاد مشہور بازاروں میں مین بازار، نیو روڈ ، تاج چوک، سہراب چوک اور مکان باغ شامل ہیں۔ مین بازار مصروف ترین اور تنگ ترین بازار ہے۔ انارکلی لاہور کی یاد دلاتی ہے۔ بینک سکوئر مین بازار میں ہے جہاں تقریبا ہر ملکی اور غیر ملکی بینکوں کی شاخیں ہیں۔مکان باغ جدید ترین بازار ہے۔ اب لوگ گلی کوچوں میں مکانات گرا کر دھڑادھڑ دکان اور مارکیٹ بنا رہے ہیں۔ مینگورہ کو اگر مسجدوں کا شہر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، ایک ایک گلی میں دو دو تین مساجد ہیں اور بلامبالغہ آباد مساجد ہیں۔ ہمارے گھر کے پچھواڑے میں مسجد تو گھر کے دروازے کے بالکل سامنے مسجد۔ یہاں تک گھر کے دائیں طرف 100قدم پر مسجد تو بائیں جانب 150 قدم پر مسجد موجود ہے۔منگورہ تاریخی شہر ہے۔ تاریخ 2 ہزار سال سے پرانی ہے۔ بدھ مت ، ہندو مت کے سنہرے دور دیکھ چکا ہے۔ یہاں سکندر مقدونی ، محمود غزنوی اور بابر کے قدم پڑ چکے ہیں۔ یہ شہر بابر کا سسرال ہے۔ یوسفزئی کے ملک احمد کی صاحبزادی بی بی مبارک بابر بادشاہ کی دلہن تھیں۔ایک روایت کے مطابق سکندر مقدونی کی بیوی رکھسان، رخسانہ یا روشنک منگورہ کے نواحی قصبے بریکوٹ سے تعلق رکھتی تھی۔منگورہ کے قابل دید مقامات زیادہ تر منگورہ تا سیدو شریف روڈ پر واقع ہیں۔پشاور سے منگورہ پہنچ کر آپ سہراب چوک پر آتے ہیں، سہراب چوک سے نشاط چوک تک سیدھی سڑک جی ٹی روڈ کہلاتی ہے۔ نشاط چوک کے ساتھ ہی مین بازار اور تاریخی مسجد امان اللہ واقع ہیں۔نشاط چوک سے دائیں طرف سیدو شریف روڈ شروع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے دوائیوں کے دکان ہیں۔ اس کے بعد منگورہ خوڑ (برساتی نالا) کا پل ہے جو ریاستی وقت میں غالبا 1926ء میں بنا تھا۔ اب تک صحیح سلامت ہے۔ اس کے ساتھ ہی منگورہ پولیس سٹیشن کی جدید عمارت اور ساتھ ہی میونسپل دفاتر ہیں جو ایک سبزہ زار مین واقع ہیں۔اسی سبزہ زار میں پبلک لائبریری بھی ہے۔ متصل ہی مکان باغ چوک اور مکان باغ کا جدید بازار ہے۔ اس کے ساتھ ہی بینکوں کی عمارتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو گراسی گراؤند کے سامنے تک رہتا ہے۔گراسی گراؤنڈ کھیلوں کا میدان ہے۔ یہاں فٹ بال گراونڈ، ہاکی گراونڈ اور جدید کرکٹ سٹیڈیم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سکواش کورٹ، ٹینس کورٹ والی بال کورٹ واقع ہیں۔ یہ سارے سہولیات ریاستی دور کی یادگار ہیں۔ گراسی گراونڈ کے ساتھ ہی جدید پبلک لائبریری کی جدید اور دلکش عمارت ہے۔ لائبریری کے سامنے ایک سڑک گل کدہ جاتی ہے۔ یہاں سب سے پہلے ضلع کچہری اور عدالتیں ہیں جو ایک چاردیواری میں بند ہیں۔اس کے بعد سرکاری گیسٹ ہاوس ہے۔ اس کے بعد تقریبا آدھ کلومیٹر پر بت کڑہ یا بت کدہ کے تاریخی آثار ہیں جو ایک دراصل بدھ مت کے وقتوں کی یونیورسٹی اور اقامت گاہ تھی۔ اس کے بعد مکانات ہیں بھر بت کڑہ نمبر 2کے آثار ہیں اور ایک کلومٹر کے بعد بت کڑہ نمبر تین کے بدھ آثار ہیں۔اب آتے ہیں واپس گراسی گراونڈ کے سامنے۔ گل کدہ روڈ کے متصل میوزیم کی عمارت ہے جس میں سوات کے قیمتی بدھ اور ہندو آثار موجود ہیں۔ میوزیم کے سامنے واپڈا دفاتر اور اس کے متصل جانوروں کا ہسپتال ہے۔ اس کے بعد جدید میڈکل سنٹر وں کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جو سنٹرل ہسپتال کے سامنے تک واقع ہیں۔اس کے سامنے سڑک پر سوات یونی ورسٹی کی عمارت ہے اور اسی کے سامنے گرلز ڈگری کالج ہے ۔ سوات یونیورسٹی کے پیچھے گرلز ہائی سکول کی خوب صورت عمارت ہے۔ سنٹرل ہسپتال کے ساتھ ہی سیدو شریف شروع ہوتا ہے جو پہلے ایک گاوں تھا اب منگورہ کا حصہ ہے۔ سنٹرل ہسپتال سے 100 فٹ کے فاصلے پر جہانزیب پوسٹ گریجویٹ کالج کی تاریخی عمارت ہے جو انگریزی حرف ای کے شکل میں بنی ہے۔ اس کے سامنے سڑک کے دوسری طرف سائنس بلاک ہے۔ سائنس بلاک کے متصل ودودیہ ہال ہے۔ یہ سب ریاستی دور کی یاد گار ہیں۔اس ہال کے ساتھ ہی ہاسٹلز کا ایک سلسلہ ہے اور ساتھ ہی کالج کالونی کی جدید بستی آباد ہے۔ودودیہ ہال کے ساتھ ہی سوات سرینا ہوٹل ہے جو دراصل ریاستی دور کا وزیر اعظم ہاوس تھا۔ اس کے سامنے کلمہ چوک ہے۔ کلمہ چوک کے ساتھ ہی پی ٹی ڈی سی ہوٹل اور سیدو میڈکل کالج اور سیدو شریف ہسپتال موجود ہے۔

قابل ذکر لوگترميم

متعلقہ مضامینترميم