سید نور محمد شاہ گیلانی

(نور محمد تیراہی سے رجوع مکرر)

آپ کا نام نامی اسم گرامی سید نور محمد گیلانی ہے لیکن آپ اپنے لقب ”بابا جی صاحب“ کے ساتھ مشہور ہوئے۔موجودہ دور میں آپ کو نام اور لقب دونوں سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ آستانہ عالیہ چورہ شریف کے بانی ہیں۔

سید نور محمد شاہ گیلانی
Logo Khwaja Noor Muhammad ra.png

معلومات شخصیت
پیدائش 1179ھ / 1765ء
اخوند کوٹ
وفات 13 شعبان المعظم 1286ھ / 1869ء
چورہ شریف
لقب بابا جی صاحب
نسل سید
مذہب اسلام
فقہی مسلک حنفی
مکتب فکر اہل سنت، ماتریدیہ
اولاد سید احمد گل شاہ گیلانی، سید فقیر محمد شاہ گیلانی، سید دین محمد شاہ گیلانی، سید شاہ محمد گیلانی
والد سید فیض اللہ شاہ گیلانی
P islam.svg باب اسلام

ولادتترميم

آپ 1179ھ بمطابق 1765ء کو وادی تیراہ اورکزئی ایجنسی کے علاقہ تیزئی کے خوبصورت اور پر فضا علاقہ خدیزئی کے قریب ایک گاؤں اخوند کوٹ میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ ایک دلفریب اورخوبصورت وادی پر مشتمل ہے جس میں ٹھنڈے پانی کے چشمے بہتے ہیں اور اپنے حسن وخوبصورتی کی وجہ سے سویٹذرلینڈ سے بڑھ کر ہے۔

شجرہ نسبترميم

سید نور محمد گیلانی چوراہی بن سید فیض اللہ تیراہی بن سید خان محمد گردیزی بن سید علی ولی محمد بن سید شیخ سلیمان بن سید شیخ سلطان بن سید شیخ الاسلام عبدالسلام بن سید عبد الرسول بن سید موسٰی بن سید حسین بن سید ظہیرالدین ابو سعود میر شہاب الدین احمد متقی بن سید محی الدین ابو نصر محمد بن سید عمادالدین ابو صالح نصر بن سید عبدالرزاق بن سید عبدالقادر جیلانی بن سید ابو صالح موسٰی جنگی دوست بن سید ابی عبداللہ بن سید یحیٰ الزاہد بن سید محمد بن سید داؤد بن سید موسٰی بن سید عبداللہ بن سید موسٰی الجون بن سید عبداللہ المحض والمجل بن سید حسن مثّنٰی بن حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بن سید حضرت علی کرم اللہ وجہہ واز مادر سیدۃ النساء فاطمۃ الزھرأ بنت رسول اللہ ﷺ۔[1]

خاندان کا تاریخی اور علمی پس منظرترميم

آپ اپنے خاندان کی علمی و روحانی وراثت کے امین تھے۔آپ کے جد اعلیٰ حضرت سید محمد المعروف سید خان محمد شاہ گیلانی گردیز افغانستان سے ڈھوڈہ شریف نزد کوہاٹ تشریف لائے اور یہاں ایک مدرسہ قائم کیا جہاں سے اس علاقہ کے بہت سے حضرات نے علم حاصل کیا جن میں کوہاٹ کے مفتی قاضی عبدالحمید صاحب علیہ الرحمہ قابل ذکر ہیں۔ حضرت سید خان محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی قبر مبارک ڈھوڈہ نزد کوہاٹ میں موجود ہے اور تمام مکاتب فکر کے لوگ آپ سے یکساں عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔

آپ کے والد گرامی سید فیض اللہ گیلانی تیراہی قدس سرہ کی ولادت 1143ھ بمطابق 1730ء کو ڈھوڈہ شریف کوہاٹ میں ہوئی۔ آپ نے اپنے والد گرامی کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی اور 1164ھ بمطابق 1751ء میں اکیس (21) سال کی عمر میں علوم متداولہ میں فارغ التحصیل ہوئے۔ 1160ھ بمطابق 1747ء کو جب احمد شاہ ابدالی افغانستان کا بادشاہ بنا تو اس وقت حضرت سید فیض اللہ تیراہی علیہ الرحمہ کی عمر سترہ (17) سال تھی اور آپ زیرِ تعلیم تھے۔ اسی دوران میں کوہاٹ کو احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی نے 1748ء سے1767ء تک ہندوستان پر کئی حملے کیے بالخصوص سکھوں کے خلاف کئی معرکے لڑے۔ اسی دوران میں حضرت سید فیض اللہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے قبیلہ کے ساتھ مل کر سکھوں کے خلاف جہاد شروع کیا لیکن کچھ عرصہ بعد آپ احمد شاہ ابدالی کی فوج میں کمانڈر کی حیثیت سے شامل ہوگئے تاکہ مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔ اسی زمانہ میں آپ نے اپنے خاندان کے ساتھ اخوند کوٹ تیزئی وادی تیراہ میں سکونت اختیار کی۔ آپ ہندوستان پر ایک حملہ کے دوران رامپور میں قیام پذیر تھے کہ آپ کی ملاقات حضرت سید جمال اللہ رامپوری علیہ الرحمہ سے ہوئی جو سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت سید اشرف حیدر علیہ الرحمہ کے مرید تھے۔ آپ نے احمد شاہ ابدالی کی فوج کو خیرباد کہا اور حضرت سید جمال اللہ رامپوری علیہ الرحمہ کی خانقاہ میں حصول فیض کے لیئے قیام پذیر ہوگئے۔

دینی تعلیم سے فراغت کے بعد حضرت سید فیض اللہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی شادی ہو گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹی عطا فرمائی تھی۔ جب آپ سلوک نقشبندیہ مجددیہ مکمل کرنے اور خلافت عطا ہونے کے بعد اپنے مرشد حضرت سید جمال اللہ رامپوری علیہ الرحمہ کے حکم پر قریباً اٹھارہ (18) سال بعد گھر واپس آئے تو پہلے ڈھوڈہ شریف تشریف لائے اور اپنے والد گرامی کی قبر پر حاضری دی۔ یہاں آپ کی ملاقات مفتی قاضی عبدالحمید علیہ الرحمہ سے ہوئی اور قاضی صاحب نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے کروا دیا۔ یہاں سے آپ اپنی دوسری زوجہ کے ساتھ اپنے خاندان کے پاس اخوند کوٹ تیزئی شریف وادی تیراہ گئے۔ دوسری زوجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرزند عطا فرمایا جس کا نام آپ نے نور محمد رکھا جنہوں نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے سارے زمانے میں محمد ﷺ کا نور پھیلایا۔

تعلیم و تربیتترميم

حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ نے دینی و درسی تعلیم اپنے والد گرامی سید فیض اللہ گیلانی قدس سرہ سے حاصل کی اور اپنے والد گرامی سے بیعت ہو کر تیرہ (13) سلاسل بالخصوص طریقت نقشبندیہ مجددیہ کا فیض حاصل کیا۔ آپ نے سلوک نقشبندیہ مجددیہ کی تکمیل اپنے والد گرامی سے کی جو حضرت سید جمال اللہ رامپوری کے زیر تربیت رہے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ حضرت سید فیض اللہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی سلوک نقشبندیہ مجددیہ میں خصوصی تربیت حضرت خواجہ محمد سید عیسیٰ علیہ الرحمہ چودھواں شریف ڈیرہ اسماعیل خان نے بھی کی تھی جو کہ حضرت سید جمال اللہ رامپوری کے خلیفہ تھے۔ لیکن حضرت سید فیض اللہ گیلانی تیراہی علیہ الرحمہ کو حضرت سید جمال اللہ رامپوری سے خلافت عطا ہوئی۔

شجرہ طریقتترميم

سید نور محمد گیلانی چوراہی۔سید فیض اللہ گیلانی تیراہی۔سید محمد عیسیٰ۔سید جمال اللہ رامپوری بن سید شاہ محمد روشن۔سید قطب الدین محمد اشرف حیدر۔خواجہ محمد زبیر۔حضرت خواجہ محمد نقشبندثانی۔حضرت خواجہ محمد معصوم۔حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی۔حضرت خواجہ باقی باللہ۔حضرت خواجہ امکنگی۔خواجہ درویش محمد ۔خواجہ محمد زاہد۔خواجہ ناصر الدین عبیداللہ احرار۔مولانا محمد یعقوب چرخی۔حضرت بہاؤ الدین نقشبند بخاری۔خواجہ سید امیر کلال۔خواجہ محمد باباسماسی۔خواجہ علی رامیتنی۔خواجہ محمود الخیر فغنوی۔خواجہ محمد عارف ریوگری۔خواجہ عبدالخالق غجدوانی۔خواجہ ابو یعقوب یوسف ہمدانی۔خواجہ بو علی فارمدی۔خواجہ ابومنصور ماتریدی۔خواجہ احمد یسوی۔خواجہ ابولحسن خرقانی۔خواجہ بایزید بسطامی۔امام جعفر صادق۔حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔خلاصہ موجودات،سرورکائنات،احمد مجتبیٰ،محمد مصطفی ﷺ[2]۔

خانقاہ تیراہیہترميم

آپ کے والد گرامی سید فیض اللہ گیلانی تیراہی علیہ الرحمہ نے اخوندکوٹ تیراہ میں خانقاہ کا قیام عمل میں لایا۔ اس خانقاہ کے تربیت یافتہ حضرات میں سید شہزادہ صاحب، جناب شیر محمد صاحب، اخوندزادہ شاہ محمد صاحب اور مولوی محمد امین صاحبان اور آپ کے صاحبزادگان سید نور محمد،سید گل محمد، سید جان محمد، سید صالح محمد، سید محمد نور رحمۃ اللہ علیہم تھے۔ حضرت سید فیض اللہ گیلانی تیراہی علیہ الرحمہ کی وفات (1235ھ بمطابق 1819ء) کے وقت حضرت سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی عمر تقریباً چھپن (56) سال تھی۔ اپنے والدکی وفات کے بعد آپ جانشین مقرر ہوئے اور خانقاہ کے انتظام وانصرام کو سنبھالا۔ اس خانقاہ کے ساتھ ایک مدرسہ قائم کیا گیا جس میں آپ کے چھوٹے بھائی سید گل محمد گیلانی علیہ الرحمہ اور آپ کے والد گرامی کے خلیفہ مولوی محمد امین علیہ الرحمہ اور مولوی ملّاں شرافت رحمۃ اللہ علیہ جو فقہ و حدیث و تفسیر قرآن مجید میں کافی رسوخ رکھتے تھے، تدریسی فرائض سرانجام دیتے تھے۔ حضرت سید گل محمد گیلانی علیہ الرحمہ کے تبحر علمی کا یہ عالم تھا کہ اس وقت افغانستان کے علماء میں شاید ہی کوئی ایسا ہو کہ جو آپ کی شاگردی کا اعزاز نہ رکھتا ہو۔ حضرت سید گل محمد گیلانی علیہ الرحمہ نے عربی،فارسی اور پشتو زبان میں بہت سی کتابیں لکھیں جن میں سے اس وقت کوئی بھی موجود نہیں۔

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ تحصیل علم کے ساتھ ہی تصوف و روحانیت میں زیادہ دلچسپی لیتے تھے لیکن اگر علماء کسی مسئلہ دینی میں ضرورت محسوس کرتے تو آپ کی طرف رجوع کرتے اور آپ فوری طور پر اس مسئلہ کا حل اور کتابوں کے حوالے ان کے سامنے رکھ دیتے تھے۔

شیوخترميم

آپ نے دینی و روحانی تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی سے ہی حاصل کی اور انہیں سے طریقت کی بیعت کی اور انہیں سے خلافت عطا ہوئی اور ان کے بعد مسند نشین خانقاہ ہوئے۔

دعوت و تبلیغ کا طریقہترميم

آپ نے خانقاہ میں سالکان طریقت کی تربیت کے لئے سلوک نقشبندیہ مجددیہ کو اختیار کیا۔ آپ کی خانقاہ تیراہیہ میں بیک وقت بیسیوں طالبان طریقت قیام کرتے اور مدرسہ کے زیر تعلیم اور فارغ التحصیل طلباء بھی سلوک طریقت کے فیوض و برکات حاصل کرتے۔ آپ کی خانقاہ میں قیام کرنے والے طالبان طریقت کے قیام و طعام کے لئے آپ کی وسیع اراضی کی پیداوار کافی ہوتی اس کے علاوہ آپ نے ایک بڑی تعداد میں مویشی بشمول بھیڑ اور بکریاں پال رکھیں تھیں جس سے خانقاہ میں قیام کرنے والوں کے لیئے دودھ اور گوشت مہیا کیا جاتا۔

دعوت و تبلیغ کے طریقہ کار میں تبدیلیترميم

جب آپ کی خانقاہ کا شہرہ بلند ہوا اور دور دراز سے طالبان طریقت اس خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ تیراہیہ کا رخ کرنے لگے تو آپ کی بیعت کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونے لگا اور آپ کا سلسلہ طریقت مغرب میں افغانستان و تاجکستان تک اور مشرق میں ہندوستان تک پھیل گیا۔ اس صورت حال کے پیش نظر آپ نے خانقاہ میں تربیت کے علاوہ مختلف علاقوں کے سالانہ تبلیغی دورے شروع کئے۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ آپ کے سلسلہ میں داخل ہونے والے بہت سے لوگ نادار تھے اور وہ سفر کے اخراجات اور صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ چونکہ یہ علاقہ عام لوگوں کے لیئے سفر کے لئے محفوظ نہ تھا کیونکہ دشوار گزار پہاڑی سفر زیادہ تر پیدل اور خچروں پر کیا جاتا اور راستے میں رہزن مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ اس طرح تبلیغی دوروں نے لوگوں کی اس مشکل کو آسان کردیا اور سالکان و طالبان طریقت کے لئے سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ طے کرنا نسبتاً آسان ہوگیا کیونکہ آپ سفر کے دوران میں بھی طریقت کی تعلیم یعنی ذکر و مراقبات کا سلسلہ جاری رکھتے اورسالکان طریقت کے لطائف پر توجہ دیتے جو سلوک نقشبندیہ مجددیہ کا خاصہ ہے۔

اس طریقہ دعوت و تبلیغ کا ایک زبردست فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ جب تبلیغی دورے پر تشریف لے جاتے تو اس دوران میں کئی غیر مسلموں کو بھی آپ سے ملنے اور آپ کی محفل میں آنے کو موقع ملتا اور وہ اسلام کے اس عملی نمونہ اور حضور سید کونین ﷺ کے اسوہ کامل کا پرتو دیکھ کر اسلام قبول کئے بغیر نہ رہتے۔ لیکن یہ بات بھی مسلّم ہے کہ ان تبلیغی دوروں کے دوران میں سفر اور لوگوں سے میل ملاقات کی مصروفیات کے باوجود بھی سلوک طریقت کی تعلیم و معمولات میں کوئی فرگذاشت نہ ہوتی۔ آپ کے ہمراہ کم از کم پچاس سے سو افراد ہم سفر ہوتے اور ان میں زیادہ تعداد طالبان طریقت کی ہوتی۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں موجود طالبان طریقت آپ سے سلوک طریقت نقشبندیہ کے اسباق حاصل کرتے۔یوں خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ تیراہیہ وادی تیراہ سے نکل کر اور وسیع ہو کر مشرق و مغرب میں پھیل گئی بلکہ یہ سمجھیں کہ ایک سفری خانقاہ کا وجود عمل میں آیا جہاں ہمہ وقت طالبان راہ حقیقت کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رہتا۔ آگے چل کر آپ کی اولاد میں صاحبان طریقت نے اسی طریقہ دعوت و تبلیغ کو اپنایا جس کے نتیجہ میں سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کو ساری دنیا میں پذیرائی و شہرت ملی۔

سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ ومعمولاتترميم

دیگر سلاسل طریقت کی طرح سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ میں بھی صلواۃ تہجد کو بہت اہمیت حاصل ہے بلکہ اس کو طریقت کے لوازمات میں شامل کیا جاتا ہے۔حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی چوراہی علیہ الرحمہ کا بھی یہ معمول تھا کہ آپ سفر وحضر میں وقت سحر بیدار ہوکر وضو فرماتے اور ایک تسبیح استغفار کی پڑھ کر مراقبہ فرماتے پھر بارہ رکعت نوافل تہجد ادا فرماتے۔ اس کے بعد کچھ وقت ذکر نفی اثبات (لاالہ الااللہ) فرماتے۔ صبح صادق کے بعد دو رکعت سنت ادا فرما تے اور باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد پھر مراقبہ اور ذکر نفی اثبات فرماتے۔ نماز اشراق تک کسی سے گفتگو نہ فرماتے۔ نماز فجر اور نوافل اشراق کے دوران میں ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ   أُوْلَـئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ    [3]تک تلاوت کرتے پھر آیۃ الکرسی[4]،سورہ یٰس،آخر چہار قل شریف کی تلاوت کرتے اور پھر ایک تسبیح درود شریف(زیادہ تر درود خضری[5]) پڑھتے۔نماز اشراق ادا کرنے کے بعد طالبان طریقت کی طرف متوجہ ہوتے اور ان کے اسباق کے مطابق ان کے لطائف پر توجہ فرماتے۔پھر جو طالبان بیعت کی ارادت رکھتے ان کو سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ میں بیعت فرماتے اور ان پر توجہ فرما کر طریقت نقشبندیہ کے ذکر کی تلقین فرماتے اور لطیفۂ قلب پر توجہ دے کر طریقت نقشبندیہ کے مطابق ”فتح باب“ فرماتے۔ یاد رہے کہ طریقت نقشبندیہ مجددیہ میں ”فتح باب“ سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی سالک طریقت نقشبندیہ مجددیہ میں داخل ہوتا ہے تو شیخ کامل اس کو ذکر (اسم ذات) کی تلقین کرتے ہیں اور اس کے لطیفۂ قلب پر اپنی توجہ کرکے اس میں اپنی روحانی قوت سے فیض الٰہی داخل کرتے ہیں۔ اس طرح لطیفۂ قلب میں فیض الٰہی کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ اسی پر دیگر لطائف کے منور ہونے کا انحصار ہوتا ہے اس لیئے طریقت نقشبندیہ مجددیہ میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے بعد لنگر تقسیم ہوتا۔ آپ طالبان طریقت کے ساتھ مل کر کھانا تناول فرماتے۔ پھر کچھ دیر آرام کے بعد زوال آفتاب کے بعد وضو فرما کر نفی اثبات کا ذکر فرماتے۔ نماز ظہر باجماعت ادا کرنے بعد سورہ نوح کی تلاوت فرماتے۔ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد طالبان طریقت پر ان کے اسباق کے مطابق ان کے لطائف پر توجہ فرماتے۔ یوں روزانہ کے معمولات میں سے دن کے اس حصہ میں روحانی تربیت کا پہلامرحلہ مکمل ہوتا اور جو طالبان طریقت رخصت ہونا چاہتے ان کو رخصت فرماتے۔ اس کے بعد نماز عصر ادا کی جاتی اور پھر طالبان طریقت کے ساتھ مل کر مراقبہ فرماتے۔ نماز مغرب کے بعد چھ رکعت نوافل اوّابین خود بھی ادا فرماتے اور طالبان طریقت کو بھی ادا کرنے کی تلقین فرماتے۔ نماز مغرب کے بعد دوستان طریقت کے ساتھ مل کر لنگر شریف تناول فرماتے۔ نماز عشاء کے بعد وتر سے پہلے ایک تسبیح سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ[6] پڑھتے۔ پھر سورہ ملک،اسمائے حسنہ، سورہ بقرہ کی آخری آیات،سورہ بنی اسرائیل کی آخری آیات،سورہ کہف کا آخر،سورہ حشر کی آخری آیات،اور آخری دس سورتوں کی تلاوت فرما کر آرام فرماتے۔ یوں آپ کے دن کے معمولات کا اختتام ہوتا۔

اخوندکوٹ تیزئی شریف وادی تیراہ سے ہجرتترميم

حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی تیراہی ثم چوراہی علیہ الرحمہ اپنے والد گرامی کی رحلت کے بعد خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ تیراہ میں مسند نشین ہوئے اور گمگشتگان راہ حق کی رہنمائی فرمائی اور ان کو واصل بحق کیا۔اپنے والد گرامی کے بعد چوبیس (24) سال یعنی 1259 ھ تک خانقاہ کی سرپرستی فرماتے رہے۔اس دوران میں آپ کا سلسلہ طریقت افغانستان،تاجکستان اور ہندوستان کے بیشتر علاقوں تک پھیل چکا تھا۔آپ کے زیادہ تر خلفاء اور مریدین کا تعلق پنجاب اور ہندوستان سے تھا(جس کی تفصیل آگے بیان کی جائے گی)۔ان حضرات کو خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ تیراہیہ میں حصول تربیت کے لئے وقتاً فوقتاً جانا پڑتا لیکن ایک تو یہ پہاڑی سفر انتہائی دشوار گزار تھا اور دوسرا یہ کہ اس علاقہ کے بعض حاسدین نے آپ کی مخالفت شروع کردی تھی جس کی وجہ سے ہر وقت رہزنی،لوٹ مار اور جانی نقصان کا خطرہ رہتا تھا۔اس صورتحال کے پیش نظر آپ کے خلفاء اور مریدین نے استدعا کی کہ آپ پنجاب کے کسی علاقہ میں تشریف لے آئیں جہاں خانقاہ قائم کی جائے۔اس طرح وہاں تک عوام الناس کی رسائی آسان ہو جائے گی۔یہاں دو مشکلات آڑے آ رہیں تھیں جن میں سے ایک یہ کہ آپ کا تمام خاندان اور اولاد اس علاقہ میں آباد تھی اوردوسری یہ کہ ایک وسیع زرعی زمین آپ کی ملکیت میں تھی اوراس کے علاوہ اچھی خاصی تعداد میں مویشی اور سواری کے جانور بھی تھے۔اس زمین جنت نظیر میں بہتے ہوئے ٹھنڈے پانی کے چشمے اور سیب و انار کے پھلوں سے لدے ہوئے درخت اور زرعی زمین سے ہونے والی آمدنی آپ کے خاندان اور خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہیہ میں قیام کرنے والے مدرسہ کے طلباء اور طالبان راہ سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کی کفالت کا ذریعہ تھی۔یہ زرعی زمین اور باغات اب بھی اس علاقہ میں موجود ہیں اور بابا جی علیہ الرحمہ کے خاندان کی عزت و توقیر کے پیش نظر اس علاقہ کے لوگ اب بھی اس زمین پر قبضہ نہیں کرتے اور اس زمین پر کوئی بھی شخص کاشتکاری نہیں کرتا۔اس گاؤں اخوند کوٹ میں حضرت سید فیض اللہ تیراہی قدس سرہ‘ اور آپ کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں اب بھی موجود ہیں اور اس علاقہ کے لوگ دیوبندی مسلک رکھنے کے باوجود ان کا احترام کرتے ہیں،اس لئے اس علاقہ کو چھوڑنا آسان نہیں تھا۔

ایک اور مسئلہ بھی تھا جس کو تذکرہ نگاروں نے نظر انداز کیا ہے کہ وہاں کے ٹھنڈے موسم میں زندگی گزارنے والوں کے لیے پنچاب کے گرم موسم سے طبعی لحاظ سے مطابقت کرنا آسان نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ اولاد میں سے اکثر حضرات چورا شریف ہجرت کے بعد بھی کئی مرتبہ واپس وادی تیراہ گئے اور پھر چورہ شریف کی طرف مراجعت کی۔بہرحال اللہ تعالیٰ کے ولی اللہ جلّ شانہ‘ کی طرف سے حکم مل جانے کے بعد دُنیاوی معاملات کو خاطر میں نہیں لاتے اور اللہ کریم کی رضا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔یہ بات بھی مسلّم ہے کہ سادات نے ہمیشہ دین اسلام کی خاطر اپنے گھر بار کو چھوڑا ہے۔گویا ہجرت حضرت خواجہ خواجگان سیّد نور محمد گیلانی چوراہی علیہ الرحمہ کو وراثت میں ملی تھی۔

 
یہ وہ پتھر ہے جس پر آپ رحمہ الله ٹیک لگا کر مراقبہ کیا کرتے تھے

حضرت خواجہ خواجگان سیّد نور محمد گیلانی چوراہی علیہ الرحمہ نے خلفاء و مریدین کے اس مطالبہ کے پیشِ نظر اخوندکوٹ تیزئی شریف سے ڈراڈر کے علاقہ میں سکونت اختیار کی جو تیزئی شریف سے قریباً پندرہ(15) میل کے فاصلہ پر ہے۔اس جگہ ہجرت سے یہ خیال کیا گیا کہ یہاں سے تیزئی شریف میں اپنے خاندان اور زرعی زمینوں کا خیال بھی رکھا جا سکے گا اور طالبانِ راہِ سلوک کے لئے راستہ بھی نسبتاً آسان ہو جائے گا۔اس جگہ آپ نے اندازاً سات (7) سال تک قیام فرمایا لیکن یہاں بھی ہندوستان اور پنجاب سے آنے والے حضرات کومشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔اس دوران میں ضلع اٹک کے علاقہ جندال کے ایک گاؤں چورہ کے ایک مخلص مرید اور خلیفہ احمد فقیرعلیہ الرحمہ کے اصرار پر آپ نے اس گاؤں کو اپنی ہجرت گاہ بنانے کا فیصلہ کیا۔حضرت باباجی صاحب علیہ الرحمہ 1284 ھ میں ڈراڈر سے چورہ گاؤں کی برساتی ندی کے کنارے فروکش ہو گئے۔یہ پتھریلی چٹان پر مشتمل قریباً سترہ(17) کنال پر مشتمل بنجر جگہ ہے، جو خلیفہ احمد فقیر علیہ الرحمہ کی ملکیت تھی،جو انہوں نے آپ کو رہائش کے لیے دی۔ندی کے کنارے پر حضرت خواجہ خواجگان سیّد نور محمد گیلانی چوراہی قدس سرہٗ نے مسجد تعمیر کی اور مسجد کے قریب اپنا حجرہ بنوایا۔اس مسجد نوریہ میں وہ پتھر آج تک موجود ہے جس پر آپ نماز ادا کیا کرتے تھے اور وہ پتھر بھی موجود ہے جس کے ساتھ آپ ٹیک لگا کر مراقبہ فرمایا کرتے تھے۔آپ کی آمد سے یہ علاقہ چورہ سے چورہ شریف بن گیا اور آج ساری دنیا میں اسی نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے۔

آپ نے اسی مسجد کو خانقاہ کا درجہ بھی دیا اور جب تک آپ حیات رہے یہی مسجد نوریہ طالبانِ راہِ سلوکِ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کے لیے عبادت و ذکر و مراقبہ اور قیام کا مرکز و محور رہی۔اسی مسجد نوریہ سے نور ِ محمد کا ایک ایسا نور روشن ہوا جس نے چاردانگِ عالم میں طریقتِ نقشبندیہ کا نور بکھیر دیا۔

علمی و روحانی خدماتترميم

جیسا کہ پہلے مختصراًذکر کیا جا چکا ہے کہ آپ دینی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ہی روحانیت کی طرف مائل ہو گئے تھے اور پوری توجہ سلوک نقشبندیہ مجددیہ کی تکمیل کی طرف ہو گئی تھی۔آپ نے اپنے والد گرامی کی حیات میں ہی سلوک نقشبندیہ مجددیہ مکمل کیا اور طالبان راہ سلوک کی تربیت میں مشغول ہو گئے تھے۔خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہیہ میں جن حضرات نے آپ سے روحانی تربیت حاصل کی اور مجاز طریقت ہونے کے بعد سلسلہ طریقت نقشبندیہ کو فروغ دینے میں کوشاں ہوئے ان کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

گھر کے ماحول اور خانقاہ میں زیرِ تربیت طالبان راہ سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کی صحبت نے آپ کی اولاد پر گہرے اثرات مرتب کیئے۔ان روحانی تربیت یافتگان میں آپ کی اولاد میں آپ کی بڑی بیٹی سر فہرست ہیں جنہوں نے دینی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کرنے کے بعد روحانیت کی تعلیم بھی اپنے والد گرامی قدر سے حاصل کی اور ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن اجمعین کی راہ پر چلتے ہوئے خواتین کی تعلیم و روحانی تربیت کا بیڑہ اٹھایا اور اپنی تمام زندگی اسی دینی تعلیمی وروحانی تربیت میں صرف کردی۔خاندان کی خواتین اور حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین کے گھر کی خواتین آپ ہی سے سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کی تعلیم و تربیت حاصل کرتیں۔اس طرح خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ میں خواتین کی تربیت کا بھی بندوبست تھا۔حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ آپ کی بہت قدر فرماتے تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت باباجی صاحب علیہ الرحمہ کے بیٹے اگر کسی طالب سلوک کو تکمیل سلوک کے بعد خلافت عطا کرتے تو اس کے لیئے اپنی بڑی بہن کی اجازت لازم تھی۔سید بدر مسعود شاہ گیلانی کی نانی اماں سیدہ ظہور فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا نے ان کے احوال بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ ان کو روحانیت کے میدان میں ایسا مقام و مرتبہ حاصل تھا کہ ان کے گھریلو تمام کام مؤنث جنات سرانجام دیتی تھیں۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ خواتین کی تعلیم و تربیت میں گہری دلچسپی لیتے تھے بلکہ اس کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔اس طرح اس خانقاہ کو خواتین کی تربیت کے حوالہ سے دیگر خانقاہوں سے منفرد مقام حاصل تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے اس روحانی عظمت کی وجہ سے اپنی بیٹی کو ان کا مقام و مرتبہ دیا اور ان کو اس مقام کی وجہ سے بیٹوں پر ترجیح دی۔اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کے نزدیک روحانی مقام و مرتبہ میں خواتین مردوں پر فوقیت بھی حاصل کر سکتی ہیں۔اس سے آپ کی روشن خیالی اور وسعت نظری کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح آپ کے چاروں صاحبزادگان نے بھی بہت اعلیٰ مراتب پائے۔

اولادترميم

آپ کے چار صاحبزادگان تھے جن کے نام گرامی درج ذیل ہیں:

حضرت سید احمد گل گیلانیترميم

آپ حضرت باباجی سید نور محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔دینی تعلیم کے دوران میں ہی آپ پر محبت الٰہی کا غلبہ ہو گیا اور پندرہ سال کی عمر میں ہی آپ کی یہ کیفیت ہو گئی کہ اگر آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو کئی پہر نوافل ادا کرتے ہوئے کھڑے رہنے میں گزر جاتی اور اگر بیٹھ جاتے تو بڑی دیر تک محویت کے عالم میں بیٹھے رہتے۔دعا مانگنے لگتے تو کئی کئی گھنٹے دعا ہی مانگتے رہتے۔آپ کی وفات 1295 ھ میں ہوئی اور آپ کی قبر مبارک خدیزئی نزد تیزئی شریف ہے۔آپ کی اولاد ہنگو سے آگے درسمند کے علاقہ میں آباد ہے۔مجذوبیت کے غلبہ کی وجہ سے آپ سے سلسلہ طریقت نہ چل سکا۔

حضرت سید فقیر محمد گیلانیترميم

آپ نے بھی علوم ظاہری و باطنی خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف میں حاصل کئے اور اپنی روحانیت سے ہزاروں دلوں کو معرفت الٰہی سے منور کیا۔آپ کے تربیت یافتگان میں آپ کے چار بیٹوں سید گل نبی،سید احمد نبی،سید سَید شاہ اور سید قادر شاہ کے علاوہ پیر جماعت علی شاہ علی پوری،پیر جماعت علی شاہ ثانی،حافظ عبدالکریم عید گاہ شریف راولپنڈی،حافظ غلام محمد بگوی خطیب شاہی مسجد لاہوروغیرہ اھم تھے جنہوں نے سلسلہٗ طریقت نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔حضرت سید فقیر محمد گیلانی چوراہی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں بڑے صاحبان علم پیدا ہوئے جن سے ایک زمانہ نے فیض پایا۔

حضرت سید دین محمد گیلانیترميم

آپ کے تیسرے صاحبزادے تھے جو بہت بڑے عالم دین تھے۔آپ نے خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف کے مدرسہ کے صدر مدرس مولوی محمد امین صاحب علیہ الرحمہ سے ظاہری علوم کی تکمیل کی اور سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ سے حاصل کیا۔آپ کے ساتھ علماء کی کثیر تعداد سفر وحضر میں ساتھ رہتی ان میں دینی و روحانی علوم کے طلباء بھی ہوتے۔یوں آپ ہر وقت تعلیم و تربیت میں مصروف رہتے۔آپ کے مشہور خلفاء میں مولوی غلام رسول امرتسر،سید چنن شاہ رتڑہ ریاست کپورتھلہ انڈیا،مفتی غلام مصطفی امرتسروغیرہ کے علاوہ آپ کے صاحبزادگان سید دیدار شاہ گیلانی،سید محمد عادل شاہ گیلانی،سید حضرت شاہ گیلانی،سید سَیدن شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ہیں۔نیز آپ کی اولاد کی اولادوں میں بڑے بڑے علماء و فضلاء پیدا ہوئے جن سے کثیر تعداد میں لوگ فیضیاب ہوئے۔

حضرت سید شاہ محمد گیلانیترميم

آپ کے چوتھے اور سب سے چھوٹے فرزند ہیں۔آپ کی ولادت 1235 ھ میں ہوئی۔آپ حضرت باباجی صاحب علیہ الرحمہ کے سب سے محبوب صاحبزادے تھے جنہوں نے اس محبوبیت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی تمام زندگی اپنے والد گرامی کی اطاعت و خدمت میں گزار دی۔آپ نے ابتدائی عمر میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا اور باباجی صاحب کی اولاد میں پہلے حافظ قرآن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔آپ نے بھی دینی تعلیم خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف کے مدرسہ کے صدر مدرس مولوی محمد امین صاحب علیہ الرحمہ سے حاصل کی اور سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کی تکمیل اپنے والد گرامی سے کی۔دینی و روحانی تکمیل کے بعد آپ کے والد گرامی نے آپ کو تبلیغ دین کے لئے ہندوستان وکشمیر کے مختلف علاقوں میں بھیجا۔آپ کے علم و فضل اور ظاہری خوبصورتی و وجاہت کی وجہ سے حضرت خواجہ خواجگان سید نورمحمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کو اپنے گھر کا چراغ کہتے تھے۔آپ کے ظاہری و باطنی حسن کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی غیر مسلم آپ کو دیکھ لیتا اور کچھ دیرکے لیئے آپ کی صحبت میں بیٹھ جاتا تو اسلام کے دامن میں پناہ لیئے بغیر نہ رہتا۔میاں محمد اسلام،میاں غلام محمد،میاں محمد اعظم(جن کے نام پہلے سکھوں والے تھے جن کو یہاں بیان کرنا مناسب نہیں) نے آپ کی صحبت کی صرف چند گھڑیاں پائیں اور پورے سکھ کنبے کی سخت مخالفت کے باوجود دین اسلام قبول کیا۔آج ان کی اولادوں میں بڑے بڑے ڈاکٹر اور انجینئر بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ آپ کی خاص بات یہ تھی کہ آپ کو روحانیت میں اس قدر بلند مقام حاصل تھا کہ آپ ایک ہی قلبی توجہ میں سلوک نقشبندیہ کی اجمالی تکمیل کرا دیتے تھے۔

آپ کے صاحبزادگان اور ان کی اولادمیں ایسے ایسے علماء و فضلاء پیدا ہوئے جو اپنے اپنے زمانے میں علاقہ بھر میں علم و فضل کے اعتبار سے معتبر جانے جاتے تھے اور ابھی تک آپ کی اولاد میں آپ کی علمی وراثت کے امین پیدا ہوتے رہے ہیں۔ان حضرات میں آپ کے فرزند سید غلام محمد شاہ گیلانی ایک متبحر عالم دین تھے اور اس وقت کی دینی درسگاہ دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔حضرت سید غلام محمد شاہ گیلانی علیہ الرحمہ کے فرزند سید سلطان محمود شاہ گیلانی اور مولوی سید محمد سعید شاہ گیلانی مشہور زمانہ علماء میں سے تھے۔علاقہ بھر میں مولوی سید محمد سعید شاہ گیلانی علیہ الرحمہ کا فتوٰی تمام مکاتب فکر میں علمی اعتبار سے معتبر مانا جاتا تھا اور جہاں مولوی سید محمد سعید شاہ گیلانی کا نام آ جاتا تمام علماء آپ کے سامنے سر جھکا دیتے۔آپ کی بے پناہ دینی و سماجی خدمات ہیں اور تحریک پاکستان اور جنگ آزادی کشمیر میں آپ کا بہت اہم کردار ہے جن کی تفصیلات بیان کرنا یہاں موضوع کا حصہ نہیں۔حضرت مولوی سید محمد سعید شاہ گیلانی علیہ الرحمہ کے صاحبزادگان سید محمودالحسن شاہ گیلانی اور سید محمد مسعودالحسن شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہما اپنے وقت کے عظیم الشان اہل علم وتقوٰی میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ حضرت سید شاہ محمد گیلانی علیہ الرحمہ کے دیگرتربیت یافتہ خلفاء میں میاں محمد اسلام،سید نور شاہ پونچھ (جموں کشمیر)پیر بہادر شاہ،سید اکبر شاہ کرتوشریف،شاہ محمد بسائیں شریف آزاد کشمیر رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ہیں۔

خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ چورہ شریفترميم

 
سید نور محمد شاہ گیلانی رحمۃ الله علیہ کا مزار شریف

جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیئے اپنا وطن چھوڑا اور اپنے اہل و عیال کو چورہ شریف میں جگہ کے مناسب انتظام تک ڈارڈر میں رکھا اور ان کی نگرانی اپنے سب سے چھوٹے بیٹے سید شاہ محمد گیلانی کے سپرد کی۔آپ جب چورہ شریف تشریف لائے تو جہاں آج مسجد نوریہ ہے جس کی بنیاد آپ نے خود اپنے دست اقدس سے رکھی تھی کی جنوبی جانب ایک خیمہ لگایا اور اس میں اس وقت تک قیام کیا جب تک آپ کے لیئے ایک چھوٹا سا کمرہ تیار نہیں ہوگیا۔وہ کمرہ دس(10) مربع فٹ کا تھا جو آج (2021) سے چند سال پہلے تک اپنی اصلی حالت میں موجود تھا لیکن اس کو شہید کرکے پیر سید جاوید احمد شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک جدید مگر سادہ حجرہ تعمیر کیا ہے۔آپ کو چورہ شریف میں قیام کا زیادہ موقع نہیں ملا لیکن آپ کے بعد آپ کے صاحبزادگان نے اسی مسجد کو خانقاہ کا درجہ دیئے رکھا لیکن اس کو مروجہ خانقاہ کی حثیت حاصل نہ ہوسکی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ سلسلہ طریقت نقشبندیہ مجددیہ نوریہ ہندوستان کے طول و عرض اور افغانستان تک پھیلا ہوا تھا جس کے پیش نظر آپ کی اولاد نے مبلّغانہ انداز اپنایا اور ان حضرات کا زیادہ وقت تبلیغی دوروں میں صرف ہونے لگا۔اس وقت چونکہ رسل و رسائل کے ذرائع بہت محدود تھے اور زیادہ تر سفرگھوڑوں پر ہوتا تھا لیکن یہ سہولت بھی صرف میدانی علاقوں تک حاصل تھی جبکہ کشمیر اور دیگر پہاڑی علاقوں کا سفر پیدل ہی ہوتا تھا۔جس کی وجہ سے بہت تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی تھیں۔

خلفاءترميم

حضرت اعلیٰ سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی زندگی کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آپ نے اپنے آقا و مولٰی حضور پرنور سید کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت کے مطابق خدا شناس و متقی افراد تیار کیئے جنہوں نے اس سنت کو جاری رکھتے ہوئے انسانی روحانی تربیت کے اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے بڑی نابغہ روزگار ہستیاں پیدا کیں۔ ان کا مختصر تذکرہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

حضرت عجب نوروحضرت اللہترميم

ان دونوں بھائیوں کا تعلق افغانستان سے تھا۔انہوں نے خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف میں حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت پائی تھی۔ان کو خلافت دے کر تاجکستان و ترکمانستان کے علاقوں میں اسلامی تصوف کی ترویج و اشاعت کے لیے بھیجا گیا۔چونکہ طریقت نقشبندیہ میں شریعت کی پابندی کو اوّلیت حاصل ہے اور یہ دونوں بھائی شریعت مصطفی ﷺ کے پابند تھے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کو وہ قبولیت حاصل ہوئی کہ ان حضرات کے گرد سلوک نقشبندیہ کے فیض کے حصول کے لیئے ایک ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ان بھائیوں نے لوگوں کو اسلام کے نور سے منور کرنے میں اپنی زندگیاں خرچ کر دیں۔

خلیفہ اجل حضرت ہادی نامدار شاہترميم

حضرت ہادی نامدار شاہ علیہ الرحمہ کا تعلق افغانستان سے تھا۔آپ تیراہ شریف کے قریب ڈراڈر سے دس میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ”کاثہ“ میں ایک مولوی صاحب کے پاس ”شرح الیاس“ پڑھا کرتے تھے۔ایک رات خواب میں حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کو دیکھا تو اگلے ہی دن خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف میں حاضر ہو ئے اور پھر اسی خانقاہ کے ہو کر رہ گئے۔آپ تعلیم و تربیت کے بعد خلافت سے نوازے گئے اور حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو پنجاب میں رشد و ہدایت کے موتی بکھیرنے کے لیئے بھیج دیا۔یہاں آپ نے ابتدا میں ڈسکہ و سیالکوٹ کے علاقے میں تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور کثیر تعداد میں لوگوں کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ میں داخل بیعت کیا اور طالبان سلوک کی روحانی تربیت کی۔آپ نے بھی اپنے مرشد گرامی کی طرح تبلیغی و سیرانی انداز اختیار کیا۔آپ کے مشہور خلفاء میں سے سید چنن شاہ آلومہار شریف ضلع سیالکوٹ ہیں جن کی تربیت سے ہزاروں لوگوں نے فیض پایا اور یہ خانقاہ اب تک اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اسلام کی خدمت کر رہی ہے۔حضرت سید چنن شاہ علیہ الرحمہ کے پوتے سید فیض الحسن شاہ بڑے نامور خطیب گزرے ہیں۔

خلیفہ حسن علی بسال ( ضلع اٹک)ترميم

آپ کو تربیت کے بعد ضلع اٹک کے علاقہ بسال جو کہ اس وقت تحصیل جنڈ میں ہے،مخلوق خدا کی خدمت کے لیئے بھیجا۔آپ بہت بڑے عالم دین تھے۔مشہور زمانہ مناظرہ ”میکی ڈھوک“ میں آپ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ تھے اور اس مناظرہ کے معاون تھے۔یاد رہے کہ اس وقت حضرت خواجہ خواجگان علیہ الرحمہ چورہ شریف تشریف نہیں لائے تھے۔

میاں احمد فقیر و میاں فقیر محمدترميم

یہ دونوں بھائی بھی حضرت خواجہٗ خواجگان سید نور محمد گیلانی کے مخلص خلفاء میں سے تھے جو خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف میں زیر تربیت رہے تھے اور حضرت بابا جی صاحب نے ان کو خلافت سے نواز کر اپنے گاؤں چورہ میں ہی قیام کرنے کا حکم دیا۔انہیں حضرات کے اصرار پر آپ نے چورہ شریف میں قیام کو منظور فرمایا۔ان کی اولاد کے اکثر افراد آج بھی خانقاہ مجددیہ نوریہ کے خدمت گار ہیں۔

خلیفہ مولوی فضل الدینترميم

آپ نے بھی خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف سے روحانی تربیت حاصل کی۔آپ ایک متبحر عالم دین تھے۔آپ صاحب کشف ولی اللہ تھے۔خلافت و اجازت عطا کرنے کے بعد آپ کو گجرات کے علاقہ میں دین و روحانیت کی ترویج و اشاعت کے لیئے چنا گیا۔آپ سے ہزاروں لوگوں نے فیض پایا۔

خلیفہ اعظم حضرت خان عالم (باولی شریف سرائے عالم گیر)ترميم

خلیفہ خان عالم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف میں ایک عرصہ تک قیام کیا اور روحانی تربیت سے مستفیض ہوئے۔آپ اپنے مرشد کی محبت میں ایک جذب کی کیفیت میں رہے۔آپ ایک متبع شریعت عالم دین تھے۔تکمیل طریقت اور خلافت سے نوازے جانے کے بعد آپ نے باولی شریف نزد سرائے عالمگیر قیام کیا اور کثیر تعداد میں مخلوق خدا کو فیضان نقشبندیہ مجددیہ نوریہ سے سیراب کیا۔آپ نے بھی تبلیغی انداز اختیار کیا۔آج بھی آپ کی اولاد سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ اور علم سے عوام و خواص کو فیض یاب کر رہی ہے۔

خلیفہ مولوی مست علی ( میترانوالی سیالکوٹ)ترميم

آپ کو علوم ظاہری میں کمال حاصل تھا۔آپ میترانوالی ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔آپ نے بھی خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف میں خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی زیر تربیت فیضان نقشبندیہ کے اعلیٰ مراتب پائے۔آپ نہایت عابد و زاہد اور صاحب کشف تھے۔کثیر تعداد میں مخلوق خدا نے آپ سے ظاہری و باطنی فیض پایا۔آپ نے اپنی تمام زندگی باباجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کی اولاد کی خدمت میں صرف کردی۔آپ نے اہل اسلام میں ہندووانہ رسومات کی بیخ کنی کی اور ظاہری مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنایا۔آپ نے بھی تبلیغی انداز تربیت اختیار کیا۔حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی قدس سرہ‘ کے فرزند سید شاہ محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ”وظائف نوریہ“ کی کتابت آپ کے قلم سے ہوئی ہے جو اس وقت اصلی حالت میں آپ کی اولاد پاک میں سے سید بدر مسعود شاہ گیلانی کے پاس موجود ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ خوش نویس بھی تھے۔

اس کے علاوہ بھی آپ کے کئی خلفاء تربیت پانے کے بعد مختلف علاقوں میں تبلیغی و روحانی خدمات سرانجام دیتے رہے جو ہندوستان اور جموں کشمیر تک پھیلے ہوئے ہیں۔

تعلیم وتربیت کا طریقہ کارترميم

اگرچہ مروّجہ خانقاہ تو قائم نہیں کی جا سکی لیکن آپ کے صاحبزادگان طالبان راہ سلوک کی تعلیم و تربیت سے کبھی غافل نہ ہوئے۔آپ حضرات کا جب تک چورہ شریف میں قیام رہتا آپ مسجد نوریہ کو ان طلباء کی تعلیم و تربیت کا مرکز بنائے رکھتے اور درس قرآن مجید و درس حدیث کے ساتھ ساتھ سنتوں اور اخلاق نبویہ ﷺ کی عملی تربیت کے ساتھ ساتھ اسباق سلوک بھی دیئے جاتے اور ذکر و مراقبات کا سلسلہ جاری رہتا اور سلوک نقشبندیہ میں سب سے اہم کام شیخ کامل کی توجہ دینے کا عمل بھی جاری رہتا لیکن جب صاحبزادگان تبیلغی دوروں پر دوردراز تشریف لے جاتے تو ان کے ساتھ طلباء و سالکان طریقت کی ایک خاصی تعداد جو چالیس پچاس افراد پر مشتمل ہوتی ساتھ ہوتے جن کی تربیت کا ایک مسلسل عمل جاری رہتا۔اس سفر میں جو عام طور پر گھوڑوں پر ہوتا قافلہ کے ساتھ خیمے اور کھانے پینے کا مکمل سامان ساتھ ہوتا اور عام طور پر یہ حضرات گاؤں کے باہر خیمے لگا کر کئی کئی دن قیام کرتے البتہ اگر کسی گاؤں میں گاؤں سے الگ کوئی مسجد ہوتی تو اس مسجد میں قیام فرماتے۔اس طرح اس گاؤں میں پہلے سے موجود آپ کے مریدین اور دیگر حضرات آپ کی صحبت میں آتے اور روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے۔اکثر گم گشتگان راہ ان حضرات کی صحبت سے راہ حق کو پا لیتے اور یوں یہ قافلہ حق و صداقت اس علاقہ میں ضیا پاشی کرنے کے بعد اگلی منزل کو روانہ ہو جاتا۔اس انداز تبلیغ سے متاثر ہو کر سینکڑوں کفار نے اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لی۔یہ منفرد انداز تبلیغ والا روحانی قافلہ جب پہاڑوں کا رخ کرتا تو کئی کئی دن پہاڑوں پر پیدل سفر کیا جاتا اور اس سفر کے دوران میں راستے میں آنے والے لوگوں کو دین اسلام کی تبلیغ کی جاتی۔اس سفر میں بھی کم از کم پچاس سے سو افراد ساتھ ہوتے۔حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کے پوتے حضرت سید غلام محمد شاہ گیلانی اور آپ کے صاحبزادے حضرت مولوی سید محمد سعید شاہ گیلانی رحمۃ علیہما کے متعلق مشہور ہے کہ آپ جموں کشمیر تک کا سفر پیدل فرماتے اور آپ جہاں جہاں سے گزرتے وہاں کے لوگوں کو اکٹھا کرکے ان کو سکول کے بچوں کی طرح لائنوں میں کھڑا کرکے کلمہ طیبہ،کلمہ شہادت اور نماز سکھاتے اور نماز پڑھنے کا عملی طریقہ بتاتے۔اس طرح یہ نوری قافلہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے وادیوں تک پھیلے ہوئے لوگوں کو دین حق اسلام سے آگاہ کرتے ہوئے سفر جاری رکھتا۔یوں اس سفر میں کئی کئی ماہ لگ جاتے اور کئی مہینوں کی مسافت کے بعد حضرات والا شان چورہ شریف کی طرف مراجعت کرتے۔اس پر اگر غور کیا جائے اور چشم تصور میں اس زمانے کی سفری صعوبتوں کو پیش نظر رکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہ تھا اور اگر چورہ شریف میں خانقاہ قائم کرکے اس میں قیام کیا جاتا تو بالیقین ہزاروں لاکھوں لوگ نور ایمان سے اپنے سینوں کو روشن نہ کر سکتے اور ہزاروں لوگ معرفت الٰہی کے چشمہ فیض سے مستفیض ہونے سے محروم رہ جاتے۔اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ولی ہمیشہ اللہ جلّ شانہ‘ کی رضا کے مطابق کام کرتے ہیں چاہے ان کو اس مقصد کو حاصل کرنے کی لیئے اپنی جانوں اور سکون و آرام کو خرچ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

سماجی خدماتترميم

یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ اولیاء اللہ بالخصوص وہ حضرات جو مخلوق خدا کی رشدو ہدایت پر مامور ہوتے ہیں،اپنے ارد گرد کے ماحول سے لاتعلق نہیں رہ سکتے اوروہ معاشرتی سرگرمیوں میں بالخصوص پسے ہوئے طبقات کی معاونت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ان کی اسی خصلت کی وجہ سے عام غریب و نادار لوگ ان کی طرف کھچے چلے آتے ہیں اس کے علاوہ ان کے پاس اپنی دنیاوی مشکلات کے حل ہونے کی امید یں بھی لے کر آتے ہیں اور اکثر ان اولیاء اللہ سے دنیاوی معاملات میں بھی مدد کے طلب گار ہوتے ہیں اور یہ حضرات ان غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور پریشان حالوں کی پریشانیاں دور کرتے ہیں اور یون ان لوگون کا ان بزرگوں کے قریب آنا ان کی دینی ہدایت کا سبب بن جاتا ہے۔ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی سماجی خدمات پر اگرچہ کوئی ایسا مضمون نہیں ملتا جس میں اس مخصوص عنوان پر روشنی ڈالی گئی ہو لیکن ان کے تذکرہ میں کئی ایسے واقعات ملتے ہیں جن کی روشنی میں ہم ان کی معاشرتی و سماجی خدمات اخذ کر سکتے ہیں۔ذیلی سطور میں اس کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

غریبوں کا ظالم کے خلاف ساتھ دیناترميم

اگرچہ آپ کی رہائش خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہ شریف میں تھی لیکن آپ اپنے دور دراز کے متعلقین کی تکلیفوں میں ان کا ساتھ دیتے اور ظالموں کے ظلم سے نجات دینے میں ان کی معاونت کرتے۔آپ کے مخلصین میں سے ایک شخص جان محمد جو پنڈی گھیب کے قریب ایک گاؤں کنڑٹ کا رہنے والا تھاجو محنت مزدوری کرتا تھا۔اس گاؤں کا ایک مالدار شخص اس کو ناجائز تنگ کرتا اور اس کو نقصان پہنچاتا تھا۔جب آپ کو اس غریب کی تکلیف کا علم ہوا تو آپ نے چند مخلصین کو اس ظالم شخص کے پاس بھیجا کہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے اس کو ظلم سے روکو۔ان حضرات نے اس کے پاس جا کر اس کو سمجھایا اور ظلم سے باز رہنے کی تلقین کی۔اس سے ظاہر ہوا کہ آپ دور دراز علاقوں میں بھی غریبوں کی مدد فرماتے اور ظالموں کے ظلم سے نجات دلوانے میں اپنی کوششیں بروئے کار لاتے۔

سرکاری عمال کی معاونتترميم

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خانقاہوں سے وابستگان دنیاوی معاملات سے لا تعلق ہوتے ہیں بالخصوص بادشاہوں کے درباروں یا سیاسی حکومتوں کے کارندوں سے بالعموم دور رہتے ہیں لیکن یہ بات اس حد تک تو درست ہو سکتی ہے کہ اولیاء اللہ ان عہدیداروں سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھاتے لیکن وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اس لیئے وہ جب ان بزرگوں کے پاس اپنی مشکلات کے حل کے لیئے آتے ہیں تو یہ ان کی دلجوئی بھی کرتے ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔اس بات کی تائید میں ایک واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ محبت و عقیدت رکھنے والے ڈپٹی انسپکٹر پولیس راجہ سَید خان تھے۔(قارئین کرام یاد رہے کہ اس زمانے میں پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر بہت بڑی اتھارٹی رکھتا تھا۔اس زمانے میں ایک سپاہی کا اتنا خوف اور ڈر ہوتا تھا کہ جب کبھی کوئی سپاہی کسی گاؤں میں جاتا تھا تو لوگ مارے خوف کے اپنے گھروں میں چھپ جاتے تھے) راجہ صاحب کے علاقہ میں جنگل سے ایک لاش ملی جس کی تفتیش کا حکام بالا نے راجہ صاحب کو حکم دیا۔کافی تگ و دو کے بعد بھی قتل کا سراغ نہ ملا جو کہ راجہ صاحب کے لیئے پریشانی کا باعث تھا کیونکہ راجہ صاحب پر روز بروز حکام بالا کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔راجہ صاحب پریشانی کے عالم میں حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کے پاس حاضر ہوئے اور اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔آپ نے راجہ صاحب کو تسلّی دی اور فرمایا کہ ان کے اندازے کے مطابق اس شخص کو بھیڑیئے نے ہلاک کیا ہے لہذا جہاں سے لاش ملی ہے وہاں پر بڑی بڑی کڑکیاں لگائی جائیں تاکہ اس بھیڑیئے کو پکڑا جا سکے۔چنانچہ اسی تدبیر کے مطابق عمل کیا گیا تو اسی رات بھیڑیا کڑکی میں پھنس گیا۔اس طرح ہلاکت کا یہ معمہ حل ہوا اور راجہ صاحب کی جان میں جان آئی بلکہ اس زمانے میں 20 روپے انعام سے بھی نوازے گئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے عقل و شعور کی اس بلندی پر ہوتے ہیں کہ وہ الجھے ہوئے معاملات میں عقلی بنیادوں پر حل پیش کرکے لوگوں کو مشکلات سے نکالنے کا سبب بنتے ہیں اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

غریبوں کی عزت نفس کا خیالترميم

آپ غریبوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرماتے اور ان کی عزت نفس کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیتے بلکہ ایسا رویہ رکھتے جس کی وجہ سے ان کے مقام ومرتبہ میں اضافہ ہوجاتا۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ خانقاہوں میں اکثر معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے اور نادارومساکین زیادہ رجوع کرتے ہیں کیونکہ ان کو جو وہاں عزت ملتی ہے دنیاداروں کی کوٹھیوں اور حویلیوں میں نہیں ملتی۔آپ کے خلیفہ اعظم حضرت ہادی نامدار شاہ علیہ الرحمہ کے گاؤں نتھیال تحصیل جنڈ ضلع اٹک میں آپ کا ایک مخلص مرید رہتا تھا جو پیشہ کے اعتبار سے حجام تھا۔حضرت ہادی نامدار شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ ان کی فاتحہ خوانی کے لئے تشریف لائے تو اس مذکورہ شخص نے آپ کو کھانے کی دعوت دی جو آپ نے اس کی دلجوئی کے لئے قبول کرلی کہ مبادا اس کے دل میں اپنی غریبی کا خیال پیدا نہ ہو اور یہ نہ سوچے کہ چونکہ میں غریب ہوں اس لیئے باباجی صاحب نے میری دعوت قبول نہ کی۔دعوت تو اس نے دے دی لیکن جب اس نے باباجی صاحب علیہ الرحمہ کے ساتھ درویشوں کی تعداد کا اندازہ لگایا تو وہ پچاس سے زائد تھے۔گھر آکر اس نے اپنی اہلیہ کو بتایا کہ میں نے حضرت صاحب کو دعوت تو دے دی ہے لیکن بعد میں جب مجھے ان کے درویشوں کی تعداد کا علم ہوا تو میں پریشان ہو گیا ہوں کیونکہ کھانے کا انتظام تو بہت کم لوگوں کے لیئے ہے۔نماز مغرب کے بعد جب کھانا آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے حضور سرور کونین ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے کھانے پر اپنی چادر مبارک ڈال دی اور حاضرین کو خود اپنے ہاتھوں سے کھانا پیش کیا۔یہ آپ کے ہاتھوں کی برکت تھی اور مناسب انداز میں کھانا تقسیم کرنے کی تدبیر بھی جس کی وجہ سے تمام حاضرین نے کھانا کھایا۔اس طرح آپ نے غریبوں کی عزت نفس برقرار رکھنے کی اعلیٰ مثال قائم کردی۔

عوام الناس کے دکھ درد میں شرکتترميم

 
یہ وہ چشمہ ہے

اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کو انسانیت کا درد رکھنے والا بنایا ہے۔یہ حضرات انسانیت کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے اور جیسے بن پڑتا ہے ان کی تکالیف و مشکلات کو رفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آپ جب اخوند کوٹ تیزئی شریف سے ڈراڈر تشریف لائے تو یہاں پانی کی شدید قلت تھی اور لوگوں کو تقریباً ایک کلومیٹر سے زائد دوری سے پانی لانا پڑتا تھا۔لوگوں نے جب اس تکلیف سے آپ کو آگاہ فرمایا تو آپ کا دل تڑپ اٹھا۔آپ نے لوگوں سے کہا کہ کل صبح سب لوگ اکٹھے ہو جاؤ تاکہ ہم مل کر پانی تلاش کر سکیں۔آپ کی تجویز پر اگلی صبح تما م لوگ جمع ہو گئے تو آپ ان کو ساتھ لے کر مشرق کی طرف گئے اور ایک جگہ رک کر ایک پتھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کو اٹھاؤ۔جب لوگوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس پتھر کو اٹھایا تو اس کے نیچے سے ایک چشمہ جاری ہوگیا۔حضرت باباجی صاحب علیہ الرحمہ نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر ایک چھوٹی سی نہر بناکر گاؤں تک لائے۔عرصہ دراز تک لوگ اس نہر سے فیض یاب ہوتے رہے۔یوں آپ کی کوشش سے اس گاؤں کے لوگوں کا بہت بڑا مسئلہ حل ہوا۔

غریبوں کی دلجوئیترميم

آپ نے ہمیشہ غریبوں سے پیار کیا اور ٹوٹے ہوئے دلوں کی ڈھارس بندھائی۔چورہ شریف کی قریبی آبادی میں سے ایک شخص محمد ولد حیات آپ کے پاس حاضر ہوا اور قحط سالی اور گھریلو اخراجات کی وجہ سے تنگ دستی کی شکایت کی اور بتایا کہ کئی روز سے فاقہ سے ہوں۔آج مجبور ہو کر آپ کے پاس آیا ہوں اور پشاور جاکر محنت مزدوری کا سوچ رہا ہوں۔آپ کا دل تڑپ اٹھا اور اس کی مدد کی اور فرمایا کہ کل نماز فجر کے بعد میرے پاس آنا اور اپنے اوزار بھی ساتھ لانا۔اگلے دن وہ صبح کے وقت حاضر ہوا۔آپ نے اس کو مشرق کی طرف چلنے کو کہا اور فرمایا کہ سورہ یٰس پڑھتے جاؤ اور جہاں سورہ ختم ہو وہیں رک کر ریت کو چھاننا۔اس نے ایسا ہی کیا اور اس ریت میں سے اسے سونے کے ذرات ملے۔پھر اس نے اسی کام کو اپنا پیشہ بنا لیا اور یوں اس تدبیر سے اس کی تنگی ختم ہو گئی۔

غریبوں کو معاف کرناترميم

اہل اللہ میں حضور سرور کونین ﷺ کی اپنے متعلقین اور خدام کو معاف کرنے کی سنت پر عمل کرنا مشہور ہے۔حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ بھی اپنے خدام اور متعلقین کو معاف فرمانے والے تھے۔محمد بخش نام کا ایک شخص آپ کے ساتھ سلسلہ طریقت میں منسلک ہوا۔آپ نے حسب معمول اس کو معصیات ومنہیات سے بچنے کی تلقین فرمائی اور اس نے بھی برائیوں سے اجتناب کا وعدہ کیا۔کچھ عرصہ تو وہ ٹھیک رہا لیکن پھر وہ اپنے پہلے والے ساتھیوں سے مل کر برائیوں کی طرف مائل ہوا۔حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خلیفہ میاں احمد فقیر کے ذریعہ اس کو پیغام بھیجا کہ وہ ان حرکتوں سے باز آ جائے۔اس نے میاں احمد فقیر رحمۃ اللہ علیہ سے برائیوں سے باز رہنے کا وعدہ کر لیا۔اس طرح آپ نے بھی اس کو معاف کردیا۔

بیماروں کے ساتھ حسن سلوکترميم

بعض اوقات لوگ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کوئی ان سے ہاتھ ملانا تو دور کی بات ان کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتے۔ان بیماریوں میں سے ایک جذام یعنی کوڑھ بھی ہے۔اس بیماری کے شکار لوگوں کے اعضا گلنا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کے زخموں سے ناگوار بدبوآتی ہے جس کی وجہ سے عام لوگ ان کے قریب نہیں آتے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے بندے اپنے رب کے بندوں سے پیار کرتے ہیں اور بیماروں کی اس طرح دلجوئی کرتے ہیں کہ ان کے دکھ درد کم ہو جاتے ہیں اور ان کو احساس ہوتا ہے کہ انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جو ان سے نفرت نہیں کرتا۔مذکورہ بالا شخص محمد بخش آخری عمر میں جذام کے مرض میں مبتلا ہو گیا۔گاؤں کے لوگوں نے اسے گاؤں سے نکال دیا اور وہ ایک سال تک دربدر پھرتا رہا اور کوئی اس کا پرسان حال نہ تھااور وہ روز بروز مایوسی کے گرداب میں پھنستا گیا۔بالآخر اسے خیال آیا کہ اب ایک ہی جگہ رہی ہے جہاں اس کی دادرسی ہو سکتی ہے اور جہاں سے اسے نفرت کی بجائے محبت ملنے کی امید کی جاسکتی ہے۔وہ اسی امید کے سہارے حضرت اعلیٰ باباجی صاحب علیہ الرحمہ کے پا س ڈراڈر پہنچا جہاں ان دنوں آپ قیام پذیر تھے۔جب وہ آپ کے سامنے گیا تو اپنی سابقہ غلطیوں کی وجہ سے شرمندہ بھی تھا لیکن آپ کو اس کی حالت پر رحم آگیا۔آپ نے جب اس کی طرف نگاہ محبت سے دیکھا تو وہ اس محبت کے دریا میں غرق ہو کر جھوم اٹھااور اس شفقت و محبت کو برداشت نہ کرسکا اور بے ہوش ہو گیا۔کچھ دیر بعد جب اس کو کسی قدر سکون ملا تو حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی قدس سرہ‘ العزیز نے اس کو اپنے پاس بلایا اور اپنے ہاتھ میں پانی کو کوزہ(برتن) لے کر خود اس کے ہاتھ دھلائے اور اپنے ساتھ بٹھا کر لنگر کھلایا۔حاضرین آپ کی اس اعلیٰ ظرفی پر ورطہ حیرت میں ڈوب گئے اور اللہ تعالیٰ کے ولی کی مخلوق کے ساتھ بالخصوص لا علاج موذی مرض کے مریض کے خود ہاتھ دھلانا اور اس کو اپنے ساتھ بٹھا کر اپنے برتن میں کھاناکھلانے والا عمل ان کوششدر کر گیا۔وہ ایک طرف یہ سوچتے تھے کہ افغانستان و ہندوستان جس ہستی کے خلفاء و مریدین سے بھرا ہوا ہے اور دوسری طرف یہ خیال کرتے کہ وہی ہستی آج ایک غریب اور بیمار کے ہاتھ دھلا رہی ہے اور دسترخوان پر اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلا رہی ہے۔نہ بیمار سے نفرت ہے اور نہ بیماری لگنے کا اندیشہ ہے۔اور یاد رہے کہ یہ حسن سلوک صرف اسی دن تک محدود نہ تھا بلکہ اگلے کئی دنوں تک محبتوں کا یہ دریا ٹھاٹھیں مارتا رہا۔وہ لا علاج مریض اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر اور شفا سے بھر پور لنگر کھا کر صرف چار دن میں بالکل صحت یاب ہو گیااور بیماری کے تمام اثرات ختم ہوگئے۔اس کے بعد وہ شخص تیس سال تک زندہ رہا۔

عوام الناس کی خبر گیریترميم

نہ صرف یہ کہ آپ لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دیتے اور ان کو معارف الٰہیہ عطا فرماتے بلکہ انسانوں کے دنیاوی معاملات میں بھی ان کا خیال رکھتے اور ان کی خبر گیری کرتے اور کسی بھی صورت میں ان کو تنہا نہیں چھوڑتے۔آپ کے ایک خلیفہ خدا بخش پر کیمیا گری اور جنگی آلات بنانے کا الزام لگا۔اس وقت ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی جو اس طرح کی سرگرمیوں پر بہت سختی کرتے تھے۔بہرحال اس الزام میں وہ گرفتار ہو گئے اور پولیس حکام ان کو تھانے لے گئے اور حوالات میں بند کردیا۔جب آپ کو اس صورت حال کا علم ہوا تو آپ نے خانقاہ کے ایک درویش جن کا نام بھی خدا بخش تھا اور وہ گرجہ گاؤں ضلع راولپنڈی کے رہنے والے تھے،کو ان کے پاس بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ خلیفہ صاحب کو تسلّی تشفی دیں اور اطمینان دلائیں کہ آپ جلد اس الزام سے بری ہو جائیں گے۔صبح کے وقت پولیس افسر نے آپ کو باعزت بری کر دیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے متعلقین کی از حد خبر رکھتے تھے اور خود یا بالواسطہ طور پر ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔

بچوں پر شفقتترميم

جس طرح آپ بڑوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے اسی طرح آپ سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بچوں پر بھی دست شفقت رکھتے۔اس پر دلیل یہ ہے کہ ڈراڈر میں ایک زمیندار محمد اعظم نے بوجہ ناچاکی اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔اس بیوی سے ایک دس سالہ بچہ ایک دن اپنی والدہ کو ملنے چلا گیا۔جب اس کے والد کو معلوم ہوا تو وہ تلوار نکال کر اس کے مارنے کو دوڑا۔قریب ہی حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی چوراہی موجود تھے۔لڑکا خوف زدہ ہو کر باباجی صاحب علیہ الرحمہ کے دامن سے لپٹ گیا اور حضرت اعلیٰ نے اس بچے کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔اس زمیندار نے بڑے تکبر سے بچے کو چھوڑنے کو کہا۔آپ نے بڑی نرمی سے فرمایا کہ بچہ ڈر گیا ہے اس لیئے میں نے اس کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا ہے،تم اس پر رحم کرو اور اس کو کچھ نہ کہو۔لیکن وہ غصے میں تھا اور اس نے آپ پر تلوار کا وار کردیا۔اگرچہ تلوار کا وار خطا ہوا لیکن اس کی وجہ سے حضرت باباجی صاحب علیہ الرحمہ کی قمیص کی آستین پھٹ گئی۔یوں آپ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بچے کو بچا لیا اور اس پر شفقت و محبت کی بہترین مثال قائم کی۔

غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوکترميم

جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ اولیاء اللہ نے اپنے حسن سلوک سے اسلام کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار اداکیا بلکہ ہندوستان میں اسلام کا پھیلاؤ زیادہ تر انہیں اولیاء اللہ کے ذریعہ ہوا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان خانقاہوں میں آنے والوں کی بلحاظ مذہب و رنگ و نسل کوئی تمیز نہیں ہوتی تھی بلکہ سب کو انسان سمجھا جاتا تھا اور انسانیت کی خدمت کو ہی اوّلیت دی جاتی تھی۔خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ تیراہیہ میں بھی غیر مسلموں کو رسائی کے اتنے ہی مواقع میّسر تھے جتنے مسلمانوں کو۔یہی وجہ ہے کہ باباجی صاحب قدس سرہ‘ اور آپ کی اولاد کے ہاتھوں پر ہزاروں غیر مسلموں نے کلمہ پڑھا۔آپ کے پوتے حضرت سید غلام محمد شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق مشہور ہے کہ جو غیر مسلم آپ کو صرف دیکھ ہی لیتا تھا تو وہ اسلام میں داخل ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ اس سے پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمدگیلانی علیہ الرحمہ کا سلسلہ ہندوستان کے دور دراز علاقوں تک پھیل چکا تھا اور آپ ان علاقوں کا سالانہ تبلیغی دورا فرماتے تھے۔ان تبلیغی و روحانی دوروں کے دوران میں آپ کو جہاں اپنے مریدوں اور دوسرے اہل ایمان سے ملنے کا موقع ملتا وہاں کئی غیر مسلم بھی آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے۔ذیل میں تین واقعات کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں آپ کے غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک اور اعلیٰ اخلاقی رویّے سے آگاہی ہو گی۔ ایک مرتبہ آپ ہندوستان کے دورے سے واپسی پر دریائے سندھ کو عبور کرنے کے لیئے خوشحال گڑھ کے کنارے پر تشریف فرما ہوئے جہاں سے آپ نے کشتی کے ذریعے دریا عبور کرنا تھا۔وہاں ایک کشتی دریا سے پار جانے کے لیئے تیار تھی لیکن اس پرسولہ(16) سکھ سپاہیوں نے قبضہ کیا ہوا تھا اور اس پر اپنا سامان بھی لاد رکھا تھا۔کشتی میں جو تھوڑی سی جگہ بچی تھی وہاں ملّاح نے حضرت باباجی صاحب قدس سرہ‘ اور آپ کے خدام کو سوار کیا۔ان سکھ سپاہیوں نے آپ کا لحاظ نہ کیا اور ایک سکھ سپاہی نے آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ تختہ پر نہ بیٹھیں بلکہ نیچے کھڑے رہیں کیونکہ اس پر ہمارے کھانے پینے کی اشیاء پڑی ہیں جن کو اگر آپ نے چھو لیا تو یہ ہمارے کھانے کے قابل نہیں رہیں گی۔آپ نے اس سکھ سپاہی کی بات کا برا نہیں منایا بلکہ اس کے جواب میں بڑی نرمی کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں اس چُھو جانے کی بیماری سے نجات دے۔پھر کشتی روانہ ہوئی اور آپ نے کھڑے ہو کر سفر شروع کر دیا۔آپ کے اس حسن سلوک کا یہ اثر ہوا کہ کشتی کے دریا پار اترنے سے پہلے ہی تمام سکھ سپاہیوں نے کلمہ شھادت پڑھا اور دین اسلام میں داخل ہوگئے۔

اسی طرح آپ پنجاب کے تبلیغی و روحانی دورے پر ضلع اٹک کے ایک گاؤں ”گیدڑانوالی“ میں قیام پذیر ہوئے۔وہاں آپ کے ایک مرید نواب خان نے آپ کی دعوت کی۔اس علاقہ کا رواج ہے کہ مہمان کو کھانا دیتے وقت دسترخوان پر گھی شکر ضرور رکھتے ہیں۔حضرت باباجی صاحب علیہ الرحمہ دورے کے دوران میں اکثر مسجد میں قیام فرماتے۔یہاں بھی آپ مسجد میں ہی قیام فرما تھے اور کھانا وہیں پیش کیا گیا۔جب کھانا پیش کیا گیا تو میزبان نواب خان نے دیکھا کہ دسترخوان پر گھی تو موجود ہے لیکن شکر نہیں ہے۔فوراً ایک آدمی کو دوڑایا اور دکان سے شکر لانے کو کہا۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس گاؤں میں ایک ہی دکان تھی اور وہ ہندو کی تھی۔جب اس ہندو نے پوچھا کہ اس وقت شکر کی کیا ضرورت پڑ گئی تو اس آدمی نے بتایا کہ ایک بزرگ مسجد میں تشریف فرما ہیں ان کی دعوت میں گھی کے ساتھ شکر رکھنی ہے۔اس ہندو دکاندار نے کہا کہ میں خود شَکر لے کر آتا ہوں۔جب وہ مسجد میں داخل ہوا تو حضرت باباجی صاحب علیہ الرحمہ نے شفقت و محبت سے بھری ہوئی ایک نگاہ اس پر ڈالی اور اپنے پاس بلایا۔اس وقت ذکر الٰہی اسم ذات(اللہ) ہو رہا تھا۔ وہ بھی اس محفل ذکر میں بیٹھ گیا۔اس دوران میں وہ حضرت اعلیٰ کے اخلاق سے اتنا متاثر ہوا کہ وہیں کلمہ شھادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوا گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ نے اس ہندو کو نہ تو مسجد کے اندر داخل ہونے سے روکا اور نہ اس کو اپنے پاس بیٹھنے سے منع کیا۔یہی بات اس کے دل میں اسلام کی شمع روشن ہو گئی۔ چورہ شریف کے قریب تحصیل جنڈ کا ایک ہندو سنار بخشی اروڑہ نام کا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی بیماری تپ دق سے نجات کی دعا کا خواستگار ہوا۔آپ نے بڑی فراغ دلی کے ساتھ اس کے لیے دعا کی۔آپ کی دعا سے وہ مکمل صحت یاب ہو گیا لیکن اس واقعہ نے اولیاء اللہ کی وسعت قلبی اور انسان دوستی کو ظاہر کردیا کہ آپ کے ہاں انسان کو اس کی انسانیت کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق سمجھتے ہوئے حدیث رسول ﷺ ”تخلّقوا بِاخلاقِ اللہ“ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے مزیّن کرو کے بمصداق مخلوق خدا سے محبت کی جاتی ہے۔

مخالفتترميم

آپ نے حضور سید کونین ﷺ کی یہ سنت بھی ادا کی کہ علاقہ کے لوگوں نے آپ کی معاشرے میں عزت و شہرت کو برداشت نہ کرتے ہوئے مخالفت کی اور آپ کے خلاف اس طرح کی محاذ آرائی کی تاکہ عوام الناس آپ سے متنفر ہو جائیں۔جس وقت آپ تیزئی شریف میں خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ تیراہیہ میں علم و معرفت کی روشنی پھیلا رہے تھے اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو خدا شناسی کا پیغام دے رہے تو اس علاقہ کے ایک شخص ولی خان نے آپ کی مخالفت شروع کردی اور جگہ جگہ یہ پروپیگنڈہ کرنے لگا کہ ان(خواجہ سید نور محمد گیلانی) کے پاس نہ جایا کرو کیونکہ ان کا طریقہ شریعت کے خلاف ہے اور یہ کہ انہوں نے یہ طریقہ کسی ہندو جوگی سے سیکھا ہے۔اور یہ کہ وہ(نعوذ باللہ) اپنے مریدوں کو ”یا ابلیس“ ایک ہزار مرتبہ روزانہ کہنے کی تلقین کرتا ہے۔ان جھوٹی باتوں کو سن کر علاقہ کے لوگ اشتعال میں آگئے اور انہوں نے حقیقت حال سے واقفیت حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کی اور حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین اور متعلقین کو تنگ کرنے لگے اور ظلم وستم پر اتر آئے۔حضرت باباجی سید نور محمدگیلانی قدس سرہ‘ نے ولی خان کو بلایا اور فرمایا کہ تم ہماری مخالفت پر کیوں اتر آئے ہو۔ہمارا طریقہ شریعت کے عین مطابق ہے۔اگر تمھیں کوئی بات شریعت مصطفی ﷺ کے خلاف نظر آتی ہے تو اس کی نشاندہی کرو۔وہاں تو وہ کسی ایسی بات کی نشاندہی نہ کرسکا جس کو خلاف شریعت کہا جا سکے اور لاجواب ہو کر وہاں سے اٹھ گیا۔اس نے اس خفت کو مٹانے کے لیئے آپ کی مخالفت میں اضافہ کردیا اور اب وہ آپ کو بھی ایذائیں دینے لگا۔آپ کچھ عرصہ تک ان تکلیفوں اور ایذاؤں کو برداشت کرتے رہے اور خانقاہ میں سالکان طریقت کی تعلیم و تربیت میں مصروف رہے۔جب آپ اپنے پاس آنے والوں کو مصیبتوں اور ابتلاؤں میں دیکھتے تو آپ کا دل دکھتا۔آپ کی تیزئی شریف سے ڈراڈر کی طرف ہجرت کرنے میں دیگر وجوہات کے علاوہ یہ وجہ بھی تھی تاکہ خانقاہ میں آنے والوں کو اس ظلم و ستم سے نجات دلائی جائے۔

آپ کی مخالفت کرنے والے صرف تیراہ شریف تک محدود نہ تھے بلکہ آپ کے سلسلہ طریقت کی وسعت نے دوسرے علاقے کے لوگوں کو بھی حسد میں مبتلا کردیا تھا۔اس کی مثال یہ واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ پنجاب کے تبلیغی و روحانی دورے پر تھے کہ فتح جنگ ضلع اٹک کے نزدیک ایک گاؤں ”میکی ڈھوک“ میں آپ کے ایک مرید ”نور محمد“ نے رات قیام کی دعوت دی جو آپ نے منظور فرمالی۔جب آپ وہاں تشریف لے گئے تو نماز عشاء کے بعد وہاں کے ایک شخص نے منادی کردی کہ ہمارے گاؤں میں علاقہ تیراہ سے ایک شخص آیا ہے جو دائرہ اسلام سے (نعوذباللہ) خارج ہے۔ان سے کوئی مسلمان اس وقت تک ملاقات نہ کرے اور ان کو اور ان کے مریدوں کو مسجد میں نہ آنے دیا جائے،جب تک وہ ہمارے علماء سے مناظرہ نہ کرلیں۔یہ بات یاد رہے کہ یہ گاؤں ان علماء کی وجہ سے اس علاقے میں مشہور تھا اور لوگ ان علماء کی بہت عزت کرتے تھے اور ابھی تک یہ بات مشہور ہے۔سید صوفی مسعودالحسن شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا تھا کہ مدرسہ دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی صاحب نے بھی انہیں علماء سے علم پڑھا تھا۔ بہرحال جب آپ کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا مجھ کو بحث و مباحثہ سے کوئی غرض نہیں کیونکہ میں ایک فقیر آدمی ہوں لیکن اگر میرے قول و فعل میں شریعت کے خلاف بات ہو تو مجھے آگاہ کریں۔اس کے ایک ایک لفظ سے کسر نفسی جھلک رہی ہے جو کسی درویش کا سرمایہ ہوتی ہے۔لیکن مخالفت کرنے والے لوگ مباحثہ و مناظرہ پر بضد رہے تو بادل نخواستہ آپ بھی تیار ہوگئے کیونکہ نعض اوقات اتمام حجت لازم ہو جاتی ہے۔اگلے دن صبح کے وقت ”میکی ڈھوک“ کے علماء کی طرف سے مولوی عبداللہ سکنہ نوتھ۔مولوی شیر محمد سکنہ دمال مقرر ہوئے اور حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی طرف سے مولوی محمد شاہ سکنہ کوٹ چھجی اور آپ کے فرزند حضرت سید دین محمد شاہ گیلانی کو منتخب کیا گیا۔مولوی محمد احسن صاحب جو اس گاؤں کے مناظرہ کرنے والے علماء کے استاد تھے کو منصف مقرر کیا گیا۔نہایت کم وقت میں ارد گرد کے علاقوں سے لوگوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔

مباحثے کے آغاز میں ان علماء کی طرف سے مولوی عبداللہ صاحب نے سوال کیا کہ آپ نسوار سونگھتے ہیں جو شریعت میں حرام ہے۔اس لئے ہم نسوار سونگھنے والے کو کافر جانتے ہیں۔

حضرت خواجہ سید دین محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر فرمایا کہ کسی چیز کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن و حدیث سے دلیل پیش کی جائے۔مولوی عبداللہ صاحب نے کہا کہا قرآن مجید کی آیت ”انما الخمر والمیسر“ میں خمر کے معنی نسوار ہیں۔حضرت سید دین محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کوئی ایسا حوالہ پیش کرو جس میں ”خمر“ کے معنی نسوار ہو۔مولوی صاحب نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ اس کا معنی نسوار ہے۔حضرت سید دین محمد گیلانی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ کسی چیز کی حرمت کے لیئے آپ کے قول کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ آپ کا قول شرعی دلیل اور حجت ہے۔اس لیئے قرآن و سنت کی دلیل کے بغیر کسی چیز کو حرام نہیں قرار دیا جا سکتا۔

انہوں نے لاجواب ہو کر اس سوال کو چھوڑ دیا اور دوسرا سوال کیا کہ ”تم ذکر جہر کرتے ہو جبکہ ذکر جہر حرام ہے“حضرت سید دین محمد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگرچہ طریقہ نقشبندیہ میں ذکر جہر نہیں کراتے لیکن ہم ذکر جہر کو حرام بھی نہیں سمجھتے کیونکہ ذکر جہر قرآن مجید سے ثابت ہے۔اسی بحث مباحثہ میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا اور لوگ نماز کی ادائیگی کی تیاری کرنے لگے۔مولوی عبداللہ صاحب نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک شخص کو چھت پر چڑھا کر منادی کروا دی کہ تیراہ والے فقیر صاحب مناظرے میں ہم سے ہار گئے ہیں۔اس لیئے کوئی شخص نہ تو ان سے ملے اور نہ سلام کرے۔

حضرت باباجی خواجہ سید نور محمد گیلانی قدس سرہ‘ کے ایک خادم ملاّ بہادر نے بھی منادی کرنے کی اجازت چاہی لیکن آپ نے اس کی اجازت نہ دی۔اس کی وجہ تھی کہ آپ جانتے تھے کہ اس مباحثہ کو ہزاروں لوگوں نے سنا ہے اور وہ اس حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ کس کے پاس شرعی دلائل ہیں اور کون علمی و شرعی دلائل دینے میں ناکام رہا ہے۔اس لیئے ہمارے کہنے کی بجائے لوگ خود فیصلہ کر لیں گے کہ کون حق پر ہے اور کون غلطی پر۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کو جوش آیا اور منادی کرنے والا شخص حواس باختہ ہو کر چھت سے گرا اور ایک سال حالت جنون میں رہ کر مر گیا۔حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی حکمت عملی اور صبر کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کی علمی و روحانی عظمت سے کثیر تعداد میں عوام روشناس ہو گئے اور اس طرح اس علاقہ میں آپ کی عزت و شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔

ملفوظاتترميم

  1. آدمی کو دو چیزیں درست اور دو چیزیں شکستہ رکھنی چاہیں: دین درست اور یقین درست جبکہ دست شکستہ اور پا شکستہ۔
  2. فقرو فاقہ“ کمال طریقہ ہے۔یعنی فقیر کے ”ف“ سے فاقہ،”ق“ سے قناعت،”ی“ سے یاد الٰہی،”ر“ سے ریاضت مراد ہے۔
  3. طریقت میں ذوق و شوق اور کشف وکرامت کا طالب،اللہ تعالیٰ کا طالب نہیں بن سکتا۔
  4. جس طرح طلبِ حلال مومنوں پر فرض ہے اسی طرح ترک حلال عارفوں پر فرض ہے کیونکہ درویشوں کی فاقہ کی رات معراج کی رات ہوتی ہے۔
  5. فقیر کا مطلب دل کا مراد سے خالی ہونا ہے۔
  6. لوگوں کے عیبوں کو اچھی باتوں کی طرف پھیرو اور اپنی اچھی باتوں کو عیب کی طرف پھیرو یعنی دوسروں کے عیبوں پر نظر کرنے کی بجائے اپنے عیبوں کو دیکھو۔
  7. میرے نزدیک ہر شخص نیک ہے۔
  8. طالبان حق کو چاہیے کہ ایک لمحہ کے لیئے بھی حق سے غافل نہ ہوں۔
  9. جو شخص اللہ تعالیٰ سے دنیا طلب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے آخرت سے محروم رکھتا ہے۔
  10. ترک دنیا دل سے ہوتی ہے نہ اسباب کے ترک کر دینے سے۔
  11. طالب مولا کو ذات باری تعالیٰ کے سوا کسی سے محبت نہیں رکھنی چاہیئے۔
  12. سب سے بڑا کام شریعت پر استقامت رکھنا ہے۔
  13. روزانہ پچیس ہزار مرتبہ اسم ذات(اللہ) کا ذکر ضروری ہے کیونکہ اسم ذات کے ذکر سے جذبہ پیدا ہوتا ہے اور نفی اثبات کے ذکر سے سلوک طے ہوتا ہے۔
  14. طالب میں جتنی عاجزی ہو گی اسی قدر فیض زیادہ وارد ہوتا ہے۔
  15. سالک کو نظر نیچی رکھنی چاہئے۔
  16. زیادہ بولنا اور ہنسنا غفلت کا باعث ہے۔

وفاتترميم

آپ چورہ شریف میں صرف ڈیڑھ سال بقید حیات رہے اور13شعبان المعظم1286ھ/ 1869ء کو وصال فرما گئے۔آپ کی مرقد مبارک چورہ شریف میں ہے جہاں سالانہ ہزاروں لوگ حصول فیض کے لیئے آتے ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. سید بدر مسعود گیلانی، اثبات النسب فی نسب سید نور محمد گیلانی، ص: 34
  2. سید شاہ محمد گیلانی، وظائف نوریہ، ص:46، 47
  3. سورة البقرة، آیت: 05
  4. سورۃ البقرۃ، آیت: 255
  5. درود خضری کا متن یہ ہے: صَلَّى اللهُ عَلَىٰ حَبِيبِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمْ۔
  6. نبی کریم ﷺ وتر کے بعد ان ہی کلمات کو پڑھا کرتے تھے۔ حدیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَإِذَا سَلَّمَ يَقُولُ: سُبْحَانَ ‌الْمَلِكِ ‌الْقُدُّوسِ، ‌سُبْحَانَ ‌الْمَلِكِ ‌الْقُدُّوسِ. وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ۔ (مسند ابن الجعد، حدیث: 487، مسند احمد، حدیث: 15354)