پپراسر آبشار (انگریزی:Piprasar Waterfall) پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے تاریخی شہر واہی پاندھی کے قریب گورکھ ہل کے راستے کے مغرب میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں نلی یا نری نامی بارانی نالے یا نئے کے بہاء کے قریب تر ہے۔[1]

پپراسر آبشار

محل وقوعترميم

پپراسر آبشار پہاڑی سلسلے میں موجود میاں جو کوٹ کے شمال میں اور کاروکوٹ کے جنوب میں ہے۔اس کے مشرق اور مغرب میں پہاڑیاں ہیں۔

نام کا پس منظرترميم

یہ آبشار ایک حسین ترین تفریحی اور تاریخی جگہ پپرا سر والے پانی کے چشمے میں پڑتا ہے۔ پپرا سر سندھی زبان کا مرکب نام ہے۔ پپرا کا مطلب پیپل کا درخت ہے اور سر کا مطلب ہے جھیل۔ مکمل معنے ہوئی پیپل کے درخت والی جھیل یا چشمہ۔ یہاں نئے نلی کے بہاء میں قدرتی چشموں کا پانی کافی اوچائی سے آبشار کی صورت اختیار کرتا ہے اور وہ پانی چھوٹی سی جھیل یا کنب بناتا ہے۔اس کنب یا چشمے کے کناروں پر پیپل کے چھوٹے درخت ہیں۔ اس لیے اس پر نام پپراسر پڑا۔

تاریخترميم

تاریخی طور پپراسر کا ذکر کتاب کاچھو ہک ابھیاس اور سندھ ٹوئرزم این آرکیالوجیکل جرنی میں موجود ہے۔ اس سلسلے میں مقامی روایات بھی ہیں۔ مقامی روایات پپراسر کو غیر مسلم مذہب سے منسوب کرتی ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ اس کے قریب غیر مسلم لوگوں کی عبادت گاہ بھی تھی جو مسمار ہو گئی ہے۔ جب پیپل کے درخت پر غور کیا جائے گا تو تاریخی طور پر پیپل کے درخت اور پتے کو بدھ مت میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالنے سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔ پیپل کا درخت بدھ مت میں مقدس ہے۔ مہا آتما گوتم بدھ نے اپنے پنتھ یا مت کے پیغام کی شروعات پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ کر کی تھی۔ بدھ مت میں پیپل کے درخت کے پتے کو بھی تقدس حاصل ہے اور اسے مقدس سمجھا جاتا ہے۔ سندھ میں قدیم آثاروں میں سے جہاں بدھ مت کے اور آثار ملے ہیں وہاں مٹی کے برتنوں پر پیپل کے پتے کے نقش بھی ملے ہیں۔ تاریخی طور پر بھی معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں موریہ گھرانے کے اشوک اعظم کے دور سے بدھ مت مذہب رائج تھا۔ سندھ کی تاریخ پر پہلی دستاویزی یا تحریر کردہ کتاب چچ نامہ میں بدھیہ علاقے کا ذکر ہے اور بدھیہ کے اس علاقے سے پپرا سر کا سحر انگیز آبشار کوئی بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس علاقے کی آس پاس اور قریب تر پہاڑوں پر نقش نگاری میں بدھ مت کے اسٹوپا اور مقبرے (Buddhist Shrines) اور بدھ مت سے منسلک دوسری علامات بھی بہت زیادہ ملی ہیں۔ جن کا کتابوں "کاچھو ہک ابھیاس"، "سندھ ٹوئرازم این آرکیالوجیکل جرنی"، "اے گلمپس ان ٹہ ہسٹری آف سندھ" اور " انڈس اسکرپٹ ان اسٹونز" میں مفصل ذکر کیا ہے۔ اس تاریخی پسمنظر میں کہا جاتا ہے کہ پپرا سر کا مقام اور آبشار قدیم زمانے میں بدھ مت کی اہم جگہ رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس زمانے سے پپراسر نام رائج ہوا ہو۔[2][3]

حوالہ جاتترميم