کدم راؤ پدم راؤ

اردو زبان کی پہلی مثنوی جسے فخرالدین نظامی نے 1425ء سے 1439ء کے وسطی زمانے میں تحریر کیا۔

کدم راؤ پدم راؤ اردو ادب کی قدیم ترین دریافت شدہ مثنوی ہے جسے دکنی اُردو کی دستیاب شدہ قدیم ترین منظوم ادب سمجھا جاتا ہے۔ اِس مثنوی کو فخرالدین نظامی نے لکھا تھا۔ اِس کی کہانی ہیرا نگر کا راجا کدم راؤ اور اس کا وزیر پدم راو (جو ایک ناگ ہے) پر مبنی ہے.

کدم راؤ پدم راؤ
مصنف فخر الدین نظامی  ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان دکنی،  اردو  ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادبی صنف شاعری  ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تاریخ ترمیم

کدم راؤ پدم راؤ اب تک کی دریافت و دستیاب شدہ اردو زبان کی پہلی اور قدیم ترین مثنوی ہے جو اردو زبان کے ایک قدیمی لہجے دکنی میں لکھی گئی ہے۔ اِس مثنوی کے تخلیق کار شاعر فخرالدین نظامی تھے جن کا تعلق بیدر سے تھا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحقیق کے مطابق فخرالدین نظامی نے یہ مثنوی بہمنی سلطنت کے مشہور فرمانرواء احمد شاہ بہمنی کے عہدِ حکومت یعنی 825ھ سے 839ھ یعنی 1421ء سے 1435ء میں لکھی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحقیق غالباً مثنوی کے متن سے قیاس کی گئی ہے۔[1][2]

متن کی زبان ترمیم

مثنوی چونکہ چھ سو سال قبل تحریر کی گئی تھی، اِسی لیے اِس کی زبان بھی قدیم ہے۔ فخرالدین نظامی نے مثنوی کا آغاز حمد سے کیا ہے اور اِس کے بعد نعت کہی ہے جس کے کل 22 اَبیات ہیں۔ فخرالدین نظامی کی زبان نہایت کٹھن اور مغلق ہے۔ اِس میں سنسکرت زبان کے تَت سَم اور تَدبَھو جیسے الفاظ کی کثرت نظر آتی ہے۔ نعتیہ اَشعار میں بھی وہ عربی زبان یا فارسی زبان کے القاب یا خطاب جیسے الفاظ اِستعمال نہیں کرتا اور اِن کی بجائے سنسکرت زبان کے ہی الفاظ استعمال کیے ہیں جیسے کہ ’’سرورِ عالم‘‘ کے لیے راو کساتیں (بمعنی آقا) یا راوت (بمعنی شہنشاہ)۔

مزید دیکھیے ترمیم

حوالہ جات ترمیم

  1. ڈاکٹر نسیم الدین فریس: مضمون: دکنی مثنویوں میں نعت، مجلہ نعت رنگ، شمارہ 26۔ مطبوعہ کراچی۔
  2. مسعود حسین خان: محمد قلی قطب شاہ، جلد 216، صفحہ 55۔ مطبوعہ ساہتیہ اکادمی، دہلی۔