گیندا لال ڈکشٹ

ہندوستانی انقلابی

گیندا لال ڈکشٹ (انگریزی: Genda Lal Dixit، ہندی= गेंदालाल दीक्षित)، (پیدائش: 20 نومبر، 1888ء - وفات: 30 مارچ، 1930ء) ہندوستان کے انقلابی اور اسکول ٹیچر تھے۔ وہ تحریک آزادی ہند کے ان انقلابی کارکنان میں شامل تھے جنہوں نے اپنی سرگرمیوں سے برطانوی راج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ 1918ء میں مین پوری سازش کے جرم میں انہیں گرفتار کیا گیا اور مختلف جیلوں میں قید رہے۔ وہ مشہور انقلابی رام پرساد بسمل کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔

گیندا لال ڈکشٹ
معلومات شخصیت
پیدائش 30 نومبر 1888  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مین پوری ضلع،  اتر پردیش  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 دسمبر 1920 (32 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حالات زندگیترميم

گیندا لال ڈکشٹ 20 نومبر، 1888ء کو موضع ٹبیسر، ضلع مین پوری، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ پیشے کے اعتبار سے اوریا کے ڈی اے وی اسکول میں استاد تھے۔ معلمی کے زمانہ میں ہی آریہ سماج اور محب وطن سیاسی کارکنوں سے متاثر ہو کر انہوں نے برطانوی حکومت سے ملک کو آزاد کرانے کے لیے شیواجی سوسائٹی کی تنظیم کی۔۔ دریائے چمبل اور دریائے جمنا کے بیچ کے علاقے میں دھاوا مارنے والے ڈاکؤں کے گروہ سے تعلق قائم کیا اور انہیں ملک کی آزادی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔ انقلابی سرگرمیوں کے لیے ان کی تنظیم کی اور سرکاری خزانوں اور دوسرے سرکاری مقامات پر حملوں کامنصوبہ بنایا۔ اپنے اصل مقصد سے حکومت کی توجہ ہٹانے کے لیے گوالیار کے ایک گاؤں پر حملے کی قیادت کی۔ ایک پولیس مخبر نے ان کا راز فاش کر دیا۔ پوری پارٹی کو گھیر لیا گیا اور اس کے 35 کارکنان پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ باقی اراکین کو پکڑ لیا گیا جن میں گیندا لال بھی شامل تھے اور گوالیار، قلعہ آگرہ اور مین پوری کی جیلوں میں قید رہے۔ ان کی قائم کردہ ماتری دیدی انقلابی جماعت کے ممبروں نے ان کے چھڑانے کے لیے ایک ناکام کوشش کی۔ جیل میں وحشیانہ تشدد کے سبب سخت بیمار پڑ گئے اور بعد میں تپ دق ککا شکار ہو گئے۔ پولیس حکام کو ان کا مخبر بن جانے کی پیش کش کر کے دھوکا دیا اور جرات مندانہ طور پر بچ نکلنے کے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ کیہ مہینوں تک روپوش رہے۔ ان کے خاندان کے افراد کو پولیس نے دہشت زدہ کر کے تکلیفیں پہنچائیں مگر انہوں نے ہار نہیں مانی۔ خفیہ طریقے سے دہلی پہنچے اور ایک پیاؤ پر پانی پلانے والے نوکر کی حیثیت سے خدمت انجام دی۔[1] ان کی بیوی اور چھوٹا بھائی جب دہلی جا کر ان سے ملے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ پیچش کے مرض میں شدت سے مبتلا ہیں۔ پولیس کے پہچان لینے کے خوف کی بنا پر طبی امداد نہ ملنے سے ان کی حالت نازک ہو گئی۔ انہیں دہلی کے ارون ہسپتال لے جایا گیا اور فرضی نام سے داخلہ لیا۔ ایک نامعلوم آدمی کی حیثیت سے 21 دسمبر 1920ء کو انتقال کر گئے۔ ان کی لاوارث لاش لے گئی اور بعد میں انہیں شناخت کر لیا گیا۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. شہیدانِ آزادی (جلد دوم)، چیف ایڈیٹر: ڈاکٹر پی این چوپڑہ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 1998ء، ص 206
  2. شہیدانِ آزادی (جلد دوم)، ص 207