ہسپانیہ میں اسلام

ہسپانیہ مین مسلم حکومت کب تھی

تاریخی پس منظرترميم

ہسپانیہ میں حکومت کھوجانے کے بعد ۱۴۹۲ء میں اکثر مسلمانوں کو ملک سے نکال دیا گیا تھا۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ مسلمانوں کی ایک محدود آبادی سطح پر کاتھولک مذہب اختیار کر گئی تھی تاہم نجی سطح پر اسلام پر عمل پیرا تھی۔ مگر غالبًا یہ رجحان گزرتے وقت سے ساتھ ختم ہو گیا اور یہاں کی مسلم آبادی ۱۹۶۰ء کے دہے کے بعد ہی یہاں آکر بسی ہے۔

موجودہ مسلم آبادیترميم

ہسپانیہ میں اس وقت ۵۰۰۰۰۰ مسلمان آباد ہیں جن میں سے اکثر یہاں پر مراکش سے آکر بسے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں لوگ شام، اردن، لبنان، فلسطین اور ایران سے آکر بسے ہیں۔ ہسپانوی نژاد نومسلمین کی تعداد ۶۰۰۰ ہے۔

مساجدترميم

ہسپانیہ میں ۱۲ باضابطہ مساجد ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سو مقامات ہیں جنہیں باقاعدگی سے نمازوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم