وشنو گنیش پنگلے

ہندوستانی انقلابی اور اور غدر پارٹی ممبر

وشنو گنیش پنگلے (انگریزی: Vishnu Ganesh Pingle، ہندی= विष्णु गणेश पिंगले)، پیدائش: جنوری، 1888ء - وفات: 16 نومبر، 1915ء) ہندوستان کے مشہور انقلابی اور غدر پارٹی کے لیڈر تھے جن پر 1915ء میں لاہور سازش کیس مقدمہ چلایا گیا اور انھیں غدر سازش کے جرم میں کرتار سنگھ سرابھا اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔

وشنو گنیش پنگلے
(ہندی میں: विष्णु गणेश पिंगले ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1888ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پونے ،  مہاراشٹر ،  برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 نومبر 1915ء (26–27 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور ،  برطانوی پنجاب   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات پھانسی   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی یونیورسٹی آف واشنگٹن   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ انقلابی   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک تحریک آزادی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حالات زندگی

ترمیم

وشنو گنیش پنگلے جنوری، 1888ء کو موضع تالیگاؤں، ضلع پونہ، مہاراشٹر میں پیدا ہوئے۔ ریاستہائے متحدہ امریکا کی یونیورسٹی آف واشنگٹن سے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ مشہور زمانہ انقلابی جماعت غدر پارٹی کے رکن تھے۔ انھوں نے انگریزوں کے خلاف ہندوستانی فوج میں بغاوت میں حصہ لیا۔ مختلف فرضی ناموں سے سارے ہندوستان کا دورہ کیا، ہندوستانی سپاہیوں سے ملنے کے لیے مارچ 1915ء میں میرٹھ چھاؤنی گئے۔ 23 مارچ 1915ء کو گرفتار کر لیے گئے اور ان کے قبضہ سے پھٹنے والے بم بر آمد ہوئے۔ ان پر سپاہیوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے اور برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام لگایا گیا، پنگلے سمیت ان کے دیگر ساتھیوں پر ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ 1915ء کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ اس مقدمے کو لاہور سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ستمبر، 1915ء کو مقدمہ کا فیصلہ ہوا جس میں وشنو گنیش پنگلے، کرتار سنگھ سرابھا، سرونت سنگھ، سیوا سنگھ اور کرپال سنگھ سمیت بہت سے ساتھیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ ان میں سے 17 انقلابیوں کی سزائے موت قید کی سزا میں بدل دی گئی۔[1] بالآخر 16 نومبر، 1915ء کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پر لٹکا کر پھانسی دے دی گئی۔ یوں اپنے وطن کی آزادی کی خواہش اپنے دل میں لیے گنیش وشنو شہید ہو گئے۔[2] آدی ہند کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے صلے میں سینٹرل ممبئی میں واقع ایک سڑک کا نام وشنو گنیش پنگلے کے نام پر رکھا گیا ہے۔[3]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، چیف ایڈیٹر: ڈاکٹر پی این چوپڑہ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 1998ء، ص 112
  2. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، ص 113
  3. "Pincode of Vishnu Ganesh Pingle Marg Chinchpokli East_"۔ www.getpincode.info۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2019