پیشہ (profession) سے مراد ایک ایسے روزگارزندگی یعنی حِرفہ کی ہوتی ہے جس کو اختیار کرنے کے ليے مشق اور تعلیم کے ساتھ ساتھ خصوصی معلومات کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور عام طور پر اس کا واسطہ یا رابطہ کسی پیشہ ور ادارے سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ فنیہ یا پیشہ، کی اپنی اخلاقیات ہوتی ہے جس پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ پیشے کی تعلیم کی تکمیل کے بعد کوئی سند (certificate) عطا کی جاتی ہے جو یا تو ایک دانشنامہ ہو سکتا ہے یا کوئی درجہ (degree) بھی۔ اس سند کے ساتھ مشق یا تدریب کی مدت مکمل ہوجانے کے بعد ایک اجازہ (license) دیا جاتا ہے جو تعلیم مکمل کرنے والے (پیشہ ور / professional) کو اس شعبہ حیات میں ایک ماہر کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

تاریخی طور پر تین پیشے اپنی الگ شناخت رکھتے تھے ؛ وزارت، طب اور قانون۔ ان تینوں پیشوں کے اپنے دستور آداب تھے (ہیں) جن پر ان پیشوں میں داخل ہونے والوں کو اقرار نامہ یا حلف اٹھانا لازمی ہوتا ہے۔ اور اسی حلف برداری یا اعتراف نامہ اٹھانے یعنی professing کی وجہ سے ان کو profession کہا گیا۔ اس کے علاوہ ان تینوں میں ہی اعلی تعلیم، خصوصی معلومات، اخلاقیات کا معیار اور خدمت اہم ترین عناصر میں شمار ہوتے ہیں۔

اب تک کے بیان سے یہ بات واضع ہو چکی ہے کہ کسی شعبہ حیات کو پروفیشن اس وقت کہا جاتا ہے جب کم از کم اس میں مشق، تعلیم، خصوصی معلومات، حاصل کردہ سند اور حلف برداری جیسے عناصر شامل ہوں۔ جبکہ ایک پیشے کے ليے ان تمام عناصر کی ضرورت نہیں ہوا کرتی اور اگر کوئی صرف مشق کرکے اور سیکھ کر کوئی بھی روزگار حیات اختیار کرتا ہے تو ہم اس کو پیشہ ہی کہتے ہیں، اسی وجہ سے مضمون کی ابتدا میں اس بات کی وضاحت درج کردی گئی ہے۔

اکثر معاشریاتدانوں نے پیشہ وریت (professionalism) کو ایک قسم کی خود ساختہ امتیازیت (elitism) کہا ہے یا وہ اسے طائفہ کے خطوط پر استوار ایک خصوصی تنظیم سازی بھی کہتے ہیں۔ جارج برنارڈ شاہ کے پیشہ وریت کے بارے میں الفاظ یوں ہیں ؛ ترجمہ: عوام کے خلاف خیانت سازیاں۔

تاریخ

ترمیم

جیسا کہ اوپر ذکر آیا کہ تاریخی طور پر پیشے کی اصطلاح (profession کے معنوں میں) ؛ مذہبی علما، طبیبوں اور قانوندانوں تک محدود رہیں یا یوں کہ لیں کہ ان تین شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کی اجارہ داری رہی، پھر ساتھ ساتھ عسکری مسئُولوں (officers) کو بھی مساوی درجہ دیا جانے لگا (جنہیں آج کے جدید مہندس کے اجداد سمجھا جاتا ہے)۔

علم ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ساتھ 19ویں صدی تک دیگر شعبہ جات زندگی کے اختصاصات بھی وسعت اختیار چکے تھے اور پھر رفتہ رفتہ ان اختصاص کے حامل شعبوں نے بھی پیشہ وری کا درجہ حاصل کر لیا۔ آج تقریباًًًً ان تمام شعبہ روزگار کا کاروبار حیات کو فنیہ / profession کہا جاتا ہے کہ جو ابتدا میں بیان کردہ پیشے کی تعریف پر پورے اترتے ہوں۔

مثالیں

ترمیم

مزید دیکھیے

ترمیم

پیشوں کی فہرست