کساد عظیم (انگریزی زبان: The Great Depression) دوسری جنگ عظیم سے قبل کی دہائی میں ایک عالمی اقتصادی بحران تھا۔ مختلف ممالک میں یہ مختلف ادوار میں رہا، لیکن بیشتر ممالک میں یہ بحران 1929ء سے لے کر 1930ء کی دہائی کے اواخر یا 1940ء کی دہائی کے اوائل تک رہا۔ یہ 20 ویں صدی کا سب سے بڑا، سب سے بڑے علاقے پر محیط اور سب سے گہرا بحران تھا اور آج 21 ویں صدی میں بھی عالمی معیشت کے زوال کے حوالے سے اس بحران کی مثال دی جاتی ہے۔ بحران کا آغاز ریاستہائے متحدہ امریکا میں 29 اکتوبر 1929ء کو بازار حصص کے ٹوٹنے سے ہوا تھا (جسے سیاہ منگل کہا جاتا ہے)، لیکن انتہائی تیزی سے یہ بحران دنیا کے ہر ملک تک پھیل گیا۔

ڈوروتھیا لینگ کی مشہور تصویر "مہاجر ماں" جو کیلیفورنیا کے مفلس کسانوں کی حالت کی عکاس ہے، تصویر کے وسط میں 32 سالہ فلورنس اونز تھامسن ہیں، جو سات بچوں کی ماں تھیں۔ مارچ 1936ء
1929 کے گریٹ ڈپریشن کے دوران وال اسٹریٹ پر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کے باہر لوگ جمع ہیں۔

کساد عظیم نے دنیا کے تقریباً ہر ملک، غریب و امیر دونوں، پر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ ذاتی آمدنی، محصول کی آمدنی، نفع و قیمتوں میں کمی اور بین الاقوامی تجارت نصف سے دو تہائی رہ گئی۔ امریکا میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد ہو گئی اور چند ممالک میں تو یہ شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی۔ دنیا بھر کے شہر بہت زیادہ متاثر ہوئے، خصوصاً وہ جو بھاری صنعت پر انحصار کرتے تھے۔ کئی ممالک میں تعمیرات کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ فصلوں کی قیمتیں تقریباً 60 فیصد تک گرنے کی وجہ سے کھیتی باڑی اور دیہی علاقے بھی متاثر ہوئے۔

اس بحران کے بعد 1930ء کی دہائی کے وسط سے صورت حال بہتر ہونا شروع ہوئی، لیکن کئی ممالک میں کساد عظیم کے اثرات نے دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک معیشت کو جکڑے رکھا۔
چین پر کساد عظیم کا کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ اس وقت تک وہ ہارڈ کرنسی (چاندی کے سکوں) پر ہی قائم تھا۔ گریٹ ڈپریشن سے ان ملکوں میں زیادہ تباہ کن اثرات ہوئے جہاں کاغذی کرنسی بڑی حد تک استعمال ہونے لگی تھی۔

اس عظیم کساد بازاری کی اصل وجہ فیڈرل ریزرو تھا جیسا کہ اس کے گورنر نے اعتراف کیا

I would like to say to Milton and Anna: Regarding the Great Depression. You're right, we did it. We're very sorry. But thanks to you, we won't do it again.[1]

امریکی جی ڈی پی

ترمیم
سال عیسوی امریکی جی ڈی پی میں اضافہ[2] سال کا اہم واقعہ
1930 -8.5% برطانیہ نے ہندوستان میں سونے کا نرخ بڑھا دیا اور کاغذی کرنسی کے بدلے ہندوستان کا سونا خریدنا شروع کر دیا
1931 -6.4% اگلے دس سالوں میں برطانیہ نے کاغذی کرنسی ادا کر کے ہندوستان کا 1337 ٹن سونا ہتھیا لیا
1932 -12.9%
1933 -1.3% امریکا نے گولڈ اسٹینڈرڈ ترک کر دیا اور اپنے عوام کا سونا ضبط کر لیا۔ بینکوں کو سٹے بازی سے روکنے کے لیے Glass-Steagall Act بنایا۔
1934 10.8% امریکا نے سلور پرچیز ایکٹ بنا کر دنیا بھر کی چاندی کاغذ چھاپ چھاپ کر خریدنا شروع کر دی
1935 8.9% چین کو سلور اسٹینڈرڈ ترک کرنے اور کاغذی کرنسی اپنانے پر مجبور کر دیا گیا
1936 12.9%
1937 5.1%
1938 -3.3%
1939 8.0% امریکی حکومت نے چاندی کی قیمت کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پہلی ستمبر 1939ء کو دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔

امریکی سونے کی مقدار

ترمیم

سونا خوش حالی کی علامت ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گریٹ ڈپریشن کے دوران جب عوام بھوکوں مر رہے تھے، بینکاروں کے سونے میں کم و بیش مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ فروری 1934ء میں سونے کی سرکاری قیمت 20.67 سے لگ بھگ 70 فیصد بڑھا کر 35 ڈالر فی اونس کر دی گئی تھی۔

Historical US Gold Reserve
سال سونے کی مالیت،

دس لاکھ ڈالر میں[3][4]

سونے کی سرکاری قیمت

ڈالر فی اونس

سونے کی مقدار

میٹرک ٹن میں

جنوری 1931 $4,356 20.67 6555
جنوری 1932 $4,129 20.67 6213
جنوری 1933 $4,265 20.67 6418
جنوری 1934 $4,033 20.67 6069
فروری 1934 $7,438 35 6610
جنوری 1935 $8,391 35 7457
جنوری 1936 $10,182 35 9049
جنوری 1937 $11,538 35 10254
جنوری 1938 $12,756 35 11336
جنوری 1939 $14,682 35 13048
جنوری 1940 $17,931 35 15935

ماہر معاشیات کی پیشنگوئی

ترمیم
  • جان مینارڈ کینز جو اپنے وقت کا بہت بڑا ماہر معاشیات سمجھا جاتا تھا اور جس نے بریٹن اووڈز کے معاہدے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، نے 1927 میں پیشنگوئی کی تھی کہ اب اسٹاک مارکیٹ میں کوئی بڑا کریش نہیں ہو گا۔
"We will not have any more crashes in our time."[5]
  • ایک امریکی ماہر معاشیات نے بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ اب کوئی اسٹاک مارکیٹ کریش نہیں ہو گا۔
“Stocks are now at a permanently high plateau” – Dr. Irving Fisher, 1929[6]
  • ایک دوسرے ماہر معاشیات فریڈرک ہائیک کو اسٹاک مارکیٹ کریش سے صرف چند مہینے پہلے Kreditanstalt Bank میں نہایت اعلیٰ ملازمت کی پیشکش ہوئی مگر اس نے یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ میں آنے والے کریش میں ملوث نہیں ہونا چاہتا۔ بعد میں اسے نوبل انعام دیا گیا۔[7]

میک فیڈن کا تبصرہ

ترمیم

کانگریس کے رکن میک فیڈن جو کرنسی کمیٹی کا چیئرمین بھی تھا، نے 1929 کے گریٹ ڈپریشن کے بارے میں کہا تھا کہ "یہ کریش ایک حادثہ نہیں تھا۔ یہ ایک سازش کا نتیجہ تھا۔ بین الاقوامی بینکار مایوسی کی ایک ایسی فضا پیدا کرنا چاہتے تھے جس کے نتیجے میں وہ ہمارے حکمران بن کر اُبھریں" [8] اس کے بعد بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کا قیام عمل میں آیا جو پس پردہ دنیا پر حکمرانی کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے کئی ملکوں پر قبضہ کر لیا مگر سوئیزرلینڈ پر حملے کی جرات نہ کر سکا حالانکہ سوئیزرلینڈ کی کوئی فوج بھی نہیں ہے۔

 
پچھلے سو سالوں میں امیر ترین اور عام لوگوں کی آمدنیوں کا فرق۔ گریٹ ڈپریشن کے دوران جب عام لوگوں کی آمدنی کم ترین سطح پر تھی اس وقت امیر ترین لوگوں کی آمدنی بلند ترین سطح پر تھی۔

ہندوستان پر اثرات

ترمیم
 
ویلنگڈن جو گریٹ ڈپریشن کے زمانے میں ہندوستان کا وائسرائے تھا۔
"جو سونا ہندوستان لندن بھیج رہا تھا وہ کرب و افلاس کا نتیجہ تھا۔ لوگ زیور بیچ کر روٹی کپڑے خریدتے تھے اور ٹیکس ادا کرتے تھے۔"
Much of the gold that India was exporting was “distress” gold, that is, gold which the people had sold to buy food and clothing and to pay Government dues.

یکم اکتوبر 1931 سے دسمبر 1932 تک 8 کروڑ پاونڈ کی مالیت کا سونا ہندوستان سے لندن بھیجا گیا۔

From October 1, 1931, to December 1932 gold exports amounted to Rs. 107.08 crores or £ 80.125 million.[9]

وائس رائے لارڈ ویلنگڈن نے خوشی کا اظہار کیا تھا کہ تاریخ میں پہلی دفعہ معاشی حالات کی وجہ سے ہندوستانی اپنا سونا اُگل رہے ہیں۔ ہم نے پچھلے دو تین مہینوں میں ڈھائی کروڑ پاونڈ کا سونا لندن بھیجا اور مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

For the first time in history, owing to the economic situation, Indians are disgorging gold. We have sent to London in the past two or three months, 25,000,000 sterling and I hope that the process will continue.[10]

The Viceroy, Lord Willingdon remarked

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 1932 سے مارچ 1941 تک ہندوستان کی برطانوی حکومت نے 1337.5 ٹن سونا برطانیہ بھیجا جس کی اُس وقت مالیت 375 کروڑ روپے تھی۔ اُس وقت اس سونے کی اوسط قیمت 33 روپے فی تولہ سے بھی کم تھی۔ اس سونے سے بینک آف انگلینڈ کو سونے کا ذخیرہ بنانے میں بڑی مدد ملی۔[11] اگر آج کے سونے کے نرخ سے دیکھا جائے تو یہ 50 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا سونا تھا۔

"However, the price of gold in India, on the basis of the exchange rate of the rupee around 1S.6d., was lower than the price prevailing abroad practically throughout; the disparity in prices made the export of the metal profitable, which phenomenon continued for almost a decade. Thus, in 1931-32, there were net exports of 7.7 million ounces, valued at Rs. 57.98 crores. In the following year, both the quantity and the price rose further, net exports totaling 8.4 million ounces, valued at Rs.65.52 crores. In the ten years ended March 1941, total net exports were of the order of 43 million ounces (1337.3 Tons) valued at about Rs. 375 crores, or an average price of Rs. 32-12-4 per tola."

فیڈ چیرمین ایلن گرین اسپان کا اعتراف

ترمیم

اپنی کتاب Gold and Economic Freedom میں امریکی فیڈرل ریزرو کے چیرمین ایلن گرین اسپان نے 1967ء میں لکھا کہ

"(بہت زیادہ کاغذی کرنسی چھاپ کر) فیڈ کامیاب ہو گیا کیونکہ اس نے (برطانیہ سے امریکا کی طرف) سونے کے بہاو کو روک دیا مگر اس کاروائ میں اس نے دنیا بھر کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ بہت زیادہ کرنسی مارکیٹ میں چھوڑنے پر اسٹاک مارکیٹ میں سٹہ بازی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ اس کے بعد فیڈ نے جب رقم دینا بند کری تو سٹہ بازی تو قابو میں آ گئی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ 1929 تک اسٹاک کا بلبلہ بہت پھول چکا تھا اور اچانک رقم کی فراہمی بند ہونے سے بزنس پر اعتماد ختم ہونے لگا۔ اس کے نتیجے میں امریکی معیشت بیٹھ گئی۔ برطانیہ کو زیادہ نقصان ہوا۔ برطانیہ نے اپنی پرانی غلطی (یعنی شرح سود کم نہ کرنے) کی تلافی کرنے کی بجائے 1931ء میں گولڈ اسٹینڈرڈ بالکل ترک کر دیا۔ اعتماد کا نازک پارچہ پھٹ گیا اور دنیا بھر کے بینک فیل ہونے لگے۔ اس طرح عالمی معیشت 1930ء کی دہائی کے کساد عظیم کا شکار ہو گئی۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ 1913ء سے ہم گولڈ اسٹینڈرڈ پر نہیں تھے بلکہ ایک "مِلے جُلے گولڈ اسٹینڈرڈ" پر تھے۔ لیکن پھر بھی گولڈ کو بدنام کیا گیا "
The "Fed" succeeded; it stopped the gold loss, but it nearly destroyed the economies of the world in the process. The excess credit which the Fed pumped into the economy spilled over into the stock market -- triggering a fantastic speculative boom. Belatedly, Federal Reserve officials attempted to sop up the excess reserves and finally succeeded in braking the boom. But it was too late: by 1929 the speculative imbalances had become so overwhelming that the attempt precipitated a sharp retrenching and a consequent demoralizing of business confidence. As a result, the American economy collapsed. Great Britain fared even worse, and rather than absorb the full consequences of her previous folly, she abandoned the gold standard completely in 1931, tearing asunder what remained of the fabric of confidence and inducing a world-wide series of bank failures. The world economies plunged into the Great Depression of the 1930's....(The irony was that since 1913, we had been, not on a gold standard, but on what may be termed "a mixed gold standard"; yet it is gold that took the blame.)[12]

فیڈ چیرمین بن برنانکے کا اعتراف

ترمیم

"بینکنگ نظام کو "بحال" کرنے کے لیے ان چھوٹے بینکوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری تھا جو فیڈرل ریزرو کے ارکان بھی نہیں تھے۔ اس موقعے پر فیڈرل ریزرو نے ان چھوٹے بینکوں کی کوئی مدد نہیں کی۔ دوسرے بڑے بینک بھی مسابقت سے بچنے کے لیے ان چھوٹے بینکوں سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔"

that weeding out “weak” banks was a harsh but necessary prerequisite to the recovery of the banking system. Moreover, most of the failing banks were small banks (as opposed to what we would now call money-center banks) and not members of the Federal Reserve System. Thus the Fed saw no particular need to try to stem the panics. At the same time, the large banks – which would have intervened before the founding of the Fed – felt that protecting their smaller brethren was no longer their responsibility. Indeed, since the large banks felt confident that the Fed would protect them if necessary, the weeding out of small competitors was a positive good, from their point of view. – Ben Bernanke[13]

اقتباس

ترمیم
  • انفلیشن کی کزن سٹہ بازی ہے۔[14]
  • کئی صدیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر بڑا بحران گلوبلسٹ کو نیا عالمی نظام نافذ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
The onset of crises have been shown over the centuries to be an opening for globalists to advance their goals for a ‘new world order‘.[15]
  • گریٹ ڈپریشن کے بعد عام آدمی مارکیٹ (میں سرمایہ کاری کرنے) سے ڈرنے لگا۔ اور ہربرٹ ہوور اور فرینکلن ڈی روزویلٹ کی حکومتیں اس بات کا فائیدہ اٹھانے کے لیے بےتاب تھیں۔ اس موقع پر سارا الزام سونے پر ڈال کر گولڈ اسٹینڈرڈ کو ترک کر دیا گیا۔
After the Great Crash, the man in the street feared the market, and the governments of Herbert Hoover and Franklin D. Roosevelt were eager to oblige. Gold, by then, had been corrupted enough to take the fall.[16]
  • اس طرح گریٹ ڈپریشن کا آغاز ہوا جس کے بہانے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے سونے چاندی کے سکوں پر مشتمل دھاتی کرنسی ختم کر کے بینکوں کی جاری کردہ کاغذی کرنسی کا نظام نافذ کیا۔
That led to the Great Depression, which President Franklin Roosevelt used as the excuse for converting America’s gold-coin, silver-coin system to one based on irredeemable Federal Reserve paper notes.[17]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. Remarks by FED Governor Ben S. Bernanke
  2. Why The Markets Are Overdue For A Gigantic Bust
  3. Depression, gold standard
  4. FED St. Louis
  5. Quotes and Political "Spin" of a Different Era[مردہ ربط]
  6. Make Stock Buybacks Illegal?
  7. Wall Street Crash of 1929
  8. "capitalist terrorism"۔ 19 ستمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 اکتوبر 2015 
  9. finance and commerce - Shodhganga
  10. [1]
  11. "pdf:ریزرو بینک آف انڈیا کی یاد داشت" (PDF)۔ rbidocs.rbi.org.in 
  12. "Gold and Economic Freedom by Alan Greenspan 1967"۔ 26 اپریل 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اپریل 2017 
  13. “Blessed are the young, for they shall inherit the national debt.” – President Herbert Hoover
  14. Former Fed Chair Slams Fed's "Dangerous, False Precision" Over 2% Inflation Target
  15. Sweden's Central Bank Governor Lays Out Digital Currency Vision
  16. They Want to Scare You with Myths of “Unhampered Capitalism”
  17. End The Fed!