پاکستان رینجرز ایک نیم فوجی ادارہ ہے، جس کا کام سرحدوں کی حفاظت اور جنگ و شورش زدہ علاقوں میں عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کا سربراہ میجر جنرل ہوتا ہے، جسے چیف آف آرمی سٹاف تعینات کرتے ہیں۔

پاکستان رینجرز
Pakistan Rangers
قیاماگست 14, 1947
ملکFlag of Pakistan.svg پاکستان
حجم100,000 فعال فوجی[1]
حصہپاکستان کے نیم فوجی دستے
صدر دفاتراسلام آباد، کراچی اور لاہور
نصب العینDaim's Sahir'n "ہمیشہ تیار"
رنگسرخ اور نیلا
        

پنجاب رینجرز کے موجودہ سربراہ میجر جنرل اظہر نوید حیات خان ہیں جبکہ سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل عمر بخاری ہیں۔

پاکستان رینجرز کو انتظامی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پنجاب رینجرز اور سندھ رینجرز جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان میں اسے فرنٹیئر کور کہا جاتا ہے۔

پنجاب رینجرز:

پنجاب رینجرز کا ہیڈکوارٹر لاہور میں ہے۔ پنجاب رینجرز کا کام بھارت کے ساتھ 1300 کلومیٹر لمبی سرحد ( لائن آف کنٹرول) کی حفاظت کرنا ہے۔ آج کل پنجاب رینجرز پاک فوج اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں سے مل کر دہشت گردوں کے خلاف صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائی کر رہی ہے۔[2]

سندھ رینجرز:

سندھ رینجرز کا ہیڈکوارٹر کراچی میں ہے۔ جو بھارت کے ساتھ 912کلومیٹر لمبی سرحد ( لائن آف کنٹرول) کی حفاظت کرنا ہے۔ آج کل کراچی میں ایم کیو ایم کی ترپائی کرنے اور شہر میں امن کی فضا قائم رکھنے میں سرگرم عمل ہے۔رینجرز کے اقدامات کی بدولت کراچی میں امن قائم ہوا ہے بدقسمتی سے رینجرز کی جانب سے گرفتار افراد کو عدلیہ سزا نہیں دیتی کراچی سینٹرل جیل میں گزشتہ پچاس سالوں کے سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض آٹھ سو کے قریب ہے

رینجرز کو کراچی میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کاروائی کے اختیارات حاصل ہیں

پاکستان سپر لیگ 2018 کے لاہور اور کراچی میں ہونے والے میچز میں پاک فوج کے ساتھ رینجرز کے جوانوں نے بھی سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیئے۔[3]

رینجرز کو رینجرز آرڈیننس 1959 کے تحت بنایا گیا ہے۔

تصاویرترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Pakistan Intelligence, security Activities and Operations Handbook, Int'l Business Publications, 2011 Edition, pp. 131, ISBN 0-7397-1194-6
  2. استشهاد فارغ (معاونت) 
  3. استشهاد فارغ (معاونت) 
  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔